225

نااہلی کے فیصلے کے بعد ملک میں انتشار پھیلا، نوازشریف

چکوال۔سابق وزیراعظم وپاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نوازشریف نے کہا ہے کہ مجھے نااہل کرنے کے فیصلے کے بعد ملک میں انتشار پیدا ہورہا ہے۔عوام ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے والوں کے چہروں کو یاد رکھیں میرے خاندان کو 7 سال تک باہر رکھا گیا، والد کا انتقال ہوا تو ہمیں آنے نہ دیا میں یہ تمام زخم نہیں بھول سکتا لیکن قوم کی ترقی کے لئے سب بھولنا پڑتا ہے، بہت ظلم سہے لیکن جب موقع ملا عوام کی خلوص کے ساتھ خدمت کی، چکوال میں مسلم لیگ(ن)کے مرحوم رہنما چوہدری لیاقت کی رہائش گاہ پر تعزیتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف کا کہنا تھا کہ 2013 تک ملک کو اندھیروں میں دھکیل دیا گیا تھا، عوام ان چہروں کو یاد رکھیں جب ڈکٹیٹر اور جمہوریت کا راگ الانپنے والوں نے پاکستان کے عوام پر لوڈ شیڈنگ کا عذاب مسلط کررکھا تھا وہ لوگ اب کہاں ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھے نااہل کرنے کے فیصلے کے بعد انتشار پیدا ہو رہا ہے، اگر آج دہشت گردی پھر سر اٹھا رہی ہے تو شاہد خاقان عباسی سے نہیں 28 جولائی کو فیصلہ کرنے والوں سے پوچھا جائے، عوام جاننا چاہتی ہے نوازشریف نے کون سے 10 روپے چوری کیے، مجھ پر ایک دھیلے کی کرپشن کا الزام نہیں، اتنے مہینے ہوگئے یہ نہیں پتا چل سکا کہ مجھ پر الزام کیا ہے، اگر نوازشریف نے کرپشن کی ہوتی تو آپ نکالتے ہوئے بھی اچھے لگتے، لیکن آپ نے اقامے پر وزیراعظم کو نکال دیا اور کہا کہ بیٹے سے تنخواہ نہیں لی ،خیالی تنخوا ہ پر نکال رہے ہیں۔ 

نوازشریف نے مزید کہا کہ عوام ووٹ دے کر وزیراعظم منتخب کرتے ہیں اور 5 آدمی اسے نکال دیتے ہیں یہ کہاں کا انصاف ہے، کیا عوام کے ووٹ کا یہی تقدس اور اہمیت ہے کہ کوئی بھی اپنی مرضی سے ووٹ پھاڑ کر پھینک دے، یہ ناانصافی نہیں چلے گی اب عوام کو سامنے آنا ہوگا اور فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ ملک کیسے چلانا ہے۔ اور پوچھنا ہوگا کہ نوازشریف کو کیوں نااہل کیا گیا، نواز شریف نے کہا کہ میں نے ہمیشہ خلوص نیت سے پاکستان کی خدمت کی۔

ہمیں ملک سے بے دخل کیا گیا، 7 سال تک وطن واپس نہیں آنے دیا گیا، یہاں تک کہ والد کے انتقال پر بھی ملک نہیں آنے دیا گیا، لیکن پھر عوام نے اپنا فیصلہ دیا اور ہمیں 2013 میں منتخب کیا، پچھلے 4 سالوں میں عوامی خدمت کے جذبے میں کمی نہیں آئی۔نواز شریف نے کہا کہ جو زخم لگے انہیں پاکستان کی خاطر بھلانا چاہتا ہوں، زخم در زخم نہ لگا کیونکہ یہ زخم صرف نوازشریف کے سینے پر نہیں لگتے بلکہ پاکستانی قوم کے سینے پر بھی لگ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا وژن تھا کہ ملک میں سڑکیں اور موٹرویز بننی چاہئیں، یہاں کاشتکار خوشحال زندگی بسر کریں، تاجر مزدور اور غریبوں کو بھی روزگار میسر ہو، اور اس وژن کے لیے ہم نے دن رات کام کیا، بجلی کے اتنے منصوبے لگائے آج لوڈشیڈنگ خدا حافظ کہہ رہی ہے۔صدر مسلم لیگ(ن) نے کہا کہ عوام 2013 کو یاد رکھیں جب ملک میں ہر جگہ پر دہشت گردی کا راج تھا، ہم نے دہشتگردو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آپریشن کیا اور دہشتگردی ختم کرکے رکھ دی۔

اگر آج دہشتگردی پھر سر اٹھارہی ہے تو پوچھو اس فیصلے سے جس نے نواز شریف کو نااہل کیا۔انہوں نے کہا کہ عوام بڑی تعداد میں ووٹ دیکر منتخب کرتی ہے، اور 5 ججز ایک منٹ میں نااہل کر کے کروڑوں ووٹوں کے تقدس کو پامال کر دیتے ہیں، یہ نا انصافی اب زیادہ دیر نہیں چلے گی۔سابق وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشتگردی اور لوڈشیڈنگ ہم ختم کررہے ہیں، کراچی کو پر امن بنایا، سی پیک شروع کیا۔

پاکستان میں اس سے پہلے ایسا کب ہوا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ عوام جاننا چاہتی ہے، بتا نوازشریف نے اس ملک میں کون سی کرپشن کی ہے، 10 روپے کی کرپشن بھی کی ہے تو عوام کو بتا دو۔ کتنے مہینے ہو گئے، آج تک یہ نہیں پتا چل سکا کہ نوازشریف پر الزام کیا ہے، نکالنا تھا کوئی چیز نہ ملی تو اقامے پر نکال دیا، یہ کوئی ماننے والی بات ہے۔صدر مسلم لیگ(ن) نے کہا کہ اگر نوازشریف نے کرپشن کی ہوتی تو نکالتے اچھے لگتے۔

میں کبھی منہ دکھانے کے قابل نہ ہوتا، لیکن آج فخر سے کہتا ہوں کہ نوازشریف پر ایک دھیلے کی کرپشن کا الزام نہیں ہے، اسی لیے تو کرپشن پر نہ نکال سکے، بیٹے سے ایک خیالی تنخواہ نہ لینے پر نکالا گیا،نواز شریف نے کہا کہ چوہدری لیاقت میرے دیرینہ ساتھی تھے اور انہوں نے اپنے حلقے کی بہت خدمت کی۔