220

اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے

پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے کسی ایک یا زیادہ فیصلوں پر بھلے تنقید کی گنجائش نکال لی جائے‘ اس حقیقت سے تو کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ پچھلے تقریباً دس برس کے دوران اعلیٰ عدلیہ نے کئی قومی معاملات کے حوالے سے قومی مفاد کے مطابق تاریخی فیصلے دیئے ہیں‘ ا یسے فیصلے جن کے نتیجے میں وہ اقدامات ممکن ہوسکے جو مسائل کے حل کیلئے ناگزیر تھے گزشتہ دور حکومت کی بات کی جائے تو اس دور میں اعلیٰ عدلیہ کی توجہ زیادہ تر بدعنوانی کا راستہ روکنے پرمرکوز رہی‘یہی وجہ تھی کہ نہ صرف بلوچستان کے ریکوڈک منصوبے سمیت کئی اہم قومی منصوبوں پر عمل درآمدمیں شفافیت لائی جا سکی بلکہ متعدد کرپشن سکینڈلز مثلاًحج سکینڈل ‘این آئی سی ایل سکینڈل ‘ رینٹل پاور سکینڈل‘ ٹی ڈی پی سکینڈل وغیرہ کی چھان بین اور ان میں ملوث عناصر کا کھوج لگانا ممکن ہوا‘ موجودہ دور حکومت میں بھی اعلیٰ عدلیہ کے ازخود نوٹسزیا مختلف پٹیشنز کی فوری سماعت کے نتیجے میں قومی نوعیت کے اہم معاملات طے پانے کا سلسلہ جاری ہے ‘ اس حوالے سے اعلیٰ عدلیہ نے جو معرکے سر کئے ہیں ان میں سر فہرست بلدیاتی انتخابات کا معاملہ ہے ‘عوام کو درپیش بنیادی نوعیت کے مسائل حل کرنے کیلئے بلدیاتی اداروں کی اہمیت و افادیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں‘بروقت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا اصولی طور پر صوبائی حکومتوں اور صوبائی اسمبلیوں کی ذمہ داری بنتی ہے تاہم اس ذمہ داری کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر کی جارہی تھی جس پر سپریم کورٹ نے بڑی شد و مد سے اس معاملے کی سماعت کی اور صوبائی حکومتوں کے حیلے بہانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے انھیں اپنے اپنے دائرہ اختیار میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے پر مجبور کیاجسکے بعد ملک میں منتخب بلدیاتی اداروں کا قیام ممکن ہوا ‘۔

سپریم کورٹ کو ایک اور اہم کارنامہ ملک میں مردم شماری کا انعقاد یقینی بنانا ہے ‘ مردم شماری کا ہر دس سال بعد انعقاد آئینی تقاضا ہے اور بہت سے اہم قومی معاملات مثلاًملکی وسائل کی درست تقسیم ‘قومی ضروریات کا تعین‘قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں ردو بدل ‘ حقائق سے ہم آہنگ بجٹ اعداو شمار کی تیاری وغیرہ کا مردم شماری سے براہ راست تعلق ہے ‘اس اہم تقاضے کی تکمیل وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے تاہم یہ معاملہ 2009ء سے زیر التوا تھا سپریم کورٹ کی ہدایت پرملک میں 15مارچ سے2017سے15مئی2017ء کے دوران مردم شماری ممکن ہوئی‘ دریں اثناء انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ‘ خواتین کیساتھ زیادتی اور قانون شکنی کے متعدد واقعات ایسے ہیں جن کی تیز تر اور درست سمت میں تحقیقات اعلیٰ عدلیہ کے از خود نوٹسز کی بدولت ممکن ہوئیں اور اس طرح متاثرین کو ریلیف مل سکا جبکہ اعلیٰ عدلیہ کے ایکشنز سرکاری ہسپتالوں‘ تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر کی حالت زار میں بہتری لانے کیلئے درکار ضروری اقدامات کی بنیاد بھی بنتے رہے ہیں اور تو اور غیر معیاری اشیاء بشمول انسانی صحت کیلئے نقصان دہ دودھ کی کھلے عام فروخت جیسے مسئلے کے حل کیلئے بھی سخت اقدامات اسی وقت اٹھتے ہوئے نظر آئے جب اعلیٰ عدالتوں نے دودھ اور کھانے پینے کی دیگر غیر معیاری اشیاء کی فروخت کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کی خبر لی حالانکہ یہ کام ضلعی حکومتوں کے معمول کے فرائض میں شامل ہے سپریم کورٹ نے حال ہی میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی فیسوں اور دیگر متعلقہ معاملات کا از خود نوٹس بھی لیاہے ‘یہ اس لحاظ سے اہم قومی معاملہ ہے کہ پرائیوٹ میڈیکل کالجز ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ڈاکٹرز پیدا کر رہے ہیں۔

جو ملک کے طول و عرض میں واقع مختلف ہسپتالوں اور کلینکس میں عوام کا علاج کرتے ہیں اب چونکہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے حوالے سے قواعد و ضوابط کے برعکس رجسٹریشن ‘ناقص معیار تعلیم و تدریس‘مطلوبہ لوازمات کی عدم دستیابی ‘داخلوں کے مشکوک طریقہ کار اور من مانی فیسوں وغیرہ جیسی بہت سی سنگین نوعیت کی شکایات موجود ہیں جنکی وجہ سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ متعدد نجی میڈیکل کالجز سے فارغ التحصیل ڈاکٹرز کی اہلیت مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں اور ان کالجوں سے فارغ التحصیل ڈاکٹرزکو معالجوں کی حیثیت سے کام کرنے کی اجازت دینا انسانی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے ‘ان شکایات کا نوٹس لینا متعلقہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے تاہم ادارے اس ذمہ داری سے عہدہ برا نہیں ہو رہے جس کی وجہ سے اب سپریم کورٹ کویہ معاملہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔اگر سپریم کورٹ کی مداخلت سے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کا قبلہ درست ہو جاتا ہے تو یہ اعلیٰ عدلیہ کا قوم پر احسان ہو گا۔علاوہ ازیں اعلیٰ عدلیہ نے پنجاب اور سندھ میں پینے کے آلودہ پانی کے معاملے کی بھی سماعت بھی شروع کر دی ہے اور یہ سماعت عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی بنیاد بن سکتی ہے ‘یہ ساری صورتحال جہاں یہ واضح کر رہی ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے دم قدم سے بہت سے ایسے معاملات نمٹ سکے ہیں جنھیں نمٹانے کی ذمہ داری بنیادی طور پارلیمنٹ ‘ وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی تھی لہٰذااعلیٰ عدلیہ کے اس کردار کی ستائش ہونی چاہئے وہیں یہ پیغام بھی دے رہی ہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے معاملات میں عدلیہ کی مداخلت نہیں چاہتیں تو انھیں اپنی کارکردگی کوقابل اطمینان سطح پر لانا ہو گا۔