229

ایک ووٹ کا سوال!

یوانوں تک پہنچنے کیلئے ایک مرتبہ پھر عوام کے ووٹ کی ضرورت پڑ گئی ہے! ’گدھے کے سر سے سینگ‘ کی طرح غائب رہنے والے پھر سے نمودار ہوئے ہیں۔ جب حکومت میں تھے تو اپنے اور عوام کے درمیان سیکورٹی کے حصار رکھتے تھے۔ آگے پیچھے گاڑیوں کی قطاریں رکھنے والے عوام سے گھل مل رہے ہیں۔ اب تو کسی کی جان کو خطرہ نہیں۔ یہ مرحلہ ووٹ دینے سے قبل خود سے چند سوالات پوچھنے کا ہے ’سیاسی مفاد پرستوں‘ کو آئینہ دکھانے سے پہلے عام آدمی (ہم عوام) کو اپنے قول و فعل کا جائزہ لینا چاہئے۔ ’’وجۂ ناکامئ وفا کیا ہے ۔۔۔ آپ سے آخری سوال ہے یہ (حباب ترمذی)۔‘‘پہلا سوال: ماضی میں کسے ووٹ دیا اور جن وعدوں پر یقین کرکے ووٹ دیا گیا تھا‘ کیا وہ پورے ہوئے؟ اس حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ یکسو ہو کر سوچا جائے کہ جو نمائندے گزشتہ عام انتخابات میں قانون ساز ایوانوں تک پہنچے لیکن اُنہوں نے انتخابی وعدوں کو ایفاء کرنے کی ضرورت محسوس کی یا نہیں۔ انتخابی اُمیدواروں کے ماضی کو فراموش کرنے والوں کے لئے ’25 جولائی (متوقع عام انتخابات)‘ایک نادر موقع ہے کہ غلطیوں کا ازالہ (تلافی) کی جائے۔ ووٹ کا حقدار وہی ہونا چاہئے جس کا دُکھ سکھ‘ خوشی‘ غم اُور رہن سہن‘ عوام کے ساتھ مطابقت نہ سہی کم سے کم مشابہت تو ضرور رکھتا ہو۔ جن منتخب نمائندوں نے اقتدار و اختیارات نہ ہونے کے باوجود اپنی ہمت اور اِستطاعت کے مطابق مسائل کے حل کے لئے کوششیں کیں‘ اُنہیں داد (بصورت ووٹ) ملنا چاہئے لیکن اگر ’وعدہ خلافی‘ کرنے والوں کو ہی ووٹ دیا گیا تو پھر عوام کو مظلومیت اور حق تلفی کی صدائیں لگانے کا حق نہیں رہے گا۔

معاملہ یہ ہے کہ پاکستان میں رہنماؤں‘ وزیروں اور مشیروں نے عوام کو ہر پانچ سال بعد ووٹ ڈالنے کے لئے ’’پال‘‘ رکھا ہے اور عوام بھی ایسے سادہ ہیں کہ ’’پرانے لالی پاپ‘‘ کو نئی پیکنگ میں لے کر ووٹ ڈال دیتے ہیں جبکہ نئی سنہری پیکنگ میں لپٹا ’’لالی پاپ‘‘ کڑوے اور بدمزے پن کا احساس بھی دلا رہا ہوتا ہے لیکن احساس کرتے کرتے بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اور ایک مرتبہ پھر ہاتھ ہو جاتا ہے‘ کیا پھر سے ہاتھ ہونے پر عوام ہاتھ ملتے رہ جائیں گے؟دوسرا سوال: ووٹ کا حقدار کون اور بطور حزب اقتدار یا حزب اختلاف ماضی میں عوامی نمائندوں کا کردار کیا رہا؟ مئی دوہزارتیرہ میں مسلم لیگ (نواز) نے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تحریک انصاف بھی وعدے کرنے میں ثانی نہیں رکھتی جو ’خیبر پختونخوا کو بدل کر رکھنے کے وعدے سے منکر تو نہیں لیکن اِس کی کارکردگی قابل بیان بھی نہیں ہے۔ شہید بھٹو کے نام پر دہائیوں سے سندھ میں برسرِ اقتدار پیپلز پارٹی نے ’’روٹی کپڑے اور مکان‘‘ کے ساتھ ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن 70سال بعد بھی ملک اور عوام ’وہیں کے وہیں‘۔

(خالی ہاتھ) کھڑے ہیں‘ جہاں سے بذریعہ سیاست قومی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے سفر کا آغاز کیا تھا! تیسرا سوال: کیا ایک ووٹ عام آدمی (ہم عوام) اپنے آپ کو نہیں دے سکتے؟ کیا بذریعہ ووٹ اپنے نفس کا اختیار کسی ایسے شخص کو سونپا جائے گا‘ جو اجتماعی مفاد کے لئے فیصلہ سازی کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہو۔ اگر عام آدمی کو اِس بات پر ’یقین بلکہ کامل یقین‘ ہے کہ تبدیلی بذریعہ ووٹ ہی آسکتی ہے تو پھر ووٹ ہر کس و ناکس کی بجائے سوچ سمجھ کر دینے ہی میں دانشمندی ہے۔ بار بار عام انتخابات میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی بجائے اِس مرتبہ اپنا ووٹ کسی ایسے اُمیدوار کو دیجئے‘ جو ووٹ کی عزت و حرمت آشنا ہو۔ جو ووٹ کا وقار ثابت ہو۔ جو ووٹ کے تقدس کا پاسبان ثابت ہو۔ فیصلہ کرنے کیلئے آسان کسوٹی یہی ہے کہ ’دوہزارتیرہ‘ کے عام انتخابات میں‘ جس سیاسی جماعت یا اُمیدوار کو ووٹ دیا گیا‘ اُس کی پانچ سالہ کارکردگی کو دیکھیں۔