132

اے این پی پھر نشانے پر

2013 کے انتخابات میں دہشت گردی کا زور تھا۔ کے پی کے میں کوئی دن جاتا ہو گا کہ کسی نہ کسی جگہ کوئی نہ کوئی حادثہ نہ ہوتا ہو‘ کہیں پولیس کے افسر دہشت گردوں کے نشانے پر ہوتے توکبھی سیاستدانوں کو نشانہ بنایا جاتا‘سیاستدانوں میں جس پارٹی کو نشانہ بنایا جاتا تھا وہ اے این پی کے اراکین اور لیڈران تھے‘کتنے ہی لیڈران اور کارکن ان دہشت گردوں نے مار ڈالے تھے‘ اے این پی اس صوبے میں اقتدار میں تھی مگر اسی کے جلسوں جلوسوں میں خود کش دھماکے کئے جاتے اور کہیں ان کے کارکنوں کو اغواکرکے موت کے گھاٹ اتارا جاتا اس وجہ سے اے این پی کو الیکشن مہم سے دور رکھا گیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ یہ پارٹی الیکشن میں بری طرح ہار گئی اور اسکے ہاتھ سے صوبے کی حکومت چھن گئی‘جب آپ کسی پارٹی کو الیکشن کمپین سے ہی دور کر دیں گے اور وہ اپنا منشور عوام کے سامنے لا ہی نہ سکے گی تو وہ کیا الیکشن میں جیت پائے گی‘یہی ہوا اس جماعت کیساتھ بھی 2013 کے انتخابات میں۔ یہاں تک کہ پارٹی سربراہ اسفند یار ولی کے گھر پر بھی دہشت گردوں نے حملہ کیا اور انکو مجبوراً اپنے صوبے سے ہی باہر رہنا پڑا‘ اس طرح کے انتخابات میں جو نتیجہ ہونا تھا وہی ہوا اور اے این پی جو حکومت میں تھی چند سیٹیں ہی لینے میں کامیاب ہو سکی‘ان انتخابات کے بعد مرکز میں بننے والی حکومت یعنی مسلم لیگ ن کی حکومت نے فوج کے تعاون سے اس صوبے اور اس کیساتھ متصل علاقہ غیر میں جہاں دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانے تھے ان کیخلاف آپریشن شروع کیااور دہشت گردوں کو ان علاقوں سے بھاگنے پر مجبور کر دیا ۔

اس کے علاوہ بلوچستان سے ملحقہ ایجنسیوں میں بھی آپریشن کیا اور بہت حد تک دہشت گردی پر قابوپالیا پھر بھی ملک کے اندرخصوصاً کراچی میں دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانے تھے جن کو فوج اور پولیس کی مدد سے تقریباًختم کر دیا گیا پھر رد الفساد آپریشن کے ٓذریعے جو کچھ ٹھکانے پنجا ب اور اسکے آزاد علاقوں میں تھے ان کو بھی ختم کرنے میں کافی حد تک کامیابی حاصل کرلی ‘مگر اب بھی افغانستان سے اور کچھ اندرون ملک میں اکا دکا وارداتیں ہوتی ہی رہتی ہیں مگر ان کا وہ زور نہیں ہے کہ جو 2013 اور اس سے قبل تھا‘دہشت گردی پر اس حد تک قابو پالیا گیا کہ موجودہ الیکشن کیلئے کنوینسنگ کیلئے سیاستدانوں کیلئے میدان کھل گیاہے‘ یہی وجہ ہے کہ آج کراچی اور اندرون سندھ اور کے پی میں بھی مختلف سیاسی جماعتیں اپنے جلسے جلوس بڑی آزادی سے اور دہشت گردی کے خوف کے بغیرمنعقد کررہی ہیں ‘ ابھی تک توسب ہی جماعتوں نے اے این پی سمیت بڑے بڑے جلسے کے پی میں کئے ہیں اور خیال یہی تھا کہ اب دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اب شاید سیاسی جلسوں جلوسوں میں کوئی دہشت گردی نہیں ہوگی‘اسی لئے کے پی پولیس اور فوج بھی اس طرف سے مطمئن ہو گئی کہ اب کسی بھی سیاسی جماعت کے جلسے پر کوئی دہشت گرد حملہ نہیں ہو گا۔

مگر افسوس کہ یہ صرف خیال ہی ثابت ہوا۔ گذشتہ دن اے این پی کی ایک کارنر میٹنگ میں ایک خود کش حملہ ہو گیا اور اس حملے میں اے این پی کے امیدوار بیرسٹر ہارون بلور کو نشانہ بنایا گیا‘ ہارون بلور ‘شہید بشیر بلور کے فرزند ہیں جن کو پچھلے انتخابات کے دنوں میں ایک خود کش حملے میں شہید کر دیا گیا تھا‘ اب ایسے ہی حملے میں ہارون بلور کو شہید کر دیا گیا اس خودکش حملے میں اے این پی کے بیس سے زیادہ کارکن بھی شہید ہوئے اور بہت سے زخمی ہوئے‘لگتا ہے کہ کچھ نادیدہ قوتیں ایک دفعہ پھراے این پی کو انتخابات سے باہر کرنا چاہتی ہیں‘خداجانے ایسی کونسی نادیدہ قوتیں ہیں کہ جنہوں نے پاکستان کی مختلف پارٹیوں کے راستے میں کانٹے پھیلانے شروع کر دیئے ہیں‘ مسلم لیگ ن کے لیڈر توکافی دنوں سے نشانے پر ہیں ‘ اب جبکہ الیکشن میں کچھ دن رہ گئے ہیں پی پی پی کی لیڈر شپ کونشانے پر رکھ لیا گیا ہے اور اس کی لیڈر شپ پر منی لانڈرنگ کے الزامات لگا کر انتخابات سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے قانون کا احترام اور اس کی عملداری اپنی جگہ پر کتوں کو کھول کرپتھروں کو باندھنے والی بات نہیں ہونی چاہئے۔