501

انتخابات 2018؛ 2 ہزار368 امیدوار مختلف محکموں کے نادہندہ نکلے

 اسلام آباد: ملک بھر میں انتخابی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال جاری ہے اور اس دوران 2 ہزار 368 امیدوار مختلف محکموں کے نادہندہ نکلے ہیں۔

 ملک بھر میں ریٹرننگ افسران کی جانب سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ اسٹیٹ بینک، پی ٹی سی ایل اور ایس این جی پی ایل نے نادہندہ امیدواروں کی فہرستیں الیکشن کمیشن کو بھجوانا شروع کردی ہیں۔ تینوں سرکاری اداروں کی طرف سے اب تک 2 ہزار368 نادہندہ امیدواروں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو مل چکی ہیں، الیکشن کمیشن نے متعلقہ تفصیلات ریٹرننگ افسران کو بھیج دی ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے حنا ربانی کھر، فیصل واڈا، اسد اللہ بھٹو، میاں منظوروٹواورعبدالستار بچانی کو بینکوں کا ڈیفالٹر قرار دیا ہے۔ قانون کے مطابق 20  لاکھ روپے سے زائد کا مقروض الیکشن نہیں لڑ سکتا۔ اسی طرح پی ٹی سی ایل کی طرف سے 2 ہزار امیدواروں کو ڈیفالٹر قرار دیا گیا۔ ان میں مراد سعید، فیصل کریم کنڈی،عبدالعلیم خان، منظور وٹو، رانا مشہود، یاسمین راشد، عظمیٰ بخاری، بلال یاسین، سرفرازبگٹی، رانا تنویر، رانا افضال، میر ظفر اللہ جمالی، گلوکار جواد احمد ،حنیف عباسی اوراعجاز چوہدری شامل ہیں۔

سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے 268 ڈیفالٹر امیدواروں کی تفصیل الیکشن کمیشن کو بھجوائی ہے۔ قانون کے مطابق 10 ہزار روپے سے زائد کا نادہندہ الیکشن نہیں لڑ سکتا۔ تحریک انصاف کے پرویز خٹک 10 کروڑ65  لاکھ، اے این پی کے غلام احمد بلور 14 کروڑ 86 لاکھ، ن لیگ کی تہمینہ دولتانہ 10 لاکھ 57 ہزار، این اے اٹھارہ سے حاجی دلدار خان 17 کروڑ، تحریک انصاف کے راجا راشد حفیظ 74 لاکھ، سمیع حسن گیلانی 79 لاکھ روپے کے نادہندہ نکلے جب کہ پنجاب اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید ،حامد سعید کاظمی،غلام رسول کوریجا اور دیگر بھی نادہندہ ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے الیکشن کمیشن کو اسٹیٹ بینک کی طرف سے باقی ڈیفالٹرز کے نام بھی جلد مل جائیں گے جبکہ دہری شہریت کے متعلق امیدواروں کی تفصیل ایف آئی اے آج شام تک پہنچا دے گی۔