120

سُرخاب کے پر

آج کل جناب نواز شریف کے بیانیے میں جو خلائی مخلوق در آئی ہے اس نے سیاست میں ایک ہلچل مچارکھی ہے‘ہر کوئی اپنی سمجھ کے مطابق اس خلائی مخلوق کی تلاش میں مصروف ہے‘ہم نے بھی اپنی سی کوشش کر کے دیکھ لی مگر شایدہماری نظر اتنی کمزور ہے کہ ہم تو زمینی مخلوق کو بھی عینک کے بغیر دیکھنے سے قاصر ہیں تو خلائی مخلوق کو کہاں دیکھ پائیں گے مگر بھلا ہو آنکھ والوں کا کہ انہوں نے اس کی مختلف تشریحات کر کے ہمیں بھی کچھ نہ کچھ دکھانے کی کوشش کی ہے جوبظاہر کامیاب دکھائی دیتی ہے مگر معاملہ پھر وہی عینک کے نمبر کا ہے‘ اب خیال ہے کہ ڈاکٹر کے پاس جائیں اور اس سے کہیں کہ جناب ہماری عینک کا نمبر تبدیل کر دیں تاکہ ہم کو بھی خلائی مخلوق دکھائی دے۔ ہاں ایک بات جس کا ہم ایک عرصے سے مشاہدہ کر رہے ہیں وہ یہ کہ ہر انتخابات سے پہلے کچھ سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کو امریکہ یاترا کی دعوت دی جاتی ہے اور جب ان سیاسی جماعتوں کے لیڈران امریکہ یاترہ کے بعد واپس آتے ہیں توانکے بیانات میں سے امریکہ مخالفت کے جراثیم مر چکے ہوتے ہیں اور خدا کا کرنا یہ کہ وہی پارٹی جیت جاتی ہے جو امریکہ یاترا کے بعد اپنے خیالات میں خود اعتمادی لے آتی ہے توہم نے تو یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ نواز شریف کا مطلب امریکہ ہی ہو سکتا ہے اس لئے کہ ایک لیڈر کے امریکہ یاترا کرنے کے بعد اس کی پتنگ کافی اوپر جا رہی ہے اور اس سے کوئی پیچا لڑانے کی بھی کوشش نہیں کر رہا ادھر حکمران جماعت کے امریکہ سے روٹھے رہنے کا نقصان انکو یہ اٹھانا پڑا ہے کہ جن لوگوں کو یہ جماعت پورے پانچ سال دودھ پلاتی رہی وہ اس سے کنی کترا رہے ہیں اور وہ شخص کہ جس کیخلاف یہ لوگ پورے پانچ سال بولتے رہے ہیں ۔

وہی ان کو گلے لگا رہا ہے بلکہ ان کے گلے میں غلامی کے طوق بھی ڈال رہا ہے‘ہمیں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ابن الوقت کس خوشی کیساتھ اپنے گلے میں طوق پہن رہے ہیں‘خیر یہ ہماری سیاست میں ایک بری رسم ہے کہ جو ہمارے سیاستدان بڑی خوشی سے اپنائے ہوئے ہیں‘سوال کیا جا سکتا ہے کہ جس پارٹی کا آپ پانچ سال تک کھاتے رہے ہیں اور اس پارٹی سے آخری ترقیاتی فنڈ بھی آپ نے وصول کر لئے ہیں اس کو چھوڑتے ہوئے آپ کو شرم نہیں آئی اور جس شخص کی مخالفت آپ کئی دھائیوں سے کر رہے ہیں اس میں کون سے سرخاب کے پر لگ گئے ہیں کہ آپ اس کے سامنے جھک رہے ہیں کہ وہ آپ کے گلے میں غلامی کا طوق ڈال دے۔البتہ یہ نظر آ رہا ہے کہ خان صاحب کی امریکہ یاترا کامیاب ہو گئی ہے‘ ایک وقت تھا کہ ہمارے لیڈر اپنے وطن میں ہی تنکے والے بابے کی لاٹھیاں کھا کر سرخرو ہو جایا کرتے تھے مگر بابے کی وفات کے بعد ان کا ٹھکانا اب پھر سے امریکہ والا بابا ہو گیا ہے اس دفعہ پہل عمران خان نے کی ہے اور شاید نواز شریف یا زرداری صاحب کو اس کا موقع نہیں ملا کہ وہ امریکہ والے باباکی لاٹھیاں کھا آتے ‘اسی لئے عمران خان کی پتنگ اونچی اڑان بھر رہی ہے اور کسی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ اسکے ساتھ پیچا لڑا سکے ‘ہو سکتا ہے کہ ہماری سوچ غلط ہو مگر شماریات سے یہی لگتا ہے کہ امریکہ یاترا ہی در اصل وہ خلائی مخلوق ہے۔

جس کا ذکر بار بار جناب نواز شریف صاحب کا تکیہ کلام بن چکا ہے‘ ہو سکتا ہے کہ کسی وقت نواز شریف خود ہی یہ راز اگل دیں کہ یہ خلائی مخلوق کون ہے اور خلامیں اس کا ٹھکانہ پاکستان کے اتنا قریب کیوں ہے کہ وہ ہماری سیاست پر اثر انداز ہو رہی ہے بلکہ بہت زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے‘ہم نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ہمیں اپنی سیاست کو اپنے ملک میں ہی رکھیں تاکہ ہماری بھی کوئی عزت ہو مگر ہمارے حکمران خدا جانے کب سمجھیں گے کہ انکی اصل طاقت انکے اپنے عوام ہیں‘ وہ جتنا اپنے عوام کے نزدیک رہیں گے اپنی بھی عزت کروائیں گے اور سب سے بڑھ کر انکے پاسپورٹ کی عزت ہو گی ‘ہمیں یہ سن کر بہت افسوس ہو ا کہ ہمارے پاسپورٹ کی عزت مغرب میں یا امریکہ میں تو نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے مگر ہمارے بہت ہی پیارے دوست چین میں بھی ہمارے پاسپورٹ کی وہ عزت نہیں ہے جو وہ دوسرے ملکوں کو دے رہا ہے شنیدہے کہ جو رعایتیں وہ دوسرے ملکوں کے وزیٹرزکو دے رہا ہے ان میں سے ایک بھی پاکستانیوں کیلئےنہیں ہے اور اگر یہ سچ ہے تو ہمیں پاک چین دوستی پربھی ایک ناقدانہ نظر ڈالنی چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ ہم میں کہاں کمزوری ہے اور اس کو دور کرنے کی کوششیں کرنی چاہئے۔