92

اعزازات بمقابلہ اقتصاداری

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ایک خاتون وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز ہوئی ہیں اگرچہ ڈاکٹر شمشاد اختر کیلئے یہ واحد اعزاز نہیں بلکہ وہ اس سے پہلے سٹیٹ بینک میں بطور گورنر تعینات رہ چکی ہیں‘ جو اپنی جگہ ذمہ دار اور نہایت ہی اہم عہدہ ہے۔ پاکستان کی مالیاتی صنعت میں ڈاکٹر شمشاد کا نام پہلی مرتبہ سال دوہزار پانچ کے آخر میں اسوقت سامنے آیا جب پرویز مشرف کے دور حکومت میں ڈاکٹر عشرت حسین کی بطور گورنر سٹیٹ بینک دوسری مدت ملازمت ختم ہوئی‘پرویز مشرف نے انہیں تیسری مدت کے لئے بھی اس عہدے کی پیشکش کی اور قانون میں تبدیلی کا عندیہ بھی دیا مگر ڈاکٹر عشرت حسین نے معذرت کرلی‘جسکے بعد مشرف حکومت کی نظر انتخاب اسوقت ایشیائی ترقیاتی بینک کی ڈائریکٹر ڈاکٹر شمشاد اختر پر جا ٹھہری‘اس سے قبل ڈاکٹر شمشاد کو پاکستان میں بہت کم لوگ ہی جانتے تھے‘ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز سول سروس کے ذریعے کیا بعدازاں عالمی بینک کے پاکستان آفس میں ملازم ہوئیں تو دس سال تک وہیں خدمات سرانجام دیتی رہیں‘اسکے بعد 1990 میں ایشیائی ترقیاتی بینک میں ملازمت اختیار کی اور سال دوہزار چار میں انہیں ڈائریکٹر برائے جنوب مشرقی ایشیاء تعینات کر دیا گیا۔ پاکستان کی مالیاتی صنعت میں خواتین کا کردار‘ زیادہ نمایاں نہیں‘اسی لئے ڈاکٹر شمشاد کو قیام پاکستان کے اٹھاون سال بعد پہلی خاتون گورنر سٹیٹ بینک ہونے کا اعزاز حاصل ہوا اور بطور گورنر سٹیٹ بینک انہوں نے چند نہایت ہی سخت فیصلے بھی کئے۔

قومی مالیاتی اور زرمبادلہ پالیسیوں کے ساتھ حکومتی قرضوں کے حجم پر انکی کڑی تنقید اور حکومتی و کاروباری حلقوں کی شدید مخالفت کے باوجود وہ اپنی سخت گیر مانیٹری پالیسی پر کاربند رہیں اس دور میں سٹیٹ بینک سال میں دو مرتبہ پالیسی ریٹ کا تعین کرنے کیلئے مانیٹری پالیسی جاری کرتا تھا‘سال 2008ء میں شمشاد اختر نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر مئی اور نومبر میں عبوری مانیٹری پالیسی جاری کردی جس میں حکومت کے سٹیٹ بینک سے قرض لینے‘ تیزی سے گرتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر‘ بینکوں کی جانب سے حکومت کو قرض دینے سے گریز اور عالمی سطح پر کموڈیٹیز کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنایا گیا اور بنیادی شرح سود کو پندرہ فیصد کردیا گیا‘ڈاکٹر شمشاد اختر نے معیشت کے بارے میں آگاہی پھیلانے کیلئے کئی گھنٹوں تک طویل میڈیا بریفنگز کا اہتمام کیا اور کھل کر حکومت کی مالیاتی پالیسی پر تنقیدی پیرائے میں روشنی ڈالی‘ انہوں نے حکومتی دباؤ کے باوجود اصلاحات کا عمل جاری رکھا‘ڈاکٹر شمشاد نے برطانوی ادارے برائے بیرونی ترقی کے تعاون سے فنانشل انکلوژن پروگرام شروع کیا‘ جسکے تحت عوام اور کاروباری طبقات کیلئے کشش فراہم کی گئی تاکہ وہ بینکاری نظام سے زیادہ استفادہ کریں اِس سلسلے میں برانچ لیس بینکاری‘ موبائل بینکاری اور الیکٹرانک بینکاری نظام کو فروغ دینے میں مدد ملی اور جدید بینکاری کے یہ پروگرام آج بھی جاری ہیں۔

اب جبکہ پاکستان کو سال دوہزار آٹھ جیسے ہی معاشی حالات اور ادائیگیوں کے عدم توازن کے علاوہ حکومت کو مالیاتی شعبے میں بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے تو ایسے میں نگران وزیر خزانہ ہی سہی شمشاد اختر کی شخصیت اہم اور کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں‘ خصوصاً ٹیکس وصولی نظام کے حوالے سے اچھے فیصلے کرنے میں انکی صلاحیت شک و شبے سے بالاتر ہے‘ بطور نگران وزیرخزانہ‘ ڈاکٹر شمشاد اختر نے عہدے کا حلف لینے کے فوری بعد ہی وفاقی ادارہ محصولات کے اہم افسران کیساتھ ملاقات کی‘ جس میں ٹیکسوں کی وصولی کی موجودہ صورتحال کے علاوہ سابقہ حکومتوں کی اعلان کردہ ایمنسٹی سکیموں کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیاگیا اور انہوں نے افسران کو ماضی کی ٹیکس ایمنسٹی سکیموں سے حکومت کو ہونیوالے فائدے پر تجزیاتی رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا ہے‘ جسکے مرتب ہونے کے بعد معلوم ہو جائیگا کہ اس قسم کی حکمت عملیوں سے پاکستان کو زیادہ فائدہ ہوا یا سرمایہ داروں کو۔ سردست پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے علاوہ عالمی سطح پر ساکھ کے مسائل کا سامنا ہے جس میں ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ میں شمولیت اور پاکستانی بینکوں کے خلاف عالمی نگرانی سے پیدا ہونیوالی صورتحال شامل ہے‘ اِن پیچیدہ اور گھمبیر مسائل کے حل سے متعلق ڈاکٹر شمشاد جہاں اپنا علم و تجربہ بروئے کار لا سکتی ہیں‘ وہیں ان کا عالمی اثرورسوخ بھی پاکستان کے حق میں بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔