227

روپے کی بے قدری آئی ایم ایف کے پاس جانے کا اشارہ ؟

کراچی:انٹربینک مارکیٹ میں منگل کوابتدائی کاروباری اوقات کے دوران امریکی ڈالر کی اونچی اڑان اورروپے کی بے قدری کا سلسلہ جاری رہا جس سے ایک موقع پرروپے کی نسبت امریکی ڈالر کی قدر85 پیسے کے اضافے سے 120.75 روپے کی سطح پر پہنچ گئی تھی لیکن انٹربینک مارکیٹ میں اختتام پرامریکی ڈالر کی قدرحیرت انگیز طور پر15 پیسے کی کمی سے119.75 روپے پر آگیا۔

اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی امریکی ڈالر کی قدر50 پیسے کی کمی سے121 روپے پر آگیا، دیگراہم غیرملکی کرنسیوں میں یوروکرنسی کی قدر50 پیسے کے اضافے سے142.50 روپے اور برطانوی پائونڈ کی قدر1 روپے کے اضافے سے162.50 روپے ہوگئی۔ واضح رہے کہ پیر کو انٹربینک مارکیٹ میں بھونچال اور غیراعلانیہ ڈی ویلیوایشن کے بعد منگل کو دوسرے دن بھی انٹربینک مارکیٹ میں غیریقینی صورتحال غالب رہی اورڈالرکی تیزرفتار پرواز کے خطرات منڈلاتے رہے، منگل کوانٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر ڈالرمیں 67 پیسے کا اضافہ ہوا۔

جس کے بعد کچھ ریکوری ہوئی اور ڈالر 54 پیسے نیچے آگیا لیکن پھر ڈالر کی قیمت بڑھی اور 85 پیسے اضافے کے ساتھ 120 روپے 75 پیسے پر پہنچ گئی، اس طرح سے پورا دن انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر لمحہ بہ لمحہ اتارچڑھائو کا شکار رہی جس سے تمام شعبوں کے درآمدکنندگان میں زبردست مایوسی نظر آئی۔ ماہرینِ کاکہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں اضافے کی اصل وجہ گزشتہ حکومت کی پالیسیاں تھیں جن کی وجہ سے پاکستان کی درآمدات اور برآمدات میں ریکارڈ فرق دیکھا جا رہا ہے، بڑھتا تجارتی خسارہ اور گرتے زرمبادلہ ذخائربھی پاکستانی روپے کی بے قدری کا باعث ہیں۔

تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ نگراں دورحکومت میں روپے کی قدر میں یکایک گراوٹ اس بات کا اشارہ ہے کہ نئے قرضوں کے حصول کے لیے آئی ایم ایف سمیت بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے دوبارہ رجوع کیا جا رہا ہے اور ان کی شرائط کو پورا کرنے کی غرض سے پاکستانی روپے کی قدر میں مطلوبہ نوعیت کی کمی کی جا رہی ہے، اوپن کرنسی مارکیٹ میں پھیلنے والی منفی افواہوں کی وجہ سے منگل کوکاروبار کے ابتدائی 4 گھنٹے تک امریکی ڈالر کی فروخت بند رہی لیکن خریداری جاری رہی، امریکی ڈالر کی قدر میں تیز رفتاری کے ساتھ اضافے کو جانچتے ہوئے لوگوں نے ہولڈ شدہ امریکی ڈالر کی فروخت روک دی ہیں اور انکی کوشش ہے کہ کسی طرح وہ مزید ڈالر خریدکر اپنے سرمائے کو محفوظ بنائیں۔