567

پاکستان؛ سائبیریا سے آنے والے ہجرتی پرندوں کا مسکن

ہر سال لاکھوں پرندے قطبی علاقوں میں سردی حد سے زیادہ بڑھ جانے پر معتدل علاقوں کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔

پرندوں کی ہجرت کے اسباب میں موسمی تغیر وتبدل اور خشک سالی کی وجہ سے خوراک کی کمی بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں بے رحم انسانی رویے، اندھادھند شکار،  بارشوں میں کمی ، صنعتی و زرعی رقبہ جات میں تو سیع کی وجہ سے قدرتی مساکن کی تباہی، شہری آبا دیوںکا پھیلاؤ اور ویٹ لینڈز کے سکڑنے جیسے سنگین مسائل بھی ا ن پر ندوں کی ہجرت کا سبب ہیں۔

ہر سال مئی کے دوسرے ہفتے میں ورلڈ مائیگر یٹری بر ڈز ڈےWMBD) ) منایا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ دن پہلی مرتبہ 2006 ء میں منایا گیا تھا  جس کا مقصد لو گوں کو مہاجر پرندوں اور ان کے مساکن کے تحفظ کی بابت آگاہی دینا ہے۔ اس سال ورلڈ مائیگریٹری برڈز ڈے کا تھیم  ’’ائیرآف دی برڈز‘‘ رکھا گیا ہے۔

دنیا میں ہر سا ل موسم سرما کے آغازپر لاکھوں کی تعداد میںپرندے ہجرت پرمجبور ہوتے ہیں۔ موسمی تبدیلی ،خوراک اور پانی کی تلاش،جبلی روّیے اور دن کی روشنی کا دورانیہ کم ہو نے کی بدولت نقل مکانی پر مجبور یہ پرندے دنیا کے سات بڑے فلائی ویز؍ روٹس کے ذریعے پاکستان، انڈیا اور یورپ آتے ہیں۔

اِن سات بین الاقوامی روٹس میں شمالی یورپ سے اسکینڈے نیوین ممالک کاروٹ، سنٹرل یورپ سے بحیرہ روم، مغربی سائبیریا سے بحیرہ احمر، سائبیریا سے پاکستان ـ’’گرین روٹ‘‘، گنگا فلائی وے مشرقی سا ئبیریا سے انڈیا، منچوریا سے کوریا اور کیلیفورنیا سے چاقوٹاکا شامل ہیں۔  پرندوںکی نقل مکانی کے ان کے علاوہ بھی متعدد چھوٹے بڑے علاقائی روٹس ہیں ۔

حیران کن بات یہ ہے کہ پرندے اتنی طویل مسافت کے دوران اپنے راستے کیسے تلاش کرتے ہیں؟ اِس سلسلے میں ماہرین کی مختلف تھیوریاں ہیں کچھ کے نزدیک یہ پرندے گرم آب وہوا کی جانب پرواز کرتے ہیں اور دورانِ پروازسورج کی مدد سے سمت کا تعین کرتے ہیں ۔کچھ کہتے ہیں کہ یہ رات کو چاند اور ستاروں کی مدد سے راستے پر نگاہ رکھتے ہیں۔کچھ ماہرین کے خیال میں راستے میں آنے والے پہاڑ،  دریا،  ندی نالوں اور نہروں کے ذریعے ز مینی نشانات کو یاد رکھتے ہوئے آ گے اڑان جا ری رکھتے ہیں جب کہ کچھ کے مطا بق نوجوان پرندے اپنے بڑوں سے سیکھ کر راستوں کا تعین کر تے ہیں۔

پاکستان مہاجر پرندوں کا بڑا عارضی مسکن ہے جہاں ہر سال روس ، سائبیریا اور شمال وسطی ایشیائی ریاستوں کے انتہائی سرد علاقوں سے  لا کھوں کی تعداد میں یہ مہمان پرندے ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں آتے ہیں ۔ کم و بیش چھ ماہ قیام کے بعد مارچ اپریل میں واپس اپنے آبائی علاقوں میں کی طرف کوچ کرجاتے ہیں۔

انٹرنیشنل یونین فا ر کنزرویشن آف نیچر ( آئی یوسی این) کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ہر سال ہجرت کر کے آنے والے پرندوں کی تعداد تقریبا  ایک ملین کے لگ بھگ ہے جو بین الاقوامی فلائی وے نمبر 4گرین روٹ کے ذریعے سائبیریا سے افغانستان ، قراقرم ، ہندوکش ، کو ہ سلیمان اور دریا ئے سندھ کے ساتھ ساتھ 4500 کلو میٹر کی طویل مسافت کے بعد پاکستانی علاقوں میں آتے ہیں ۔ ان مہمان پرندوں میں مختلف انواع کی مرغابیاں ، مگھ ، قاز،کونجیں، حواصل، لم ڈھینگ، بگلے، تلوراور باز شامل ہیں۔

پاکستان میں قیام کے دوران یہ مہمان پرندے واٹر بیسن نوشہرہ، ٹانڈہ ڈیم کو ھاٹ ، سوات ، چترال، تربیلااور منگلا ڈیم ،صوبہ پنجاب کے مختلف مقامات جن میں چشمہ بیراج ، تونسہ بیراج ، اُ چھالی کمپلیکس، مرالہ، قادر آباد ، رسول و دیگر راج باہ اور مختلف چھوٹی بڑی جھیلیں جب کہ سندھ میں ہالیجی ، کینجھر اور لنگسی جھیل وغیرہ پر بسیراکرتے ہیں ۔ دریائے سندھ کا طاس کا علاقہ، راج باہیں، جھیلیں، ندی نالے، آبی گزر گاہیں اور فلک بوس پہاڑ ان مہمان پرندوں کے لیے بے حد کشش رکھتے ہیں۔ پاکستان میں ہجرتی پرندوںکی آمد پر جنگلی حیات کے تحفظ پر مامور وفاقی و صوبائی محکمے ان کے تحفظ کے لیے الرٹ ہو جاتے ہیں۔

صوبہ پنجاب کو اہم ویٹ لینڈزکا حامل ہونے کی بنا پرخصوصی اہمیت حاصل ہے جس کا 337922ایکڑرقبہ دلدلی ہونے کے پیش نظر ان ہجرتی پرندوں کا مسکن بنتا ہے۔ پاکستان کی  جن 19 ویٹ لینڈز کو بین الاقوامی ’رام  سر سا ئٹسں‘ کا درجہ حا صل ہے۔ ان میں تین اہم ویٹ لینڈز چشمہ بیراج، تونسہ بیراج اور اُچھالی کمپلیکس پنجاب میں وا قع ہے۔ علاوہ ازیں بڑے آبی ذخائر میں جناح بیراج ، ر سول  بیراج، قادرآباد بیراج، مرالہ ہیڈورکس، خانکی ہیڈورکس،  تریموں  ہیڈورکس، سلیمانکی ہیڈورکس،  اسلام ہیڈورکس، بلوکی ہیڈورکس ،  پنجند ہیڈورکس،  شا ہ پور ڈیم ، میلسی سا ئفن، کلر کہار جھیل او ر نمل جھیل شامل ہیں ۔

محکمہ تخفظ جنگلی حیات و پار کس پنجاب کی جانب سے محکمانہ سطح پر ان مہا جر پرندوں کے تخفظ  اور  فروغ کے لیے بھر پور اقدام  کیے جا تے ہیں۔ مہمان پرندوں کی بقا اور تخفظ کے لیے تمام قومی و بین الاقوامی تقا ضوں  اور معا ہدا ت کا بھر پور احترام کیاجاتا ہے اور اسی کے پیش نظر صوبہ کے ان تمام مقامات کو جہاں مہاجرآبی پرندے موسم سرما میں آکر بسیرا کرتے ہیں پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کی دفعہ 16 کے تحت وائلڈ لائف سینکچوری قرار دے  رکھا ہے جہاں نہ صرف  ہر قسم کا شکار ممنوع ہے بلکہ ایسے علاقوں میں کسی قسم کی کھیتی باڑی ، تعمیرات ودیگر کارروائیوں جن سے یہاں نباتات اور حیوانات اور قدرتی مساکن کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو، کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔

اگرچہ محکمہ تحفظ جنگلی حیات و پارکس، دیگر تمام  وائلڈلائف کنزرو یشن ایجنسیاں، ور لڈو ائڈ فنڈ فا ر نیچر، ہوبارہ انٹر نیشنل اور فالکن فاؤنڈیشن کے شانہ بشانہ ان مہاجر پرندوں کی بقااور تخفظ کے لیے تمام کاوشیں بروئے کار لا رہا ہے تاہم ٖضرورت اس امر کی ہے کہ عوام بھی محکمہ سے بھرپور تعاون کریں اور ایسے افراد پر کڑی نظر رکھیں جو ان پرندوں کے ناجائز اور غیر قانونی شکار ، ان کی پکڑ دھکڑ ،  اور مساکن کو نقصان پہنچانے کے مذموم عمل میں شامل ہیں۔ ان کی غیرقانونی کارروائیوں کی فوری محکمہ کو اطلاع دیں تاکہ ان کے خلاف بروقت اقدام کیا جاسکے۔

یاد رہے کہ ہمارا یہ تعاون مہاجر پرندوں کے تخفظ اور بقا کے لیے کی جانے والی کاوشوں  میں معاون  ثابت ہوگا۔