152

لیگی اراکینِ پارلیمنٹ کے نواز شریف کے انٹرویو پر تحفظات

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اراکین نے پارٹی کے تاحیات قائد نوازشریف کے ممبئی حملوں سے متعلق انٹرویو پر تحفظات کا اظہار کردیا۔شہباز شریف کی زیرِ صدارت حکمراں جماعت کی پارلیمانی ارکان کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ممبئی حملے سے متعلق نواز شریف کا بیان زیرِ بحث رہا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران نواز شریف کے انٹرویو پر عاشق گوپانگ، عبدالرحمٰن کانجو اور شفقت بلوچ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیرِاعظم کے انٹرویو کو بھارتی میڈیا بہت زیادہ اچھال رہا ہے۔اراکین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مودی کا جو یار ہے غدار ہے‘ کے نعرے لگ رہے ہیں۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ جس نے نواز شریف کا انٹرویو کروایا وہ مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد کا سب سے بڑا دشمن ہے۔وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ کسی کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ جلد آپ کو نواز شریف کے موقف میں نرمی نظر آئے گی کیونکہ ان سے زیادہ مُحبِ وطن پاکستانی کوئی نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے پارلیمانی اراکین کو یقین دہانی کروائی کہ وہ نوازشریف کو قائل کریں گے کہ وہ حساس معاملات پر گفتگو سے قبل پارٹی سے مشاورت کیا کریں۔علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف اراکینِ اسمبلی مسرت زیب اور سراج محمد نے بھی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔

اس موقع پر پارٹی کے صدر شہباز شریف نے دونوں اراکین کو مسلم لیگ (ن) شمولیت اختیار کرنے پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔دونوں اراکینِ اسمبلی نے کہا کہ اب وہ پاکستان کی ایک جمہوری پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پالیمنٹ ہاؤس میں موجود ہونے کے باوجود سابق وزیرِ داخلہ اور پارٹی کے پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار علی خان نے مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے وزیرِ داخلہ احسن اقبال کے لیے پھولوں اور پھلوں کا تحفہ بھی پیش کیا گیا۔

نواز شریف کا متنازع تصور کیا جانے والا بیان

یاد رہے کہ 12 مئی 2018 کو ڈان اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نواز شریف نے ممبئی حملوں پر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر مقدمے کے حوالے سے کہا تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں ان کو اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں۔

یہ عمل ناقابل قبول ہے یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے، یہ بات روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور چینی صدر ژی جنگ نے بھی کہی، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 7 فیصد ہوسکتی تھی لیکن نہیں ہے۔

نواز شریف سے جب پوچھا گیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے کی وجہ کیا تھی، تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات کا تذکرہ کرتے کہا کہ ہم نے اپنے آپ کو تنہا کرلیا ہے، ہماری قربانیوں کے باوجود ہمارا موقف تسلیم نہیں کیا جارہا، افغانستان کا موقف سنا جاتا ہے لیکن ہمارا نہیں، اس معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ممبئی حملوں سے متعلق نواز شریف کا بیان اور سیاست دانوں کا ردِ عمل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس بیان کو غداری سے منسوب کرتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب سے مسلم لیگ (ن) کے ترجمان نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی قائد کے بیان کو بھارتی میڈیا نے توڑ مروڑ کر پیش کیا اور بدقسمتی سے پاکستان الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے ایک حلقے نے بھارتی پروپیگنڈے کی توثیق کردی۔