120

5 لگژری ہوٹلوں میں ہونے والی تاریخی ملاقاتوں اور واقعات کی داستان

دنیا کے نامور رہنماؤں کی تاریخی ملاقاتیں اور ان میں دنیا کو بدل دینے والے اہم ترین فیصلے لگژری ہوٹلوں میں کیے گئے۔

شنگھائی میں نکسن ماؤ ملاقات ہو، تخلیق پاکستان کے لیے گاندھی، نہرو، جناح اور ماؤنٹ بیٹن کے تبادلہ خیال کی بیٹھک ہو یا دوسری جنگ عظیم میں ہانگ کانگ کے گورنر کے ہتھیار ڈالنے کا واقعہ، یہ تمام تاریخی لمحات انتہائی پُرتعیش ہوٹلوں میں پیش آئے۔

اور اب حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جانگ ان کی تاریخی ملاقات بھی سنگاپور کے لگژری ہوٹل کیپیلا میں ہوئی۔

تاریخی ملاقاتوں کا مرکز بننے والے پانچ لگژری ہوٹل ایسے ہیں جو آج بھی جم کر کاروبار کر رہے ہیں۔

آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں:

سنگاپور کا کیپیلا ہوٹل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے سنگاپور کے تفریحی مقام سینٹوسا آئی لینڈ کے انتہائی لگژری ہوٹل کیپیلا (capella) میں ایک دوسرے کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔

اس پُرتعیش ہوٹل کا انتخاب سیکیورٹی کے سبب کیا گیا تھا۔

ہوٹل کی مالک کیوی فیملی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور کم کی تاریخی ملاقات سے منسلک ہونے پر ان کا ہوٹل تاریخی اہمیت اختیار کر جائے گا اور یہ ان کے بزنس کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا۔

نئی دہلی کا امپیریل ہوٹل

بھارت کے آخری برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے 1947 میں قیام پاکستان کے لیے مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور محمد علی جناح کے ساتھ اہم ملاقاتیں نئی دہلی کے لگژری ہوٹل امپیریل میں کیں۔

برطانوی راج کے آخری دور میں کوئینزوے (موجودہ جنپتھ روڈ) پر قائم امپیریل ہوٹل کو شاہانہ طرز پر تعمیر کیا گیا۔ 

اس ہوٹل کی سفید عمارت تاج محل کی طرح ہے، جو چاندنی میں اور بھی حسین دکھائی دیتی ہے۔

مراکش کا لگژری ہوٹل لامامونیا

لامامونیا، برطانیہ کے سب سے مقبول وزیراعظم سرونسٹن چرچل کا پسندیدہ ترین ہوٹل تھا۔

 ہوٹل سے اپنی اہلیہ کو خط میں چرچل نے لکھا تھا کہ یہ ایک حیرت انگیز مقام ہے اور انھوں نے اپنی زندگی میں اس سے بہتر کسی ہوٹل میں قیام نہیں کیا۔

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے منعقدہ کاسابلانکا کانفرنس کے بعد 1943 میں چرچل نے امریکی صدر فرینکلین روز ویلٹ سے بھی اس ہوٹل کے دورے پر اصرار کیا تھا۔

ہانگ کانگ کا مشہور دی پیننسولا ہوٹل

ہانگ کانگ کے مشہور دی پیننسولا ہوٹل کی تیسری منزل وہ مقام ہےجہاں ہانگ کانگ کے برطانوی گورنر، سر مارک ینگ نے 1941 میں کرسمس کے دن جاپانی فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈالے۔

جاپانی فوجیوں نے گورنر سرمارک ینگ کو تائیوان بھیجنے سے پہلے اس ہوٹل کے کمرہ نمبر 336 میں بند رکھا تھا۔

شنگھائی کا ہوٹل جنجیانگ

شنگھائی کے ہوٹل جنجیانگ نے چین کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس ہوٹل میں 1972 میں امریکی صدر نکسن نے چینی رہنما کے ساتھ شنگھائی اعلامیے پر دستخط کیے تھے۔ یہ اعلامیہ امریکا اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی طرف پہلا قدم قرار دیا جاتا ہے۔

لندن کا کلیئرج ہوٹل

لندن کا کلیئرج ہوٹل بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے، ایک گھر سے شروع ہونے والا یہ شاندار ہوٹل 1854 میں پانچ عمارتوں کی شمولیت کے ساتھ سیاسی وسماجی رہنماؤں اور یورپین بادشاہوں کا پسندیدہ مقام بن گیا۔

یونان، ناروے اور یوگوسلاویہ کے بادشاہ اسی ہوٹل میں پناہ گزین ہوئے اور ہوٹل کے سوئٹ 212 کو یوگوسلاوین علاقہ قراردیا گیا۔

بعد میں معروف سیلبرٹیز کیری گرانٹ، آڈرے ییپبرن اور جیکی اوناسس نے بھی اس ہوٹل میں قیام کرکے اس کی تاریخی اہمیت کو بڑھا دیا۔