318

سپریم کورٹ کے ریمارکس

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کام نہ ہوا تو اورنج لائن سمیت تمام منصوبے بند کردئیے جائیں گے عدالت عظمیٰ نے ملک بھر میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال پر پابندی عائدکرتے ہوئے ہدایت جاری کی ہے کہ اگر نوجوان ڈاکٹروں کو کوئی مسئلہ درپیش ہے تو وہ عدالت سے رجوع کریں چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتر بنانا ہے چیف جسٹس نے ریمارکس میں یہ بھی کہا ہے کہ مجھے ایسے لوگ اکٹھے کرنے ہیں جو ڈنڈے والے ہوں ہم بندے لے جا کر کلینک میں بیٹھ جائیں گے وطن عزیز میں ہربرسراقتدار آنے والی حکومت تعلیم اور صحت کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست ہی قرار دیتی ہے اس ضمن میں اقدامات بھی اٹھائے جاتے ہیں تاہم برسرزمین نتائج نظر نہیں آتے لوگ اب بھی سرکاری ہسپتالوں کے برآمدوں میں ایڑھیاں رگڑتے نظر آتے ہیں جبکہ ہڑتالوں اور احتجاجوں کے سامنے انتظامیہ اکثر بے بس دکھائی دیتی ہے ۔

ہڑتال کرنے والوں کے مسائل اور مشکلات کابروقت احساس کیا جاتا ہے نہ ہی ان کے حل کیلئے بات چیت کی روش اختیار کی جاتی ہے ہمارے پالیسی ساز آج تک ڈاکٹروں کی نجی پریکٹس سے متعلق قاعدہ قانون نہ بناسکے نجی کلینک لیبارٹریوں اور ہسپتالوں میں معیار کی نسبت سے چارجز طے ہوئے نہ ہی خدمات کی فراہمی کے پورے کام کی نگرانی کا کوئی موثر انتظام دیاجاسکا۔ ترجیحات کے تعین میں یہ بات بھی زیر غور نہ آسکی کہ امن و امان کے حوالے سے سنگین مشکلات کا سامنا کرنے والے خیبر پختونخوا میں برن یونٹ تک نہیں کروڑوں روپے کے غیر ضروری اور غیر ترقیاتی اخراجات کے ساتھ برن یونٹ کے سوال پر وفاق کی جانب سے فنڈز کی فراہمی کا عذر سامنے آتارہا خیبر پختونخوا میں ہی امراض خون کے علاج اور انتقال خون کیلئے ضرورت کے مطابق انتظامات نہیں اور مریض رضاکار تنظیموں سے رجوع کرتے نظر آتے ہیں بلڈ ٹرانسفیوژن کو محفوظ بنانے کیلئے ضرورت کے مطابق انتظام نہیں ذمہ دار محکموں کے ذمہ دار حکام کسی بڑے ہسپتال کے گیٹ پر پہنچ کر مریض کیلئے ٹرالی یا وہیل چیئر کے حصول میں مشکلات دیکھ لیں تو باقی کا منظرنامہ خود انہیں سمجھ آجائے عدالت عظمیٰ کے ریمارکس اس بات کے متقاضی ہیں کہ مرکز اور صوبوں میں بر سر اقتدار حکومتیں اپنے اقدامات اور اعلانات پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ ان کے فوائد عام شہری کومل سکیں۔

نجی رہائشی منصوبے

رہائش کے مسئلے کی سنگینی سے انکار ممکن نہیں حکومتی سطح پر رہائشی منصوبوں کا ناکافی ہونا بھی ایک حقیقت ہے اس ساری صورتحال میں نجی شعبے کی جانب سے ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری مسئلے کی شدت کم کرنے میں معاون ہے نجی شعبے کے کام میں شفافیت یقینی بنانے کے ساتھ ضرورت پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیموں کو سروسز کی فراہمی کیلئے اقدامات کی ہے اگر کم قیمت رہائشی سکیموں میں حکومتی ادارے سیوریج‘ پینے کے پانی ‘بجلی ‘گیس کی فراہمی ترجیحی بنیادوں پر کردیتے ہیں تو بہت سارے شہریوں کو رہائش کے حوالے سے درپیش سنگین مسئلے سے نجات مل سکتی ہے ضرورت اس کے لئے واضح پالیسی وضع کرنے کی ہے۔اس پالیسی میں حکومت کے اداروں کو یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ یوٹیلٹی اور دیگر خدمات اگر پبلک سیکٹر سے دی جاتی ہیں تو رہائشی سکیموں کے مالکان اس کے بدلے میں قیمتیں زیادہ نہ کریں بلکہ خریداروں کو رعایت دیں۔