113

انصاف کے تقاضے

ایک فریق کہہ رہا ہے اس نے دوسرے فریق کو پیسے دئیے ہیں دوسرا فریق انکاری ہے وہ کہہ رہا ہے اس نے پیسے نہیں لئے‘معاملہ اب ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سامنے ہے اسے اب مزید نہ لٹکایا جائے‘ 1996ء سے اسے گھسیٹا جا رہا ہے اب اس کا فیصلہ لازمی ہونا چاہئے‘دونوں میں ایک جھوٹ بول رہا ہے‘ وہ کون ہے؟ اس کا تعین ہونا ضروری ہے‘ جو لوگ یہ الزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو کا اقتدار میں آنے کا رستہ روکنے کیلئے ان کے سیاسی مخالفین کو آئی جے آئی بنانے کیلئے موٹی رقومات عطا کی تھیں وہ بھی ذمہ دار اشخاص ہیں اور جن افراد کی بابت کہا جا رہا ہے کہ اس مقصد کیلئے ان کی مٹھیاں گرم کی گئیں وہ بھی‘ ویسے تو رشوت دینے اور لینے والا قانون کی نظر میں برابر کے مجرم ہوتے ہیں عدالت عظمیٰ کو اس کیس میں فیصلہ لکھتے وقت یہ بھی واضح کرنا چاہئے کہ آخر اس کیس کو اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کیلئے 22 سال کیوں لگے؟ ائیر مارشل اصغر خان جنہوں نے اس معاملے میں سپریم کورٹ میں رٹ دائر کی تھی وہ بے چارے تو اس فیصلے کا انتظار کرتے کرتے اللہ کو پیارے ہوگئے ‘ کسی نے بالکل سچ کہا ہے کہ اس ملک میں دیوانی نوعیت کے مقدمات فریقین کو دیوانہ کر دیتے ہیں اگر یہ کیس سیاسی مصلحتوں کا شکار نہ ہوتا تو اسے فیصلہ ہونے میں ایک سال سے زیادہ عرصہ بالکل نہیں لگنا چاہئے تھا شاہد آفریدی ویسے تو کرکٹر ہیں پر ان کی یہ بات ہمیں اچھی لگی کہ عدالت عظمیٰ کے حکام ذرا نچلی عدالتوں کی بھی خبر لیں اس میں کوئی شک نہیں کہ حکم امتناعی جسے عرف عام میں سٹے آرڈر کہاجاتا ہے۔

یہ جس کسی کو بھی چپک جائے تو پھر وہ کافی سال تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا یہ درست ہے کہ حکم امتناعی عدالتوں اور فریقین کا حق ہے پر جب حکم امتناعی کا دورانیہ غیر ضروری طورپر طولانی ہوجائے تو پھر وہ قانون کے ساتھ مذاق کرنے کے مترادف ہوتاہے‘اگر عدلیہ کے حکام بالا باریک بینی سے آرڈر شیٹس کو پڑھیں کہ جو ضلعی عدالتوں کے پریزائیڈنگ افسر مقدمات کی تاریخیں بدلنے کیلئے لکھتے ہیں تو آپ یقیناًاس نتیجے پر پہنچیں گے کہ کیسز کی تاریخیں بدلنے کا جو جواز دیا جاتاہے نہایت ہی سبک سر، غیر سنجیدہ‘کم وزن اور بے وقعت ہوتا ہے‘وقت آگیاہے کہ متعلقہ قوانین میں تبدیلی کرکے یہ واضح کر دیا جائے کہ عدالت کا جج اگر اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ کسی ایک فریق یا دونوں فریقین کے وکلاء قصداً مقدمے کی کاروائی میں رخنے ڈالنے یا اسے طولانی کرنے کیلئے مسلسل عدالت سے غیر حاضری کر رہے ہیں تو جج مثل مقدمہ میں موجود ریکارڈ کی بنیاد پر ازخود فوری طورپر مقدمے کا فیصلہ سنا سکتا ہے اسی قسم کی کچھ نہ کچھ ترمیمات قانون میں کرنا ہوں گی بھلے اس کیلئے کسی آرڈی نینس کے اجراء کی ہی ضرورت کیوں نہ پڑے‘ ۔

یہ بات بھی درست ہے کہ ججوں کی تعداد کم ہے اور مقدمات ہیں کہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں پر صرف ججوں کی کمی کو ہی مقدمات کے فیصلوں میں غیر ضروری التواء کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتااگر معمولی معمولی بات پر عدالتوں کے مجاز جوڈیشل افسر پیشی کی تاریخوں کو آگے بڑھانے کی روش ترک کردیں اور وکلاء برادری بھی اسی قسم کے جذبے کا مظاہرہ کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ کوئی مقدمہ طول پکڑے‘ عدلیہ کے بارے میں عوام الناس کا اچھا یا برا امیج ضلعی عدالتوں کی کارکردگی سے بنتا ہے کیونکہ اس ملک کی اکثریت کا براہ راست واسطہ ضلعی سطح کی عدالتوں سے ہی پڑتا ہے ایک ایمان دار‘ دیانت دار‘ متحرک‘ غیر جانبدار جج کی وکیل بھی عزت کرتے ہیں اور مقدمے کے فریقین بھی۔ جج اگر غیر جانبدار نہ ہوگا تو اس صورت میں پھر نہ بار روم میں اس کی عزت ہوگی اور نہ ہی اس سے کوئی ملزم یا مجرم خوف کھائے گا یہ بات اگر ہر کوئی اپنے پلے باندھ لے تو کتناہی بہتر ہو۔