144

صارفین ‘حقوق اور استحصال

پاکستان دنیا بھر میں موبائل فون کے صارفین کی تعداد کے لحاظ سے 9 واں بڑا ملک ہے اور دیکھا جائے تو پاکستان میں ہر 100میں سے قریب 70 افراد کے پاس موبائل فون ہے‘ٹیلی کام اتھارٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر دوہزار سترہ کے اختتام تک پاکستان میں چودہ کروڑ پینتالیس لاکھ موبائل فون صارفین موجود تھے اور یقیناًاس تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے‘ان صارفین کو ملک میں چار بڑی کمپنیاں موبائل خدمات فراہم کر رہی ہیں‘چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار کے ازخود نوٹس کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ بحث گرم ہے کہ موبائل کمپنیوں کے ایک سو روپے کے کارڈ ری چارج پر چالیس روپے کیوں کاٹ لئے جاتے ہیں؟ لیکن مسئلہ صرف چالیس روپے کٹوتی کا نہیں بلکہ اس بے قاعدگی کا بھی ہے‘ جس میں صارفین کی حق تلفی ہو رہی ہے‘ 12جون کو عدالت نے موبائل کارڈ فون پر لگائے گئے ٹیکسوں کے بارے میں وفاق اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور موبائل کمپنیوں سے جواب طلب کیا ہے کہ حکومتیں کس حیثیت میں انیس عشاریہ پانچ فیصدسیلز ٹیکس وصول کر رہی ہیں عدالت نے ایف بی آر کو بھی حکم دے رکھا ہے کہ وہ موبائل صارفین پر ٹیکسوں کے تعین کے موجودہ طریقہ کار کے بارے میں وضاحت کریں اصولی طور پر ود ہولڈنگ ٹیکس اس شخص پر لگایا جاتا ہے کہ جو انکم ٹیکس ادا کرتا ہو لیکن دس کروڑ سے زائد موبائل فون صارفین میں سے کتنے لوگ انکم ٹیکس ادا کر رہے ہیں‘ اس بارے میں ایف بی آر کے پاس اعدادوشمار اسلئے نہیں کیونکہ وہ اس قسم کے اعدادوشمار رکھنا ہی نہیں چاہتے‘۔

اگرچہ یہ بات عدالت کو نہیں بتائی گئی لیکن ایک موبائل فون کمپنی کے کام کرنیوالے اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ ہر ایک سو روپے پر حکومت کو قریب چھبیس روپے جبکہ موبائل کمپنیوں کے کھاتے میں چودہ روپے چلے جاتے ہیں‘ان ٹیکسوں میں ساڑھے انیس فیصد جنرل سیلز ٹیکس اور ساڑھے بارہ فیصدود ہولڈنگ ٹیکس شامل ہیں اسکے علاوہ 10فیصد نیٹ ورک کمپنی خدمات کی مد میں وصول کرتی ہے اور ایک کٹوتی نیٹ ورک کی جانب سے کال سیٹ اپ کے نام پر کی جاتی ہے وہ یوں کہ کال ملتے ہی پندرہ پیسے بیلنس میں سے منہا کر لئے جاتے ہیں‘ کٹوتیوں کی بدولت مہینے بھر کے لئے مختص فون کے پیسے ایک ہفتے میں ہی خرچ ہو جاتے ہیں‘ٹیکسوں کی یہ کٹوتی طلبہ کی جیب پر بھی بھاری پڑتی ہے‘ جو اپنی پاکٹ منی کا ایک بڑا حصہ ٹیکسوں کی صورت ادا کرتے ہیں‘موبائل فون صرف تفریح کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ انکے ذریعے رابطہ کاری اور تعلیم کے شعبے میں تحقیق بھی جڑی ہوئی ہے‘کیا حکومت طلباء و طالبات کیلئے موبائل فون کنکشنوں اور ان پر عائد ٹیکسوں کی کم شرح کا تعین کرنے جیسے خصوصی اقدامات کر سکتی ہے؟ صارفین کے اعتراض میں ٹیلی کام اتھارٹی بھی شامل ہے کہ ود ہولڈنگ ٹیکس ایسی کم آمدنی والے صارفین سے وصول نہیں ہونا چاہئے جو انکم ٹیکس دینے کے دائرے میں نہیں آتے ٹیکس ریٹرن فائل کرنیوالا شحض فائل کرنے کے وقت ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں لئے گئے پیسے واپس وصول کر سکتا ہے لیکن 80 فیصد صارفین ایسے ہیں۔

جن پر انکم ٹیکس لاگو ہی نہیں وہ بھی ود ہولڈ نگ ٹیکس کٹوا رہے ہیں اور اسکی واپسی کے طریقہ کار سے بے خبر ہیں۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ پوری معیشت میں جنرل سیلز ٹیکس کی شرح سولہ فیصد ہے جبکہ موبائل فون نیٹ ورکس کیلئے یہ شرح ساڑھے انیس فیصد کیوں مقرر کی گئی ہے؟ ٹیکس اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے نگران ادارہ ایف بی آر سیلولر کمپنیوں پر یہ اعتراض کرتا رہا ہے کہ وہ جتنے ٹیکس صارفین سے جمع کرتی ہیں اتنے حکومت کو جمع نہیں کرواتیں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے اس بے قاعدگی کا شروع دن سے حساب ہونا چاہئے کہ انہوں نے کس صارف سے کتنی کٹوتی کی ہے اور حکومت کو ٹیکس ادا کرتے ہوئے کتنی چوری کے مرتکب ہوئے ہیں‘ موبائل فون کمپنیاں اپنے نیٹ ورک کو وسعت دینے میں بھی بخل سے کام لے رہی ہیں اور بالخصوص ملک کے دیہی علاقوں میں فور جی سروسز کا آغاز کرنے میں سرمایہ کاری نہیں کی جاتی جبکہ ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد حسب معاہدہ ان کمپنیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مرکزی شہروں کی طرح کم ترقی یافتہ دیہی علاقوں میں بھی اپنے اپنے نیٹ ورکس کو وسعت دیں‘موبائل کمپنیاں ایک دوسرے کے ٹاورز اور تنصیبات کا استعمال کرکے اربوں روپے بچا رہی ہیں لیکن اسکا فائدہ صارفین کو منتقل نہیں کیا جارہا اے کاش کہ پاکستان کے قومی اور صارفین مفادات کی محافظ حکومتیں ہوں‘اے کاش کہ صارفین کو احساس ہو جائے کہ جب تک وہ اپنے حقوق کے لئے منظم نہیں ہوں گے‘ اس وقت تک ان کا استحصال یونہی جاری رہے گا۔