321

کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ایندھن میں بدلنے والا کارخانہ

ہارورڈ: عالمی پیمانے پر تپش میں اضافے کی سب سے بدنام گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے جس کا اخراج کم کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے اس ضمن میں جرمنی میں ایک کم خرچ پلانٹ لگایا گیا ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے اسے ایندھن میں تبدیل کرتا ہے۔

اس ضمن میں برسوں قبل ڈائریکٹ ایئرکیپچر (ڈی اے سی ) ٹیکنالوجی پر کئی پلانٹ اور ری ایکٹر بنائے گئے ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پتھروں میں بدلتے ہیں یا پھر کسی اور بے ضرر اجزا میں ڈھالتے ہیں تاہم ان پر خرچ بہت آتا ہے اور ایک میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تعدیل کرنے پر 500 سے 1000 ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔

لیکن اب ایک نیا پائلٹ پلانٹ بنایا گیا جو صرف 94 سے 232 ڈالر فی میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تلف کرسکتا ہے۔ اسے ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے تیار کیا ہے ۔ اس پر کام کرنے والے انجینئر ڈیوڈ کائتھ کہتے ہیں کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل کرنا بہت آسان ہے جبکہ اسے ختم کرنا بہت مہنگا نسخہ تھا اور ہم نے 9 برس کی مسلسل محنت کے بعد یہ ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔

اس کا آزمائشی پلانٹ ایک فیکٹری کے کولنگ ٹاور جیسا ہے جس میں کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس میں مائع ہائیڈروآکسائیڈ محلول کے ذریعے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو قید کیا جاتا ہے جس سے کاربونیٹ وجود میں آتے ہیں اور ان کے ڈلے بن جاتے ہیں۔ اب اگر ان ڈیلوں کو بھٹی میں گرم کیا جائے تو یہ دوبارہ خالص کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کریں گے۔

اس تصور کو ہوا سے ایندھن کا نام دیا گیا ہے جس میں پکڑی جانے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو مائع ہائیڈروکاربنز میں بھی تبدیل کرکے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس ایندھن کو ایک سے دوسری جگہ آسانی سے منتقل کیا جاسکتا ہے۔ یہ تحقیق ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی ذیلی کمپنی نے کی ہے۔