211

پٹرولیم مصنوعات مہنگی‘ روپے کی قدر میں کمی

انتخابی گرما گرمی‘ ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات‘ احتساب بیورو کی انکوائریوں اور بڑے مقدمات سے متعلق خبروں سے حدت پاتے ماحول میں پٹرولیم مصنوعات مہنگی جبکہ روپے کی قدر کم ہوگئی مہیا تفصیلات کے مطابق پٹرول4 روپے26 پیسے جبکہ ڈیزل6.55 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوگیا ہے عین اسی روز جب نگران حکومت پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کا اعلان کر رہی تھی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں ایک بار پھر اضافہ نوٹ ہوا میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹربینک میں ڈالر کی قدر6 روپے مزید بڑھنے پر121 روپے50 پیسے تک پہنچ گئی فاریکس ایسوسی ایشن کاروباری ہفتے کے پہلے دن ڈالر کے ریٹ کو انٹربینک مارکیٹ میں بھونچال قرار دے رہی ہے خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق برطانوی پاؤنڈ اور یورو کی قدر میں بھی اضافہ ہوا ہے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ نگران حکومت کی جانب سے قیمتوں میں ردوبدل نہ کرنے کے اعلان کی سیاہی خشک ہونے سے قبل ہی ہوگیا ہے اس اضافے کے مارکیٹ پر اثرات میں گرانی کے بوجھ تلے دبے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔

عید سے قبل اپنے شہروں کو جانے والے مسافروں کو گھر سے نکلتے ہی اضافی چارجز دینا ہونگے یہ چارجز حسب سابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونیوالے اضافے کی نسبت زیادہ ہی ہونگے عید کے موقع پر ویسے بھی ہمیشہ کرایوں میں خودساختہ اضافہ ہونیکی روایت چلی آرہی ہے ہمارے ہاں پروڈکشن کاسٹ میں کمی کا فائدہ بجلی صارف کے علاوہ کسی کو نہیں ملتا تاہم اس کا گراف اوپر جانے پر مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوجاتا ہے وطن عزیز کی معیشت اس وقت بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہے اس افسوسناک مرحلہ پر ڈالر کی قدر میں اضافہ مرے ہوئے کو مارنے کے مترادف ہے حکومت منتخب ہو یا نگران ضرورت معیشت کے استحکام‘ بیرونی قرضوں سے نجات‘ تجارتی خسارے میں کمی‘ سرمایہ کاری بڑھانے‘ توانائی بحران پر قابو پانے اور مارکیٹ کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اولین ترجیح ہونی چاہئے سپریم کورٹ نے گزشتہ روز اسی صورتحال کے تناظر میں معیشت کے حوالے سے تھنک ٹینک بنانے کی ہدایت کی ہے۔

فیلڈ دورہ؟

نگران وزیر اعلیٰ جسٹس(ر) دوست محمد خان نے ذمہ دار حکام کو باقاعدگی کیساتھ فیلڈ کا دورہ کرنے اور عوامی شکایات کا نوٹس لینے کی ہدایت کی ہے کیئرٹیکر وزیر اعلیٰ نے ماحول کو درپیش بعض سنگین خطرات سے نمٹنے کیلئے اقدامات کا حکم بھی دیا ہے ہمارے ہاں یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنیوالی حکومتوں نے مختلف شعبوں میں اصلاحات کے حوالے سے متعدد اعلانات کئے ہیں بعض قاعدے قانون بھی ترتیب دیئے گئے تاہم نہ تو اس ایکسرسائز میں ارضی حقائق کا ادراک کیا گیا نہ ہی تکنیکی مہارت حاصل کی گئی اس سب کیساتھ عملدرآمد کا ہمیشہ فقدان ہی رہا اس ساری بیماری کی وجہ فیلڈ میں جاکر صورتحال کا ازخود جائزہ نہ لینا ہے صرف آن سپاٹ جائزہ سے گریز بہت سارے حکومتی اقدامات و بے اثر کرکے رکھ دیتا ہے ذمہ دار حکام کو نہ صرف دوروں بلکہ انکی باقاعدہ رپورٹس دینے کا پابند بنانا بھی ضروری ہے۔