173

ترجیحات کا تعین؟

وطن عزیز میں جمہوری نظام کا تسلسل اپنی جگہ قابل اطمینان ہے نگران سیٹ اپ اور عام انتخابات کے لئے تیاریاں اپنی جگہ سہی اس وقت سیاسی ماحول میں گرما گرمی اور انتخابی بخار کی شدت میں اضافہ ریکارڈ ہورہا ہے‘گزشتہ حکومت کی مدت اقتدار میں سیاسی تناؤ‘ پانامہ پیپرز رپورٹ‘ دھرنوں اور ہائی پروفائل کیسوں کی سماعت اور بڑے عدالتی فیصلے سامنے آتے رہے‘ ایسے میں حکومت کی مدت پوری ہونے سے کچھ روز قبل قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلے کے بعد فاٹا اصلاحات اور قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کا معاملہ نمٹایا گیا جبکہ بہت سارے دیگر اہم امور حل طلب ہی رہ گئے‘ ان میں سے ایک اہم ایشو پانی کی قلت کا ہے‘ خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں نئے ڈیمز تعمیر نہ ہونے کے باعث ہر سال 34 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر برد ہوکر ضائع ہورہا ہے پاکستان کا شمار دنیا کے ایسے 15 ممالک میں ہونے لگا ہے جہاں پر پانی کی دستیابی دباؤ کا شکار ہے ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں بین الاقوامی پیمانے کے مطابق ایک ہزار دنوں کی ضرورت کے مطابق پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے‘ قابل تشویش بات یہ ہے کہ وطن عزیز میں اس وقت صرف 30 روز کے لئے پانی سٹور کرنے کا انتظام ہے پانی کے ضیاع سے متعلق رپورٹ میں بتایا جارہا ہے کہ ہر سال کئی ملین ایکڑ پانی سمندر میں آکر ضائع ہورہا ہے ۔

ملک میں توانائی کا بحران نہ صرف بجلی کی بندش کے باعث عام شہری کے لئے اذیت کا باعث ہے بلکہ مجموعی ملکی معیشت بھی اس سے متاثر چلی آرہی ہے ہماری انڈسٹری کو ضرورت کے مطابق بجلی نہیں مل رہی بجلی کی قلت کے ساتھ اس کی قیمتوں نے غریب اور متوسط طبقے کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے صنعتی پیداوار میں پروڈکشن کاسٹ بڑھنے پر مہنگائی کا بڑھنا بھی ضروری ہے گندم کی ضرورت پوری کرنے کے لئے درآمدات پر انحصار کا موقع بھی نہ دینے کا تقاضا ہے تو بنجر پڑی وسیع اراضی کو سیراب کرنے کی ضرورت بھی ہے‘ درپیش منظرنامے کا تقاضا ہے کہ ملک میں آبی ذخائر پر توجہ مرکوز کی جائے کسی اختلاف سے بچنے کیلئے ضروری یہ بھی ہے کہ ان ذخائر پر اگر کسی کے کوئی خدشات و تحفظات ہیں تو ان پر مل بیٹھ کر بات کی جائے یہاں معاملہ سیاسی اختلاف کا نہیں ملک اور قوم کے مفاد کا ہے جو اولین ترجیح ہونی چاہئے۔

سٹیزن سروس سنٹر

اسلام آباد پولیس نے وفاقی دارالحکومت کے وسط میں ایک خصوصی سنٹر قائم کیا ہے رپورٹ کے مطابق اس سنٹر میں ایک ہی چھت تلے شہریوں کو متعدد خدمات فراہم ہوسکتی ہیں‘ان میں پولیس تصدیق‘گمشدگی رپورٹ‘ ملازموں کی رجسٹریشن اور گاڑیوں کی تصدیق بھی شامل ہے‘ سنٹر سے متعلق مہیا تفصیلات کے مطابق یہاں غیر ملکیوں کی رجسٹریشن اور ٹریفک لائسنس بھی مل سکیں گے‘ خیبرپختونخوا میں پولیس اصلاحات کا ذکر بڑی شد و مد کے ساتھ کیا جاتا ہے تاہم جہاں تک خدمات کا تعلق ہے تو ان کی فراہمی کے لئے کنکریٹ اقدامات کی ضرورت شدت کیساتھ محسوس کی جارہی ہے‘ کیا ہی بہتر ہو کہ پشاور اور دوسرے بڑے شہروں میں خدمات کی فراہمی کے لئے اس طرز پر موثر مراکز قائم کئے جائیں تاکہ کسی موٹر سائیکل سوار کو نمبر پلیٹ کے کیس میں بے گناہ نہ پکڑا جائے جس کی پلیٹ کے لئے درخواست مہینوں سے عملدرآمد کی منتظر ہو۔