285

آبی ذخائر پر ریمارکس

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کے گزشتہ روز کے ریمارکس میں جہاں وطن عزیز میں پانی کی قلت کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کیلئے اقدامات کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے وہیں آبی آخائر سے متعلق فیصلے اتفاق رائے سے کرنے کا عزم ظاہر ہوتا ہے چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس میں کہا کہ اب سپریم کورٹ ڈیم بنانے سے متعلق آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریگی اسکے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایسا کوئی حکم نہیں دیا جائیگا جوکسی صوبہ کے خلاف ہو ہم توڑنے کیلئے نہیں جوڑنے کیلئے بیٹھے ہیں وہ یہ استفسار بھی کرتے ہیں کہ 4بھائی اگر متفق نہیں تو متبادل کیا ہے وطن عزیز میں یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنیوالی حکومتوں نے توانائی بحران‘ بنجراراضی‘ پانی کے ضیاع جیسے سنگین مسئلے پر آنکھیں بند رکھیں سیاسی قیادت آپس کے اختلافات میں اتنا الجھی رہی ہے کہ کسی بھی مرحلے پر قلت آب جیسے ایشو پر اکٹھا ہو کر بیٹھنے کی کوئی سعی نہیں کی گئی اس ضمن میں سنگین خطرات کے حوالے سے عالمی اداروں کی رپورٹس بھی آتی رہیں شہری بھاری یوٹیلٹی بل ادا کرنے کے باوجود لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے انڈسٹری کو مہنگی بجلی ملتی رہی جسکا اثر پروڈکشن کاسٹ پر بھی پڑا اور مہنگائی کا گراف بڑھتا ہی جارہا ہے ہمارے پاس اپنی اراضی بنجر رہی اور زرعی اجناس درآمد کرنے پر امپورٹ بل بڑھتا گیا اس ساری چشم پوشی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم اس مقام پر آپہنچے ہیں کہ جہاں عالمی ادارے سنگین صورتحال کی نشاندہی کرنے کیساتھ ڈیڈ لائن دے رہے ہیں۔

صورتحال کا تقاضا تو یہ تھا کہ بہت عرصہ پہلے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اس ضمن میں موثر پلاننگ کی جاتی قومی اہمیت کے فیصلوں میں اگر کسی جانب سے کوئی تحفظات اور خدشات آبھی جاتے ہیں تو ان پر مل بیٹھ کربات ہو سکتی ہے قبائلی علاقوں میں اصلاحات اور فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کا کیس مثال ہے جس پر طویل وقت ضائع کرنے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ ہونے کیساتھ ہی بات چیت بھی ہوگئی اور منتخب ایوانوں نے منظوری بھی دے دی ملک میں پانی کی قلت بھی ایک سنگین مسئلہ ہے اس پر بھی اگر بات چیت کا راستہ اختیار کرلیا جاتا تو آج نوبت یہاں تک نہ پہنچتی‘بعدازخرابی بسیار سہی اب وقت آگیا ہے کہ ہماری قومی قیادت اس ضمن میں ذمہ داریوں کا احساس کرے اور اتفاق رائے سے فیصلے کئے جائیں۔

تفریح گاہوں کا تحفظ؟

نگران وزیراعلیٰ جسٹس(ر) دوست محمد خان نے صوبے کے تمام پارکس میں چلنے والے جھولوں کیلئے فٹنس ٹیسٹ لازمی قرار دیدیا ہے‘ تفریحی پارکس میں جھولوں کیلئے ڈپٹی کمشنر کا این او سی بھی لازمی کر دیا گیا ہے نگران وزیر اعلیٰ کا فیصلہ انتہائی قابل اطمینان ہے اس کیساتھ دور دراز علاقوں میں لگی چیئرلفٹس کی فٹنس بھی وقتاً فوقتاً چیک ہونا ضروری ہے اس سب کیساتھ تفریح گاہوں اور سبزہ زاروں کی حالت بہتر بنانے یہاں کے ماحول کو فیمیلز کیلئے موزوں بنانے کیساتھ پارکنگ کے انتظام کی ضرورت بھی ہے ضرورت تفریح گاہوں میں داخلے‘ پارکنگ‘ جھولوں اور کھانے پینے کی اشیاء کے ریٹس کو قابو میں رکھنے کی بھی ہے تاکہ غریب اور متوسط طبقے کیلئے بھی تفریح کے مواقع میسر آسکیں صوبائی دارالحکومت میں قدیم باغات کی حالت بہتر بنانے کیلئے ایک جامع پیکج ضروری ہے اسکے ساتھ جی ٹی روڈ پر نئی تفریح گاہ بھی ناگزیر ہے اس وقت چڑیا گھر سمیت حیات آباد کی تفریح گاہیں بھی جمرود روڈ کی سائیڈ پر ہیں۔