215

نگران حکومت‘ الیکشن‘ ڈائیلاگ

قومی اسمبلی کی تحلیل اور شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں قائم حکومت کی رخصتی کے بعد جسٹس(ر)ناصر الملک نے نگران وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے‘ اس سے ایک روز قبل الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلئے شیڈول کا اعلان کردیا ہے‘ الیکشن 2018ء کیلئے کاغذات نامزدگی آج سے جمع ہونا شروع ہوں گے اور یہ سلسلہ 6جون تک جاری رہے گا‘ امیدواروں کی حتمی فہرست 27جون کو شائع ہوگی جبکہ نشانات 29جون کو الاٹ ہوں گے‘ سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابات کیلئے سیکورٹی کے حوالے سے مسائل نگران حکومت کے ساتھ زیر بحث لائے جائیں گے‘ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک میں تمام جماعتیں بروقت انتخابات چاہتی ہیں اور یہ کہ بلوچستان اسمبلی کی قرارداد اور ہائی کورٹ کے فیصلے ان میں رکاوٹ نہیں انتخابی شیڈول آئین اور قانون کے مطابق ہے‘ جمہوری نظام کے تسلسل میں عام انتخابات کا بروقت پرامن اور شفاف انعقاد ایک بھاری اور اہم ذمہ داری ہے‘ جس میں ہر ایک کو اپنے اپنے لیول پر تعاون کرنا ہوگا‘ وطن عزیز میں جمہوریت کے استحکام کیساتھ بہت سارے ایسے مسائل ہیں جن پر بات چیت کے ذریعے متفقہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے‘

سیاست میں ایک دوسرے کے موقف سے اختلاف اور اپنے منشور وپروگرام کو پیش کرنا کوئی عیب نہیں تاہم اختلاف رائے میں بھی ایک حد تک پابند رہنا چاہئے‘ اس عمل میں ایک دوسرے کے موقف کو کھلے دل اور لچکدار رویے کیساتھ سننا چاہئے‘ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی قومی اسمبلی سے اپنے الوداعی خطاب میں قومی مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں‘ ان کی تجویز سے متعلق کسی بحث میں پڑے بغیر یہ ضرور کہاجاسکتا ہے کہ سیاسی قیادت نے خود فاٹا اصلاحات پر جس طرح سیاسی ڈائیلاگ کی راہ اپنائی دیگر اہم معاملات پر اس سے گریز ہی کیاگیا‘ سیاسی قیادت اگر وطن عزیز کو پانی کے ذخائر کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے یکجا ہو کر بیٹھ جاتی تو یقیناًبہتر فیصلے سامنے آتے‘ اسی طرح اگر معیشت کے استحکام اور وسائل کی تقسیم پر باہمی رابطے ہوجاتے تو ان کے خوشگوار نتائج عام شہری بھی محسوس کرتا‘ موجودہ منظرنامے میں ایک جانب انتخابات کے انعقاد میں تعاون کی ضرورت ہے تو دوسری طرف اہم معاملات پر متفقہ موقف کی جس پر نئی منتخب حکومت بھی اطمینان سے عمل کرسکے۔

خیبرپختونخوا کا انفراسٹرکچر

صدر مملکت کے دستخط کیساتھ قبائلی علاقہ جات خیبرپختونخوا کا حصہ بن گئے‘ نئے سیٹ اپ میں قبائلی ایجنسیاں اضلاع میں تبدیل جبکہ پولیٹیکل ایجنٹ ڈپٹی کمشنر بن گئے ہیں‘ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں فاٹا اور پاٹا کے علاقوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دیدی گئی ہے جبکہ کسٹم پیڈگاڑیاں 5سال تک ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی‘ فاٹا اصلاحات اور قبائلی علاقوں کا خیبرپختونخوا میں انضمام ایک بہت بڑا فیصلہ ہے‘ اس فیصلے پر عملدرآمد کے مراحل میں صوبے کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور توسیع دینے کی ضرورت ہے جس کیلئے مناسب حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی‘ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت میں سہولیات کا معیار بہتر بنانا بھی ضروری ہے‘ کیا ہی بہتر ہو کہ صوبے کے ذمہ دار ادارے سٹیک ہولڈرز کے طورپر مشترکہ حکمت عملی تشکیل دیں تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جاسکیں اور لوگوں کو عملی طورپر تبدیلی کیساتھ ریلیف کا احساس ہو۔