131

خدا توفیق دے

جیسے جیسے عید الفطر قریب آرہی ہے حسب سابق چائنہ پٹاخوں اور آتش بازی کے مختلف آئٹمز کے دھماکوں کا سلسلہ زور پکڑتا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ یہ سلسلہ عید کے چند روز بعد تک جاری رہے گاعام چھوٹے چھوٹے چائنہ پٹاخوں کے پھو ڑنے پر پیداہونے والی آوازیں گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے مشابہت رکھتی ہیں جبکہ پٹاخوں کی ایک قسم ایسی بھی ہے جن کا چلنا دستی بموں کے دھماکوں کی آواز پیدا کرتا ہے یوں یہ اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ شہر کے بچوں اور جوانوں کاتنگ گلی محلوں اورکھلی آبادیوں میں پٹاخہ پٹاخہ کھیلنا شہریوں کو کس قدر کوفت سے دوچارکئے ہوئے ہے‘یوں توان پٹاخوں کی آوازیں دن بھر بھی وقفوں وقفوں سے سنائی دیتی رہتی ہیں تاہم افطار کے فوراََ بعدشروع ہونیوالے چھوٹے بڑے دھماکوں کو سلسلہ نہ صرف گھروں کے اندر موجود افرادکے سکون کوشدید انتشار سے دوچار کرتا ہے بلکہ راہ چلتوں کوبھی متاثر کرتاہے‘اپنے اپنے فکر وخیال کے دام میں الجھے راہگیر وں کے قریب اچانک پھٹنے وا لے پٹاخے جو رنگ دکھاتے ہیں اس کا نظارہ بہت سے قارئین بنفس نفیس کر چکے ہوں گے۔رات کا وقت ہو آس پاس کے ماحول پر سکون و خاموشی کا غلبہ ہواور اچانک ایک زوردار دھماکہ سماعتوں پر قیامت ڈھا دے توچند لمحوں کیلئے ہی سہی ذہنی اذیت تو گھیر ہی لیتی ہے۔

‘یہ کیفیات کمزور دل خواتین و حضرات کو زیادہ متاثرکرتی ہیں جبکہ شیرخواروں کا بدکنا و بلکنااس پر مستزاد‘اگر چائنہ پٹاخوں اوردھماکہ خیز موادسے کھیلنے کا مقصد تفریح طبع ہو تو بھی انتہائی قابل اعتراض بات ہے چہ جائیکہ اس کھیل کو ایذارسانی کے مقصدسے کھیلا جائے‘ایسے ’آزاریوں‘ کی کچھ کمی نہیں جوان پٹاخوں کو لوگوں کو ستانے کیلئے استعمال میں لا کر اپنے لئے تسکین کا سامان پیدا کرتے ہیں‘خود اندھیرے میں چھپ کریا گھر کی چھت سے راہگیروں کے قدموں میں پٹاخے پھینکنا بہت سے کم عقلوں کا محبوب مشغلہ ہے۔ آتش بازی کے سامان اور چھوٹے بڑے پٹاخوں کے دھماکے مساجد میں تراویح کے عمل میں بھی بڑی شدت سے خلل انداز ہو رہے ہیں۔نماز عشاء اور تراویح کے دوران مساجد کے آس پاس پٹاخوں کے دھماکوں کی بہتات نمازیوں اور آئمہ حضرات کی یکسوئی کو شدید طور پر متاثرکرتی ہے۔متعدد جامع مساجد کے خطیب صاحبان نماز جمعہ سے قبل کی تقاریر میں اور اس کے علاوہ بھی اس موضوع پر خصوصی طور پر اظہار خیال کرتے رہے ہیں ‘انھوں نے رمضان المبارک کی راتوں میں ’چائنہ پٹاخوں‘ کے استعمال سے پیدا ہونیوالے منفی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے بارہاعوام کو اس تناظر میں اخلاقی و شرعی تقاضوں سے بھی آگاہ کیا ہے ‘ان کا موقف ہے کہ ’کسی بھی شخص کا ہر وہ عمل جو دیگر شہریوں کو کسی بھی قسم کی تکلیف میں مبتلا کرنے کا باعث بنے نا جائز ہے اور پھر چائنہ پٹاخوں کا استعمال جن کی زور دار آوازیں گلی گلی‘ محلے محلے ‘ سڑکوں اور شاہراہوں پر اللہ کے بندوں کو اذیت سے دوچار کرتی ہیں ۔

صریحاََ حرام ہے‘ ان آئمہ کرام نے اس مو ضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے چائنہ پٹاخوں کے استعمال جیسی عادت بد کے اسیروں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی ہے ‘ادھر ضلعی انتظامیہ اور پولیس اہلکار حسب سابق چائنہ پٹاخوں کی فروخت و استعمال کو روکنے کیلئے اپنی سی کوششیں کر رہے ہیں لیکن یہ کوششیں بروقت شروع نہیں کی گئیں اسلئے خاطر خواہ نتائج کی حامل نظر نہیں آرہیں اور ویسے بھی مذکورہ اہلکاروں کی تگ و دو شہریوں کے تعاون کے بغیر کہاں رنگ لا سکتی ہے اس حوالے سے یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ اہل پشاور میں سے کتنے گھرانوں کے سربراہان اپنے اپنے بچوں کو چائنہ پٹاخے خریدنے اور انھیں استعمال کرنے سے روکتے ہیں ؟ بہت سے تو ایسے بھی ہیں جو خود اپنے بچوں کو یہ سامان لا لا کر دیتے ہیں‘ان سب نے کبھی اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کے بارے میں سوچا ؟مساجد کے آئمہ کرام کی جس اظہار خیال کا اس تحریر میں حوالہ دیا گیا ہے اس میں خصوصی طور پر اپیلیں کی گئیں کہ ہر گھرانے کا سربراہ اپنے اہل خانہ کو پٹاخوں کے استعمال سے باز رکھنے کیلئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے لیکن شاید زیادہ ترسامعین اس وعظ و نصیحت کوایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال د یتے ہیں جبھی اس مکروہ فعل کی انجام دہی بدستور جاری ہے‘ایسے میں دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ باری تعالیٰ ہر کسی کو اس مسئلے کے حل سے متعلق ذمہ داریوں کا احساس کرنے اور ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کا فرض نبھا نے کی توفیق عطا فرمائے ۔