139

اچھے دنوں کی تلاش

ماہ صیام شروع ہوچکا اس مہینے میں سیاسی میدان میں سکوت کا عالم ہوتا ہے اگر کوئی سیاسی سرگرمی نظر آئے بھی تو وہ افطار پارٹی تک ہی محدود ہوتی ہے جس کے ذریعے سیاسی لوگ اپنا تندور گرم رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں نہ وطن عزیز امریکہ ہے اور نہ برطانیہ اور نہ ہی کوئی اور یورپی ملک جہاں پارلیمانی جمہوریت کا چلن عام ہو اور جہاں دو یا معدودے چند سیاسی پارٹیاں میدان عمل میں موجود ہوں اپنے ہاں تو ماشاء اللہ درجنوں کے حساب سے سیاسی پارٹیاں سرگرم ہیں اور سینکڑوں کے قریب سیاستدان‘ لوگوں کو بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملتی ہیں ان پر طرہ یہ کہ کئی سیاستدان آزاد امیدواروں کی حیثیت سے بھی سیاسی اکھاڑے میں اترتے ہیں یہ بات ہماری سمجھ سے بالا تر ہے کہ آزاد امیدواروں کی حیثیت سے چند لوگ اگر اسمبلیوں کے رکن بن بھی جائیں تو آخر وہ کونسا آسمان گرا دیں گے سوا اس کے کہ ان کو سیاسی بلیک میلنگ کاموقع مل جاتاہے اور وہ ذاتی فائدے حاصل کرنے کیلئے اسمبلی میں اس سیاسی پارٹی کے حق میں ووٹ ڈالتے ہیں کہ جو ان کا زیادہ سے زیادہ دام لگا سکے دکھ کی بات یہ ہے کہ عام انتخابات سر پر ہیں کئی سیاسی پارٹیوں نے تو ابھی تک قوم کو بتایا ہی نہیں کہ اس کے مسائل کیا کیا ہیں اور ان کے پاس انکے حل کیلئے کیا پروگرام ہے کونسی گیدڑ سنگھی ہے کونسا الہ دین کا چراغ ہے کہ جس سے وہ انہیں اپنے اقتدار کے دوران حل کر سکیں؟

نئے عمرانی معاہدے کی توسب بات کرتے ہیں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا ذکر سب کرتے ہیں لیکن جو کام اس ضمن میں تھوڑا بہت ماضی میں بعض برسر اقتدار سیاسی جماعتوں نے کیا بھی ہے تو وہ بھی نیم دلانہ اور بھونڈے انداز میں کیا ہے جس سے آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والی صورتحال کا عوام کو سامنا کرناپڑا ہے یہ جو ملک میں جگہ جگہ نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے یہ مطالبہ کبھی بھی لوگ نہ کرتے اگر ملک میں صحیح معنوں میں اختیارات کو مقامی سطح یعنی یونین کونسل یا ضلعی سطح پر منتقل کر دیا جاتا اور ان کے کاموں میں ایم پی ایز یا ایم این ایز کی مداخلت کو بالکل ختم کر دیا جاتا ایسا قانون بنا دیا جاتاکہ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے اراکین کا صرف اور صرف یہ کام ہے کہ وہ لوکل گورنمنٹ کے منتخب اراکین کی مشاورت یا انکی سفارشات کی روشنی میں جہاں جہاں ضروری ہے وہاں قانون سازی کریں گے یا پھر جن جن موجودہ قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہو وہاں ترمیم کریں گے۔

نیز تحصیل سے لیکر ضلعی افسران(سول و پولیس دونوں)کی تقرریوں میں کسی بھی منتخب رکن اسمبلی کا بالکل عمل دخل نہ ہو گا یہ کام صرف اور صرف چیف سیکرٹری کا ہو گا ہاں سرکاری ملازمین کی کارکردگی اگر تسلی بخش نہ ہو گی تو وہ چیف سیکرٹری کی توجہ اس طرف مبذول کراسکیں گے نئے صوبوں کے قیا م کا مطالبہ کرنے والے ذرا اس بات پر بھی سوچیں کہ کیا اس غریب ملک کی اکانومی اضافی اخراجات برداشت کرنے کی متحمل ہو بھی سکتی ہے ؟اس مسئلے پر قوم سیاسی جماعتوں سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ ذرا کھل کر اپنے اپنے الیکشن منشور میں بات کریں گے سیاسی لوگ ذرا یہ بھی غیر مبہم الفاظ میں قوم کو بتائیں کہ زرعی اصلاحات کے بارے میں ان کا کیا پروگرام ہے ؟ کیا وہ ایک زمیندار کے پاس 150 ایکڑ نہری اور500 ایکڑ بارانی زمین چھوڑ کرباقی سب کی سب قومیاکر بے زمین کسانوں اور ہاریوں میں تقسیم کریں گے ؟ آج قوم بجا طور پر اپنے سیاسی ایکٹروں سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ اگر غیر ممالک میں تعلیم ‘ صحت وغیرہ کی مفت سہولیات عوا م کو میسر کی جاسکتی ہیں تو کیا یہ پاکستانیوں کی مقدر میں لکھ دیا گیا ہے کہ یہاں سرمایہ داروں کو جو زندگی کی سہولیات میسر ہیں وہ غریبوں کو نہیں دی جا سکتیں وہ یہاں پیاز سے گزارہ کریں ان کو دوسرے جہاں میں یہ چیزیں ملیں گی ۔