405

آئی جی پی نے پشاور میں سکھ کے قتل کا نوٹس لے لیا 

پشاور۔انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا صلاح الدین خان محسود نے سردارچرن جیت سنگھ کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے بتایاگیا ہے کہ آئی جی خیبرپختونخوا نے سی سی پی او پشاور کو چرنجیت سنگھ کے قتل کا کیس ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے اور جلد از جلد ملزمان کو گرفتار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایک ہفتے میں واقعے کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

دوسری جانب واقعے کا مقدمہ انقلاب پولیس اسٹیشن میں نامعلوم ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے دفعہ 302 کے تحت درج کرلیا گیا ہے ۔

گزشتہ روز تھانہ انقلاب کی حدود سکیم چوک میں سکھ کمیونٹی کے رہنما سردار چرن جیت سنگھ کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا جب وہ اپنی دکان میں موجود تھےؒ ۔ قتل کی تحقیقات اور قاتلوں کی گرفتاری کیلئے ایس ایس پی انوسٹی گیشن کی سربراہی میں7رکنی’’خصوصی تحقیقاتی ٹیم ‘‘ قائم کردی گئی ہے جبکہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیاگیا ہے کہ مقتول کو ٹارگٹ کلنگ کی واردات میں قتل کیاگیا ہے جبکہ سکھ برادری کونشانہ بنانے کے حوالے سے چند روز قبل الرٹ بھی جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

سی سی پی او پشاور قاضی جمیل الرحمن کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق تھانہ انقلاب کی حدود سکیم چوک میں سکھ کمیونٹی کے رہنما سردار چرن جیت سنگھ بابو کے قتل کی تحقیقات کرنے اور ملوث ملزمان کو سراغ لگانے اور قاتلوں کی گرفتار ی کیلئے 7 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے ٹیم کے چیئرمین ایس ایس پی انوسٹی گیشن پشاور ہوں گے جبکہ دیگر ممبران میں ایس ڈی پی او بڈھ بیر، ڈی ایس پی انوسٹی گیشن پشاور کینٹ، سرکل آفیسر صدر ؍ انقلاب،انچارج کاؤنٹر کڈنیپنگ سیل اور وفاقی انٹیلی جنس ادارہ آئی بی کا ایک نمائندہ شامل ہے تحقیقاتی ٹیم کو روزانہ کی بنیاد پر تفتیشی رپورٹ سی سی پی او آفس ارسال کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے ۔

دوسری جانب صوبائی دارالحکومت پشاور میں ’’شمشان گھاٹ ‘‘ نہ ہونے پر سکیم چوک میں قتل ہونیوالے چرن جیت سنگھ کی آخری رسومات اٹک میں ادا کی گئیں اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے جبکہ لواحقین دھاڑیں مار مار روتے ہے سکیورٹی سخت انتظامات میں چرن جیت سنگھ کی نعش اٹک منتقل کی گئی تھی جہاں سکھ برادری نے آخری رسومات ادا کیں ۔