133

آخری دو ہفتے

خیبر پختونخوا کیلئے مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے‘ ایسا ہونے کی امید تھی اصلاحات کی گنجائش بھی بدرجہ اتم موجود تھی لیکن اس عرصے میں صوبائی حکومت بنانے کا موقع اور بار بار ملنے والی مہلت سے خاطرخواہ فائدہ نہیں اُٹھایا جا سکا یہی وجہ ہے کہ عرصہ پانچ سال اختتام کے قریب پہنچنے پر کسی ایک بھی حکومتی ادارے کی کارکردگی بطور مثال پیش نہیں کی جاسکتی جہاں بلاامتیاز و مصلحت احتساب کیا گیا ہو۔ جہاں مردم آزار مالی و انتظامی بدعنوانیوں میں ملوث معلوم کردار آج بھی تخت نشین ہیں کہ جنکے اثاثہ جات اور مالی حیثیت انکی آمدنی سے کئی گنا زیادہ ہے کو ایسے افراد کو نشان عبرت بنایا جا سکتا تھا! اور تواور خیبرپختونخوا یہ بات بھی شاید کبھی نہیں بھولے گا کہ تبدیلی کے سبز باغ دکھانے والوں نے کس طرح اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے سامنے ہارمان لی کاش تحریک انصاف میں چیئرمین عمران خان کی طرح کوئی دوسرا بھی ہوتا!شعبہ تعلیم کی بہتری کے لئے ایمرجنسی کا نفاذ خیبرپختونخوا کا پہلا ایسا اقدام تھا جسے ہر سطح پر سراہا گیا۔ صوبائی حکومت نے ماضی کے حکمرانوں سے کئی سو گنا زیادہ مالی وسائل شعبہ تعلیم کیلئے مختص کئے لیکن آج بھی خیبرپختونخوا میں ایسے درجنوں نہیں سینکڑوں بھی نہیں بلکہ ہزاروں سرکاری سکول ہیں ۔

جہاں فرنیچر‘ پینے کا صاف پانی‘ بجلی‘ بیت الخلاء اور چاردیواری میسر نہیں! خیبرپختونخوا کے محکمہ برائے بنیادی و ثانوی تعلیم نے مالی سال 2013ء سے 2018ء تک مجموعی طور پر 36 ارب روپے سے زیادہ سرکاری سکولوں کی حالت بہتر بنانے‘ اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے‘ محکمانہ ترقیوں کو کارکردگی سے مشروط کرنے‘ اساتذہ کی کمی دور کرنے‘ تدریسی عملے کی تربیت اور نصاب کو جدید خطوط و علوم کے مطابق ڈھالنے جیسے شعبوں پر خرچ کئے لیکن حاصل یہی رہا کہ نجی سکولوں پر خیبرپختونخوا کا انحصار کم ہونے کی بجائے بڑھا ہے۔ یہ بات اگر حقیقت نہ ہوتی تو تعلیم میں سرمایہ کاری اور اندھا دھند منافع کی لالچ رکھنے والے فیسوں میں یوں من مانے اضافے کے ذریعے حکومت اور عام آدمی کو بلیک میل نہ کیا جاتا۔ نجی تعلیمی ادارے عدالتی فیصلوں کا کس قدر احترام کرتے ہیں اور افرادی وسائل کا کس طرح سے استحصال کیا جا رہا ہے اسکی مذمت اور حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرنے کی قطعی ضرورت ہی نہ پڑتی لیکن اگر تبدیلی سطحی نہ ہوتی‘خیبرپختونخوا حکومت نے اگرچہ نجی تعلیمی اداروں پر نگرانی کا قانون منظور کیا‘ جس کے تحت ریگولیٹری اتھارٹی بھی قائم ہوئی لیکن یہ کاروائی اسوقت ہوئی جب حکومت کی آئینی مدت اختتام پذیر ہونے جا رہی ہے اور الٹی گنتی کے اس ماحول میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کہ صوبائی حکومت عوامی مفاد میں کسی بھی نجی تعلیمی ادارے سے مرعوب نہیں ہوگی خاطرخواہ اثرپذیری نہ کرسکی جبکہ حقیقت کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت کے پانچ سال میں کانفلیکٹ آف انٹرسٹ کا قانون منظور نہ ہو سکا جسکے تحت کوئی ایسا شخص فیصلہ سازی کے منصب پر فائز نہیں ہوگا جسکا اپنا ذاتی خاندانی یا کاروباری مفاد اسی کے ماتحت محکمے یا وزارت سے جڑا ہو۔

طویل فہرست ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کا حصہ اور اسمبلی اراکین کی ایک بڑی تعداد نجی سکولوں کی مالک یا شراکت دار ہے!حقائق کی تلخی کا الفاظ میں بیان ممکن نہیں‘خیبرپختونخوا میں بنیادی و ثانوی تعلیم کی موجودہ صورتحال اور پانچ سالہ کارکردگی کا احوال انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ برائے سال 2017-18ء‘ سے اخذ کی جاسکتی ہے‘ جس کے مطابق خیبرپختونخوا میں 27 ہزار 350 سکول فعال ہیں اور ان میں 7 ہزار 182 ایسے سکول ہیں جہاں شروع دن سے بجلی فراہم نہیں ہوسکی‘آئی ایم یو موجودہ صوبائی حکومت کا قائم کردہ ادارہ ہے جس کی رپورٹیں اسکی ویب سائٹ اور صوبائی حکومت کی پورٹیل سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کل 21 ہزار 33 پرائمری سکول ہیں ‘ان میں سے 6 ہزار 388 لڑکوں اور 1 ہزار 983 لڑکیوں کے سکولوں میں بجلی نہیں‘ طلباء و طالبات گرمی میں بناء پنکھے کس طرح تعلیم حاصل کرتے ہوں گے‘ یہ صرف وہی بتا سکتے ہیں‘ جو اس حالت سے گزر رہے ہیں۔ کیا یہ باعث شرمندگی نہیں کہ پرائمری سکولوں کی طرح صوبے کے 5 ہزار 538 سیکنڈری سکولوں میں سے 794 لڑکوں اور لڑکیوں کے سکول بناء بجلی کے ہیں!چلیں بجلی نہ بھی ہوتوکام چل جائیگا لیکن خیبر پختونخوا میں 2 ہزار203 لڑکوں اور346 لڑکیوں کے ایسے سکول بھی پائے جاتے ہیں جن کی چاردیواریاں نہیں! لیکن بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ 5 ہزار 47سکولوں میں پینے کا پانی اگر میسر نہیں جن میں 1 ہزار 298 لڑکیوں کے سکول ہیں جبکہ 1854 لڑکوں اور 375 لڑکیوں کے سکولوں میں بیت الخلاء نہیں تو کوئی فیصلہ ساز بتانا یا سوچنا پسند کریگا کہ بچے بچیاں اور تدریسی عملہ رفع حاجت کے لئے کہاں جاتا ہوگا؟!بلاشک و شبہ خیبرپختونخوا حکومت کو اعزاز حاصل ہے اس نے 5 ہزار 773 سرکاری سکولوں کو شمسی توانائی کے ذریعے منور کیا۔

سولہ ہزار سے زائد سکولوں کی چاردیواریاں تعمیر کیں اور سرکاری سکولوں میں 14 ہزار 158 کلاس رومز کا اضافہ کیا۔ پندرہ لاکھ بچے بچیاں جو کبھی زمین پر بیٹھ کر علم حاصل کرتے تھے‘ اب فرنیچر استعمال کر رہے ہیں‘پندرہ ہزار سے زائد سرکاری سکولوں کو پینے کا پانی اور ٹائلٹ دے دیا گیا ہے جبکہ دس ہزار سکولوں میں کھیل کود کی سہولیات فراہم کر دی گئیں ہیں لیکن اگر قریب پانچ سال بعد بھی خیبرپختونخوا کے ہزاروں سرکاری سکول پانی‘ بجلی‘ بیت الخلاء اور چاردیواری جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں تو معیار تعلیم کا تصور کرنا مشکل نہیں۔ تحریک انصاف کی مرکزی اور صوبائی قیادت بھلے ہی تسلیم نہ کرے لیکن تعلیم کے شعبے میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے باوجود بھی سرکاری تعلیمی اداروں کو بہتر نہیں بنایا جا سکا۔ یہ تو بھلا ہو سپریم کورٹ کا جس نے سرکاری وسائل سے سیاسی رہنماؤں کی تصاویر والی تشہیری مہمات پر پابندی عائد کر رکھی ہے ورنہ عام انتخابات سے چند ماہ قبل اربوں روپے نمود و نمائش کی نذر ہو جاتے جن کی بچت کو سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے بروئے کار لایا جا سکتا ہے خیبرپختونخوا حکومت آخری دو ہفتوں میں وہ سب کچھ کر سکتی ہے‘ جو کسی وجہ سے باقی ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اب بھی ممکن ہے۔ ’’مرتبہ واجب کا سمجھے‘ آدمی ممکن نہیں ۔۔۔ فہم سودائی ہوا یاں‘ عقل دیوانی ہوئی (میر تقی میرؔ )۔‘‘