235

بیرون ملک پاکستانی اثاثہ

اکیسویں صدی میں ترقی اور خوشحالی کی بنیاد معلومات پر مبنی اقتصادیات (نالج اکنامی) پر قائم ہے‘ اس کا ثبوت ہم پہلے ہی جاپان‘ کوریا‘ تائیوان‘ سنگاپور وغیرہ کی ترقی کی صورت دیکھ چکے ہیں چین بھی اب اسی راستے پر چل پڑا ہے‘ان میں سے زیادہ تر ممالک نے اپنے اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی اداروں پر بے حد سرمایہ کاری کی ہے اور نوجوان لڑکوں و لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد کو اعلیٰ تعلیم‘ بالخصوص سائنس‘ ٹیکنالوجی‘ انجینئرنگ اور میتھس کی تعلیم کیلئے دوسرے ممالک بھیجا ہے‘ان نوجوان سائنسدانوں نے ٹاپ یونیورسٹیوں میں پڑھا‘ جدید ترین لیبارٹریوں میں کام کیا‘ اپنے شعبوں کے ماہرین کیساتھ مل کر تحقیق کی اور یہ تحقیقات مایہ ناز تحقیقی جریدوں میں شائع کروائیں‘کوریا نے 1980ء کی دہائی میں امریکہ اور یورپ تک مشنز بھیجے تاکہ وہاں موجود کورین سائنسدانوں کو خطیر رقومات کے پیکجز دیکر کوریائی تعلیمی اور تحقیقی اداروں کی جانب راغب کیا جاسکے‘ حال ہی میں چین نے تھاؤزنڈ ٹیلنٹ پروگرام شروع کیا ہے جسکا ہدف وہ چینی شہری ہیں جو امریکہ اور دنیا کی دیگر اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرچکے ہیں‘ملک واپس آنے پر انہیں پرکشش بونس‘ ریسرچ فنڈز کی گارنٹی‘ کافی تعداد میں تکنیکی سٹاف اور اپنے شعبہ مہارت میں نوجوان طلباء کو تربیت دینے کا موقع دیا جاتا ہے‘انہیں رہائش‘ خوراک اور منتقلی پر سبسڈیز دی جاتی ہیں‘ ان کے شریک حیات کو یقینی ملازمت فراہم کی جاتی ہے اور انہیں انکے آبائی علاقوں میں باقاعدگی سے بھیجا جاتا ہے۔

چنانچہ اس میں چنداں حیرت کی بات نہیں کہ چینی کمپنیاں علی بابا اور ٹین سینٹ سائنسی ٹیلنٹ کے سب سے بڑے مراکز بن چکی ہیں‘ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر چین کی سرمایہ کاری 1991ء میں 9 ارب ڈالر سے بڑھ کر 409 ارب ڈالر ہوگئی ہے جو کہ امریکہ کے 485 ارب ڈالر کے قریب ہے‘ چین فی الوقت اپنی مجموعی قومی پیداوار کا دواعشاریہ چار فیصد ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر خرچ کر رہا ہے‘ نیشنل سائنس بورڈ کے مطابق چین اس سال کے اختتام تک امریکہ کو پیچھے چھوڑ دینے کے راستے پر گامزن ہے۔سال دوہزار سولہ میں ایسا پہلی بار ہوا کہ سال بھر میں چین نے امریکہ سے زیادہ سائنسی اشاعتیں کیں‘چین نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سائنسی خدمات انجام دینے والے سائنسدانوں کو بھی اپنی جانب راغب کیا ہے‘یہ ماہرین مقامی سائنسدانوں کے ساتھ علم پیدا کرنے اور بانٹنے میں تعاون کرتے ہیں‘ اسکے مقابلے میں پاکستان میں صورتحال کیا ہے؟ ہمارے پاس اعلیٰ تعلیم یافتہ ٹیلنٹ کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔

‘1989-90ء میں تقریباً سات ہزار دس پاکستانی طلباء امریکی جامعات میں زیر تعلیم تھے جبکہ انکے مقابلے میں بھارتی طلباء کی تعداد چھبیس ہزار دوسو چالیس تھی یعنی 4:1کا تناسب تھا‘سال دوہزار چودہ پندرہ میں یہ فرق حیران کن حد تک بڑھ گیا ہے اور ایک لاکھ بتیس ہزار 888 بھارتی طلباء و طالبات کے مقابلے میں اب صرف پانچ ہزار سے کچھ زیادہ پاکستانی طلباء امریکہ میں زیرتعلیم ہیں یعنی 25:1کا تناسب ہے زیادہ تر بھارتی طلباء صف اول کی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں‘بھارت سے تعلق رکھنے والے اساتذہ اور ریسرچ سائنسدانوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جبکہ انکے مقابلے میں پاکستانی صرف انگلیوں پر شمار کئے جا سکتے ہیں امریکہ کی ٹاپ ٹین بزنس یونیورسٹیوں میں بھارت سے تعلق رکھنے والے ڈھائی سو اساتذہ خدمات سرانجام دے رہے تھے جبکہ پاکستان کی نمائندگی صرف چار نوجوان خواتین کر رہی ہیں بیرونِ ملک سے ٹیلنٹ کو پاکستان لانے کیلئے چین اور کوریا کی مثال پر عمل کیا جاسکتا ہے اور انہیں وقت‘ معاوضے‘ مراعات‘ وسائل اور کام کرنے کیلئے موافق ماحول فراہم کیا جانا چاہئے تنخواہوں کا ہمارا یکساں پے سکیل بیرون ملک مقیم ٹیلنٹ کی پاکستان واپسی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے‘ یہ تنخواہیں تخلیقی ذہنیت کے بجائے اوسط درجے پر رہنے کو فروغ دیتی ہیں۔

یہاں تک کہ وہ لوگ جو واپس آنیکی ہمت کر بھی لیں تو ایک سخت معاندانہ ماحول انکا منتظر ہوتا ہے جس میں یونیورسٹیوں کے اعلیٰ عہدوں پر براجمان عہدیدار ان کی زندگیاں اس قدر مشکل بنا دیتے ہیں کہ یا تو وہ لائن پر آ جائیں یا پھر واپس چلے جائیں‘بھرتی اور ترقی کے زمانہ قدیم کے قواعد سروس کے دورانیے‘ سینیارٹی اور ریسرچ پیپرز کی تعداد پر منحصر ہوتے ہیں‘ بجائے ریسرچ پیپرز کے معیار پر‘یہ سب چیزیں مثالی کارکردگی دکھانے اور بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے میں رکاوٹ ہیں‘میں وائس چانسلروں کے انتخاب کی کئی سرچ کمیٹیوں کا رکن رہا ہوں اور میرا تجربہ بتاتا ہے کہ ہم کس قدر تنگ نظر‘ کوتاہ بین اور خود پسند ہوچکے ہیں‘باہر رہنے والوں کو تو چھوڑیں‘ اپنے ہی ملک کے دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد‘ چاہے جتنے بھی اہل اور قابل کیوں نہ ہوں‘ انہیں سیاسی ترجیحات کی وجہ سے تعینات نہیں کیا جاتا‘پاکستان کو اپنا نکتہ نظر تبدیل کرکے مستقبل کی جانب دیکھنا ہوگا اگر ہم دنیا کی دوسو سے زائد اقوام سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں چنانچہ ہمیں اپنے ہنرمند نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو سہولیات دینی چاہئیں تاکہ وہ ہمارے عوام کی خدمت کرسکیں۔(بشکریہ: ڈان۔ تحریر:ڈاکٹر عشرت حسین۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)