133

سیاسی بالغ النظری!

عام اِنتخابات میں ’خواتین کی بطور اُمیدوار شراکت‘ (باوجود خواہش و کوشش بھی) اُس کم سے کم مقررہ پیمانے کے مطابق نہیں ہو سکی‘ جس کا ذکر انتخابی قواعد نامے (الیکشن ایکٹ 2017ء) میں ملتا ہے۔ قوانین اور قواعد پر مبنیدستاویزات میں درج اصول و شرائط اپنی جگہ اہم لیکن اُن پر عمل درآمد بھی ضروری ہوتا ہے اور اِس پہلو کو سب سے کم توجہ دی جاتی ہے۔ قواعد و قوانین کے اطلاق میں سب سے بڑی یہی خامی (وجہ) ہے جس کی وجہ سے اچھے قوانین کے نتائج بھی امتیازی دکھائی دیتے ہیں‘ الیکشن کمیشن نے ’عام انتخابات 2018ء‘ میں خواتین کو جنرل نشستوں پر ٹکٹ جاری کرنیوالی سیاسی جماعتوں کی تفصیلات جاری کیں تو معلوم ہوا کہ ’’107 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں سے 59 نے کسی خاتون امیدوار کو پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کیا جبکہ 48 جماعتیں ایسی ہیں جنہوں نے مجموعی طور پر 304 خواتین کو جنرل نشستوں پر ٹکٹ دیئے اور اِن میں پیپلز پارٹی 43 نامزدگیوں کیساتھ سرفہرست ہے‘‘ سیاسی جماعتیں یوں تو ہر طبقے کے مفادات کے تحفظ اور ہر ایک کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے دعوے کرتی ہیں لیکن خواتین کو نظرانداز کرنیوالی پارٹیوں کو جمہوریت اور اپنے دعوؤں کا کس قدر پاس ہے‘ اُس کا پول الیکشن کمیشن کی جاری کردہ تفصیلات نے کھول دیا ہے۔

خواتین کی عملی شرکت‘ سیاست میں شائستگی اور متانت لانے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ کم از کم انتخابی مہم چلانے والی خواتین‘ اُس بے ہودگی اور غیر ذمہ داری سے گریز کریں گی‘ جس کا اظہار مردوں کی غالب اکثریت والی سیاست میں ان دنوں ہو رہا ہے۔ خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے بالخصوص اُن جماعتوں کو زیادہ توجہ دینی چاہئے‘ جنہوں نے دین کو اپنی سیاست کی بنیاد قراردے رکھا ہے‘ترقی یافتہ جمہوری معاشروں میں زیادہ سے زیادہ دو تین یا زیادہ سے زیادہ چار جماعتیں ہوتی ہیں۔ ہر سیاسی جماعت کے اندر اختلافات بھی پائے جاتے ہیں مگر اُن کی ترقی کا راز یہ بھی ہے کہ وہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد رہنا جانتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو سیاسی جماعتوں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے‘ کوئی شمار ہی نہیں بلکہ سطحی اختلافات کی بنیاد پر ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مسجد بنانے والوں کی کمی نہیں جو سیاسی جماعتیں آپسی اختلافات نہیں مٹا سکتیں‘ وہ قوم کی بھلا کیا خدمت کریں گی ‘ الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کو کھمبیوں کی طرح اُگ آنے والی نام نہاد سیاسی جماعتوں کی تعداد کو محدود کرنے پر بھی سنجیدگی سے توجہ دینی چاہئے کہ اتنی بڑی تعداد میں جماعتوں کاوجود جگ ہنسائی کا باعث بھی ہے۔ جو سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ نہیں لیتیں‘ ان کی رجسٹریشن ختم کیوں نہیں ہونی چاہئے؟ باقی کے لئے کچھ فیصد ووٹوں کے حصول کی شرط رکھ دی جائے جو کم از کم پانچ فیصد ہو سکتی ہے‘ جو حاصل نہ کر سکیں اُن کو بھی فارغ کر دیا جائے۔

ویسے بھی ایسی تقسیم قومی اتحاد کے لئے نقصان دہ اور یک جہتی کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں کیونکہ ووٹر الگ سے پریشان ہے!خواتین کی بطور اُمیدوار شراکت کے بغیر ’عام انتخابات‘ نہ صرف پھیکے بلکہ نامکمل رہیں گے‘ لیکن اگر ماضی کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو 2018ء کے(متوقع) عام انتخابات میں خواتین پہلے سے زیادہ جنرل نشستوں پر اُمیدوار ہیں اور یہ سلسلہ سست روی ہی سے سہی لیکن آگے بڑھ رہا ہے اور خواتین نے سمجھ لیا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کی حد تک خود کو محدود رکھتے ہوئے اپنے حقوق و تحفظ کے حصول میں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتیں‘عام انتخابات حاصل کردہ ووٹوں کی بنیاد پر جیتے جاتے ہیں اور جب تک (پہلے مرحلے کے طور پر) خواتین حسب آبادی اپنے ووٹوں کی رجسٹریشن میں کامیاب نہیں ہوتیں اُس وقت تک عام انتخابات بھی اپنے نام نہیں کر پائیں گی۔ شعوری منزل پر شعوری اور عملی فیصلوں کی منزل پر عمل کے ذریعے اِس گھڑی سیاسی جماعتوں کی طرح التجائی نظروں سے دیکھنے کی بجائے خواتین کو اپنی قسمت کا فیصلہ اپنے ہاتھوں سے لکھنا پڑے گا۔ ’’عجب ہے شکوۂ تقدیر یزداں۔۔۔ تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے؟ (علامہ اقبالؒ )۔‘‘