192

عدالت عظمیٰ کے فیصلے اور نوٹس

سپریم کورٹ نے نئے کاغذات نامزدگی بحال کرتے ہوئے امیدواروں کو فارم میں غیر موجود باقی تمام معلومات الگ سے بیان حلفی کی صورت میں جمع کرانے کا حکم دیدیاہے عدالت عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں ہر امیدوار کو وہ تمام معلومات دینی ہوں گی جو فارم سے ہٹائی گئیں چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ووٹرزکی آنکھوں پر پٹی باندھنے نہیں دی جائیگی عین اسی روز جب عدالت عظمیٰ نے نئے کاغذات نامزدگی بحال کرنے کا حکم دیا چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے پشاور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سختی سے نوٹس لیا سپریم کورٹ نے غیر متعلقہ افراد سے سرکاری گاڑیاں واپس لینے کا حکم بھی دیا جبکہ ایم ٹی آئی ہسپتالوں کے لئے قائم بورڈ آف گورنرز تحلیل کرنے کے احکامات بھی جاری کئے عدالت عظمیٰ نے تین ہفتے میں نئے بورڈز تشکیل دینے کے لئے سمری تیار کرنے کا حکم بھی دیا ماحولیاتی آلودگی سے متعلق حکومت کی اپیل مسترد ہوئی جبکہ قبرستانوں پر قبضہ مافیا کے خلاف کاروائی کے حوالے سے رپورٹ بھی طلب کرلی گئی عدالت کو نہروں اور دریاؤں کی صفائی کے لئے ماسٹر پلان سے متعلق تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا ۔

چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے اور یہ کہ آپریشن تھیٹر زمیں کوئی نہیں جاسکتا وطن عزیز میں یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنے والی حکومتیں اپنی کارکردگی کے حوالے سے بڑے بڑے اعداد وشمار پیش کرتی چلی آرہی ہیں جبکہ اقتصادی اعشاریے انتہائی حوصلہ افزاء صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں دوسری جانب حکومتی اعلانات واقدامات کے عملی نتائج تلاش کرنے پر بھی نظر نہیں آتے بجلی کی پیداوار جتنی بڑھ جائے لوڈشیڈنگ اذیت ناک ہی رہتی ہے جس پر عدالت عظمیٰ کو گذشتہ روز نوٹس بھی لینا پڑا ہسپتالوں میں خدمات کی فراہمی سوالیہ نشان ہے ماحولیاتی آلودگی ہو یا کوئی اور شعبہ‘ عام شہری ریلیف کی راہ ہی تکتا رہتا ہے ہمارے ہاں فیصلہ سازی کے مراحل میں اس بات پر غور ہی نہیں کیا جاتا کہ حکومتی فیصلے اور اقدامات کا فائدہ عام شہری کو کب اور کس طرح پہنچے گا ان ہی وجوہات کی بنا پر عدالتوں کونوٹس لینا پڑتے ہیں وقت آگیا ہے کہ ماضی کی روش ترک کر کے پلاننگ کے تمام مراحل فول پروف بنانے کیساتھ یہ بات یقینی بنائی جائے کہ حکومتی اقدامات کا فائدہ عام شہری کو پہنچے بصورت دیگر قومی خزانے سے اربوں روپے کے منصوبے شروع ہونے کے باوجود لوگ اپنی مشکلات کے حل کیلئے عدالتوں سے رجوع کرنے پر ہی مجبور ہونگے۔

مردہ بھینسوں کا گوشت؟

صوبائی دارالحکومت میں مردہ جانوروں کا گوشت سپلائی ہونے کا انکشاف ہر حوالے سے تشویشناک ہے محکمہ خوراک کی کاروائی میں ایک مردہ بھینس برآمد کی گئی تاہم یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ اس سے قبل کتنی بھینسیں سپلائی ہوچکی ہونگی‘ دوسری جانب نجی ذبح خانے پر چھاپے میں لاغر اور کمزور جانور ذبح کئے جانے کاانکشاف ہو رہا ہے دودھ میں مضر صحت اشیاء کی ملاوٹ عام ہے مردہ مرغیاں متعدد مرتبہ مارکیٹوں میں لائے جانے کی رپورٹس آچکی ہیں‘ پینے کا پانی گٹروں سے گزرنے والے پائپوں میں شامل ہو کر مضر صحت صورت اختیار کئے ہوئے ہے گندگی کے ڈھیر مکھی مچھروں کی بہتات علیحدہ ہے یہ ساری صورتحال اعلیٰ سطح پر فوری نوٹس اور سخت ترین اقدامات کی متقاضی ہے اس میں چھوٹے موٹے چھاپے کسی صورت مسئلے کا حل نہیں۔