142

افغان جنگ بندی

افغا ن حکو مت کی جا نب سے رمضان المبارک کے آخری عشرے سمیت عیدالفطر کے مو قع پر یکطر فہ جنگ بندی کا اعلان اور طا لبان سے بھی جنگ بندی کی اپیل پر دو چار روز تک طا لبان کی خامو شی کے بعد اب عیدالفطر کے تین ایا م میں طالبان کی طر ف سے جنگ بندی کے اعلان کا نہ صرف افغان حکو مت نے خیر مقدم کیا ہے بلکہ عالمی برادری بھی طالبان کی اس فیصلے کو مثبت انداز سے دیکھ رہی ہے‘ طا لبان کی جا نب سے حالیہ جنگ بندی کا اعلان تحریک طالبان افغانستان کے امیر مولانا ہیبت اﷲکی جا نب سے میڈیا کو جا ری کئے گئے ایک بیا ن میں کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عید الفطر کے تین دنوں میں طا لبان افغان سکیورٹی فورسز اور ان سے منسلک اداروں اور شخصیات کو نشا نہ نہیں بنا ئیں گے البتہ اس عر صے میں انہیں اپنے دفا ع کا پور ا پورا حق حا صل ہو گا۔ مولاناہیبت اﷲنے اپنے متذکرہ بیا ن میں کہا ہے کہ عید الفطر کے ان با بر کت ایا م میں مقامی فورسز کے خلاف تو جنگ بندی کے اعلان پر مکمل عمل درآمد کیا جا ئے گالیکن اس عرصے میں غیر ملکی افواج کے خلاف کاروائیاں پورے زور شور سے جاری رکھی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک ایک بھی غیر ملکی فو جی افغا ن سرزمین پر مو جو د ہے تب تک افغان جہاد جا ری رہے گااور غیر ملکی افواج کو سپورٹ کرنے والی افغان سکیو رٹی فورسز اور دیگر متعلقہ اداروں کو پوری قوت سے نشا نہ بنا یا جا تارہے گا۔ طالبان نے عیدالفطر کے مو قع پر اپنی جنگ بندی کا اعلان ایسے مو قع پر کیا ہے جب ایک جا نب اس جنگ سے خو د امریکی اکتا چکے ہیں اور وہ یہاں سے انخلاء کیلئے کسی منا سب مو قع اور بہانے کی تلاش میں ہیں‘ دوسری جانب امریکہ کو یہ ادراک بھی ہو چلاہے کہ طالبان سے مذاکرات کئے بغیر نہ تو افغانستان سے امر یکہ کیلئے محفو ظ انخلاء ممکن ہے اور نہ ہی افغان قوم امر یکی افواج کی افغانستان میں مزید قیا م کے حق میں ہے‘ ایک کمزور‘ اپا ہج اور تشدد میں گھرا ہوا افغانستان خطے کے مما لک سمیت عالمی برادری کیلئے بھی کئی حوالوں سے نا قا بل برداشت بلکہ ناقا بل یقین حد تک پر یشانی کا با عث ثابت ہو رہا ہے جس کااظہار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ امریکی حکام سے لیکر نیٹو کے تمام رکن ممالک کے سربراہان اور وزرائے دفاع کے بیانات اور انٹرویوز سے ہوتا ہے‘افغانستان میں جاری کشت وخون سے بلا شبہ سب سے زیادہ افغان عوام متاثر ہو رہے ہیں لہٰذا اس بنیاد پر اس خون ریزی کی روک تھام کی اولین ذمہ داری کسی سے بھی بڑھ کر خود افغان حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے جو گزشتہ اٹھارہ سال کے دوران اس حوالے سے بری طرح ناکام نظر آتے ہیں جبکہ دوسری جانب ہر آنے والا دن طالبان کی قوت میں اضافے کی نوید کیساتھ طلوع ہو رہا ہے ۔

واضح رہے کہ غیر جانبدار ذرائع اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں کہ افغانستان کے چند بڑے شہروں کو چھوڑ کر باقی ماندہ ساٹھ فیصد افغانستان پر عملاً طالبان کا کنٹرول ہے جنہوں نے نہ صرف مختلف صوبوں میں اپنے شیڈوگورنر اور انتظامیہ مقرر کر رکھی ہے بلکہ یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ ملک کی بڑی بڑی شاہراہوں پر دن میں تو افغان فورسز کی حکمرانی ہوتی ہے لیکن رات کو ان بڑی شہراہوں پر بھی عملاً طالبان کا قبضہ ہوتا ہے‘ در اصل طالبان کی بڑھتی ہوئی اسی قوت کے خوف نے امریکہ کو اگر ایک جانب افغانستان میں اپنی فورسز کو برقرار رکھنے پر مجبور کر رکھا ہے تو دوسری جانب وہ طالبان کو دباؤ میں لانے کیلئے انکے ساتھ مذاکرات سے مسلسل راہ فرار بھی اختیار کر رہا ہے جس کا مقصد طالبان کو افغانستان میں اپنے پاؤں دوبارہ جمانے کا موقع نہ دینا ہے‘حالانکہ خود امریکہ سے زیادہ اس تلخ حقیقت کو کون جا ن سکتا ہے کہ طالبان افغانستان کی ایک ایسی برسرزمین حقیقت ہیں جس سے امریکہ سمیت سمیت کوئی بھی ملک انکار کی جرات نہیں کر سکتا ہے‘لہٰذا اس تمام تر بحث کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ افغان حکومت کے بعد طالبان نے عیدالفطر کے موقع پر جنگ بندی کا واضح اعلان کرکے افغان حکومت اور امریکہ کو جو مثبت پیغام دیاہے توقع ہے کہ طالبان کے اس مثبت طرز عمل کا پرجوش جواب دیا جائیگا جسکے نتیجے میں افغان قضیئے کے حل ہونے کی امیدیں باندھی جا سکیں گی بصورت دیگر یہ زخم ناسوربن کر یونہی رستا رہے گا جس سے افغانوں کیساتھ ساتھ تمام متعلقہ فریقین متاثر ہوتے رہیں گے جو یقیناًکسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوگا۔