311

توانائی بحران‘ اقدامات پر عدم اطمینان

نگران وزیراعظم جسٹس(ر) ناصرالملک نے توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے لائن لاسز روکنے کاحکم دیا ہے انرجی سیکٹر سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جسٹس(ر) ناصر الملک نے بجلی چوری اور لائن لاسز کے حوالے سے انتظامی اور تکنیکی معاملات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈسکوز کو بڑے نقصانات کا سامنا ہے جس کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہونگے جہاں تک بجلی کی طلب اور پیداوار کے حوالے سے اعدادوشمار کا تعلق ہے تو اس میں یقیناًبہتری آئی ہے2013ء میں پیداواری صلاحیت18ہزار 753 میگاواٹ تھی جو اس وقت28 ہزار704 میگاواٹ ہے دوسری جانب اس حقیقت سے بھی انحراف نہیں کیا جاسکتا کہ پن بجلی کی پیداوار2015 میں6ہزار333 میگاواٹ تھی جو پانی کی کمی کے باعث مئی2018ء میں3ہزار 90 میگاواٹ ریکارڈ ہوئی بجلی بحران پر قابو پانے کیلئے طلب اور رسد کے درمیان گیپ کم کرنا یقیناًاہم ہے۔

تاہم اسکے ساتھ ضرورت لائن لاسز پر قابو پانے اور بجلی کا ضیاع روکنے کی ہے لائن لاسزکنٹرول کا اختیارکردہ طریقہ کار مجبوری ضرور ہے تاہم اس میں لاسز والے علاقوں میں بجلی بند رکھنے سے بل جمع کرنیوالے شہریوں کو سزا دینا کسی طرح مناسب نہیں توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے جہاں بجلی کی پیداوار میں اضافہ ضروری ہے وہاں جنریٹ ہونیوالی بجلی کا درست استعمال اور ضیاع کو روکنے کیلئے موثر حکمت عملی بھی ناگزیر ہے ضروری تو یہ بھی ہے کہ پن بجلی کی پیداوار میں کمی کو دیکھتے ہوئے آبی ذخائر بڑھانے پر بھرپور توجہ دی جائے اس بات کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ بیرونی قرضوں تلے دبی معیشت میں عالمی اداروں کی ڈکٹیشن پر بنے یوٹیلٹی بلوں کا حجم اسی صورت کم ہو سکتا ہے جب ہم بجلی کی پیداوار کیلئے سستے ذرائع اختیار کریں جہاں تک لائن لاسز پر قابو پانے کا تعلق ہے تو یہ بنیادی ذمہ داری خود تقسیم کار کمپنیوں کی ہے تاہم بگاڑ اس لیول پر پہنچ چکا ہے کہ اب اس میں صوبوں اور خصوصاً بلدیاتی اداروں کی سطح پر منتخب قیادت کو بھی دست تعاون دراز کرنا ہوگا اس مقصد کیلئے وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں ذمہ دار اداروں کو صوبائی حکومتوں کیساتھ رابطہ کرتے ہوئے موثر پلاننگ کرنا ہوگی یہ دوچار چھاپوں اور چند میٹر اتار دینے کا کام نہیں اس میں جہاں اعلیٰ کارکردگی پر حوصلہ افزائی ضروری ہے تو وہیں بجلی چوری کے مواقع فراہم کرنے پر پوچھ گچھ بھی ضروری ہے۔

ہیلتھ سیکٹر میں ترجیحات

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت میں امراض قلب کے مریضوں کیلئے 2005ء میں شروع ہونیوالا کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا منصوبہ ابھی تک مکمل آپریشنل نہ ہو سکا ایک کے بعد دوسری حکومتیں دیکھنے والا برن سنٹر تڑپتے اور کراہتے مریضوں کیلئے ابھی تک ریلیف کا ذریعہ نہ بن سکا نشتر آباد میں تعمیر عمارت آپریشنل ہو کر خدمات کا ذریعہ نہ بن سکی سرطان کے مریضوں کیلئے دوا میگنس کی محفوظ سیل کا بندوبست پوری طرح نہ ہو سکا امراض خون کے مریضوں کیلئے سرکاری شفاخانوں میں انتظامات ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہیں اور لوگ رضاکار اداروں سے رجوع کرتے ہیں ہیپاٹائٹس اور ذیابیطس کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے مقابلہ میں علاج کے انتظامات کو وسعت دینا ضروری ہوچکا ہے ہیلتھ سیکٹر میں ریفارمز سے انکار نہیں تاہم ترجیحات کے تعین میں حقائق کا ادراک ضروری ہے یہ سب اسی صورت ممکن ہے جب پلاننگ کو ٹائم فریم کا پابند بنایا جائے کیا ہی بہتر ہو کہ نگران وزیراعلیٰ خود اس پلاننگ کی نگرانی کریں۔