214

’’ پاکستان‘‘ کو ووٹ دو

71 سالہ پاکستان اپنے وجود پر21کروڑ سے زائد نفوس کا بوجھ سہارے ایک بار پھر سہانے مستقبل کے سپنے بُن رہا ہے۔امیدوں اور آرزوؤں سے مرصع خواب تو پاک سر زمین نے 14اگست 1947ہی سے دیکھنے شروع کر دئیے تھے۔ اُسی رات سے جس رات اِس نے آزادی کا ہار گلے میں پہنا اور پاک و صاف لوگوں کی آماجگاہ کہلائی ۔اُسی رات سے جب برصغیر کے لاکھوں باشندوں نے اِسے مادر وطن کا اعزاز بخشا اور اپنا مستقبل اِس سے جوڑا ۔ اُسی رات سے جب اِس کے حصول کیلئے جانوں ،جائیدادادوں اور آبروؤں کی قربانیاں دینے والوں نے ہندوستان کے دور دراز علاقوں سے اِس کی جانب رخت سفر باندھا۔اتنے سارے اعزازات کے فخر نے توقعات و خواہشات کے بلند و بالا محل تعمیر کرنے ہی تھے سو اُمنگوں اور ارمانوں کے زیر بار سر زمین پاک نے بڑے یقین کے ساتھ خوابوں کی تعبیر کی جانب سفر کا آغاز کیا تاہم تعبیر کے اس قدر طویل انتظار نے اسے نڈھال کر دیا ہے ۔ ہر مرتبہ اقتدار کی تبدیلی کا موقع اِس سرزمین کیلئے امیدوں اور آرزوءں سے سجے جذبات لیے وارد ہوا۔ انھی جذبات کی رو میں کبھی یہ آمروں کی بادشاہت جھیلنے کو تیار ہو ئی تو کبھی آغوش جمہوریت کے پروردہ حکمرانوں کے اختیارکو،لیکن اسکی خواہشات یقین کی منزل تک پہنچنے کے بجائے خلش بن بن کر راستے ہی میں دم توڑتی رہیں،ہاں ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جمہوریت جسے اس مملکت خداد کی ناتوانی کا علاج بتایا جاتاہے پچھلے دس سال سے بحال تو ہے لیکن اسے متعددچیلنجز اور اس قدرمرئی و غیر مرئی دباؤ کا سامنا ہے کہ دواکو صحیح معنوں میں اثرکرنے کا موقع ہی نہیں مل رہا ۔ بہر حال پاکستان نے اپنے ارمانوں کے بدن پر پڑی مایوسی کی گرد جھاڑ کر ایک بار پھر انھیں سجایا ہے ۔

25جولائی 2018ء کے دن سے آس لگائی ہے۔یہ آس کہ اس مرتبہ اس کے طول و عرض، اس کی بلندیوں اور گہرائیوں پر اختیار قائم ہو تو ایسے مختاروں کاجن کے جذبے وطن پرستی کی لذتوں سے آشنا ہوں،جن کے حوصلے قومی سلامتی، خود مختاری اورعزت و وقار کے راستے میں کھڑے ہر پہاڑ سے ٹکرا جانے کی استطاعت رکھتے ہوں،جن کی ہمت بد عنوانی،نا انصافی اور اقربا پروری جیسے عفریتوں کو پسپائی پر مجبور کر سکتی ہو،جن کے ہاتھ قومی وسائل کے حصول اور انکی بہ امانت منتقلی کافریضہ سرانجام دینے کے اہل ہوں، جن کی خودی مصلحتوں اور مجبوریوں کو زیر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو اورجن کی سوچ دیانت ،قناعت ،صداقت اور حق پرستی سے عبارت ہو۔اگر اختیار کا تاج اس مرتبہ ایسے نفوس کے سروں پر سجا دیا گیاجو مادی خواہشات کا اسیرہیں جن کے دل دھڑکتے ہیں تو نفع ونقصان اور سود وزیاں کے احساس کے زیر اثر‘ تڑپتے ہیں تو عیش وعشرت چھن جانے کے ڈر سے ،ڈوبتے ہیں تو شان وشوکت اور ٹھاٹھ باٹھ سے محرومی کے خوف سے اورسکون پاتے ہیں تو سیم وزر کے ذخائر کو پھلتا پھولتا دیکھ کر۔ جن کی سوچ نہ وطن پرستی کی رمق کو اپنی حدود میں سمیٹ سکتی ہے نہ انسانیت و آدمیت کو۔ جن کے ذہن خود غرضانہ منصوبہ بندیوں کے اسیرہیں‘ جواپنی نام نہاد بلندیوں کا سفر جُھک جُھک اور بِک بِک کر طے کرنے پے یقین رکھتے ہیں،۔

جن کے ہاتھ تخلیق کی قدرت سے عاری اور تخریب کے ہنر سے مالامال ہیں اورجن کی روح بے خبری‘ بے اثری‘ بے ثمری اور بے فیضی کی تصویرہے تو سرزمین پاک کی آرزوئیں پھر سے خاک میں مل جائیں گی۔ اگر حق رائے دہی کی ادائیگی کے پیمانے وہی رہے کہ، کوئی صرف ذات برادری کو ووٹ دینے نکلاتو کوئی محض تعلق داری اور پارٹی وابستگی کو،کسی نے فقط وڈیرے جاگیردار کا حق نمک ادا کرنے کی ٹھانی تو کسی نے صرف روزگار عطیہ کرنے والے کو خوش کرنے کی ، کوئی کسی اپنے کے مجبور کرنے پر گھر سے نکلا اور کسی نے پولنگ سٹیشنز کا رُخ کرنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی تویہ صورت سر زمین پاک کی نئی امیدوں کا خون کرڈالے گی ۔اگر پاکستان کے خوابوں کوتعبیر کی منزل کا راستہ دکھانا ہے تو نہ صرف یہ کہ ہر رائے دہندہ کوادائیگی فرض کیلئے بیلٹ پیپر تک رسائی حاصل کرنی ہو گی بلکہ ہر پیمانے سے بالاتر سوچ کر صرف ’’پاکستان‘‘ کو ووٹ دینا ہو گا۔