304

سیاسی گرما گرمی میں مہنگائی کا طوفان

وطن عزیز میں جاری سیاسی تناؤ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونے پر معیشت کے ساتھ غریب اور متوسط شہریوں کو مہنگائی نے کچل کر رکھ دیا ہے۔ سیاست کے گرما گرم میدان میں یکم جنوری 2018ء کو پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کا اعلان کردیا گیا۔ مہیا تفصیلات کے مطابق پٹرول 4 روپے 6 پیسے اور ڈیزل 3 روپے 96 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوگیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ کیروسین آئل 13.58 روپے فی لیٹر مہنگا کرنے کی تجویز دی گئی تھی تاہم اضافہ 6.74 روپے ہوا۔ حکومت کاایک بار پھر یہی کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ عالمی مارکیٹ کی صورتحال کے تناظر میں ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ سعودی عرب میں بھی پٹرولیم پروڈکٹس کی قیمتوں میں 80 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ جہاں تک وطن عزیز کی معیشت کا تعلق ہے تو اس میں بڑا چیلنج تجارتی خسارہ ہے اس خسارے کی بڑی وجہ پٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل ہے اعداد و شمار بتلاتے ہیں کہ ملک میں سالانہ تقریباً 12 ارب ڈالر کی پٹرولیم پروڈکٹس امپورٹ ہوتی ہیں سال گزشتہ میں جنوری سے ستمبر کے درمیان ہمارا درآمدی بل 47 ارب ڈالر سے زائد رہا پٹرولیم مصنوعات کی گرانی عالمی مارکیٹ کے اثرات کا نتیجہ ضرور ہے۔

تاہم اس کے اثرات جس طرح پاکستان میں مرتب ہوتے ہیں ان کے نتیجے میں مہنگائی کا گراف اوپر ہی جاتا رہتا ہے جبکہ ملک میں مارکیٹ کنٹرول کا کوئی موثر انتظام ہے ہی نہیں اور جو سیٹ اپ مجسٹریسی سسٹم کا تھا اسے بحال کرنے کیلئے اصولی اتفاق کے باوجود متعلقہ اداروں کے پاس دستاویزی کاروائی اور دوسرے اقدامات کے لئے ابھی شاید وقت ہی نہیں ہے۔ ماضی کے تجربات اس بات پر بھی شاہد ہیں کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے پر گرانی کا پہاڑ ضرور ٹوٹا ہے تاہم کبھی بھی قیمتوں میں کمی پر عوام کو ریلیف نہیں ملا۔ یہ ساری صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت کے ذمہ دار ادارے اس ضمن میں نگرانی کا کام تندہی سے سرانجام دیں عوام پر پڑنے والے لوڈ کا حساب رکھا جائے اور یوٹیلٹی بلوں میں سبسڈی کے ساتھ مارکیٹ کنٹرول کیلئے فوری اور موثر اقدامات اٹھائے جائیں جن میں ضروری پرانے مجسٹریسی نظام کی بحالی ہے۔

اعلیٰ تعلیم کے منصوبے

سنٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ کمیٹی نے ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے کی بہتری کے لئے 12.2 ارب روپے کے مختلف منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں اضلاع کی سطح پر سب کیمپس منصوبے کے خدوخال بھی اجاگر کئے گئے۔ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے خطیر رقم مختص کرنا قابل اطمینان اقدام ہے تاہم اس کے ساتھ ضرورت معیار کے حوالے سے تعلیم کے تمام اداروں کو چاہئے وہ نجی شعبے میں ہوں یا پبلک سیکٹر میں مانیٹرنگ کا فول پروف انتظام ضروری ہے۔ دستور میں ترمیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کا شعبہ صوبوں کے زیرانتظام آچکا ہے ساتھ میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا کردار بھی موجود ہے ایسے میں ضرورت مرکزی اور صوبوں کے ذمہ دار اداروں میں باہمی رابطے اور صوبوں کی سطح پر ہیرا جیسے اداروں کو زیادہ بااختیار بنانے اور وسائل سے لیس کرنے کی ہے تاکہ تعلیم صرف ڈگریوں تک محدود نہ رہے۔