244

خارجہ پالیسی پر نظر ثانی ضروری

امریکہ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے اندرو نی معاملات میں مداخلت سے باز رہیں ہمارے لئے یہ قابل قبول نہیں کہ امریکہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے اس وقت شام ‘ فلسطین ‘ مصر ‘ لیبیا اور تونس اور دیگر کئی افریقی ممالک بشمول سوڈان اور چاڈ میں بھی امریکہ کی مداخلت جاری و ساری ہے یہ تمام ممالک مسلم اکثریتی ممالک ہیں امریکہ ان ممالک میں موجودہ ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے یہ دنیا کی بھی بدقسمتی ہے اور امریکہ کی بھی کہ اب وہاں روز ویلٹ ‘ جیفرسن ‘ ابراہام لنکن‘ جارج واشنگٹن یا آئزن ہاور جیسے دور اندیش صدر نہیں بن رہے اگر کوئی صدر بن رہا ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ جیسا نفسیاتی مریض کہ جس کی اگر ایک طرف بول چال اور چال ڈھال بے ڈھنگی ہے تو دوسری جانب وہ سفارتی آداب سے بھی ناآشنا ہے ملک کو چلانا کسی تجارتی ادارے کو چلانے سے کافی مختلف ہوتا ہے ٹرمپ ہو سکتا ہے بزنس کے میدان میں کامیاب رہا ہو لیکن ملک چلانا اس کے بس کا روگ نظر نہیں آرہا خدشہ یہ ہے کہ کہیں وہ ہٹلر یا مسولینی کی طرح اپنی اور امریکہ کی کشتی بھی نہ ڈبو دے اور ساتھ ہی ساتھ دنیا کے کئی اورممالک کو بھی نہ لے ڈوبے ایک درجن سے زیادہ فوجی جرنیل امریکہ نے نائن الیون کے بعد افغانستان میں بھجوائے ان سب نے دروغ بیانی کی اور یہ تاثر دیا کہ وہ افغانستان کی جنگ جیت چکے ہیں زمینی حقائق آج یہ بتاتے ہیں کہ طالبان آج بھی افغانستان کے کئی صوبوں پر قابض ہیں امریکہ روزانہ یہ رونا روتا ہے کہ دہشت گرد پاکستان کے اندر رہتے ہیں اور وہاں سے آ کر وہ افغانستان کے اندر دہشت گردی کی کاروائیاں کرتے ہیں۔

افغانستا ن بھی یہی راگ الاپتا ہے لیکن جب ان دو ممالک سے کہا جاتاہے کہ ذرا ڈیورنڈ لائن پر حفاظتی باڑھ کھڑی کرنے میں پاکستان کی معاونت کریں تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری جو بھی افغانستان سے پاکستان یا پاکستان سے افغانستان جائے تو وہ پاسپورٹ اور ویزا کے ذریعے مخصو ص راستوں سے جائے تو امریکہ او ر افغانستان دونوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھ جاتا ہے اگر وہ مخلص اور سنجیدہ ہیں تو کیوں اس ضمن میں پاکستان کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتے اگر ترکی کا صدر کھل کر پاکستان اور ایران کے اندرونی معاملات میں امریکہ کی مدخلت پر اسے لتاڑ سکتا ہے تو ہمارے حکمرانوں کے منہ میں کیوں گھنگنیاں پڑی ہوئی ہیں انہیں بھی کھل کر بولنا چاہئے اور اپنی کرسی یا ذاتی مالی مفادات سے زیادہ وطن عزیز کے مفادات کی فکر کرنا چاہئے عاقبت نا اندیش اور بے وقوف ہوتے ہیں وہ لوگ یا ملک یا کوئی فرد واحد بھی کہ جو اپنے ہمسایوں کو نظر انداز کرکے دور رہنے والوں سے یارانے کرتے ہیں دوستیاں نباتے ہیں کیونکہ مشکل حالات میں جتنا ہمسایہ کام آ سکتا ہے دور دراز رہنے والا دوست نہیں آ سکتا ہمیں پڑوسی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو کسی بھی قیمت پر خراب نہیں کرنے چاہئیں۔

ہمیں اپنے خارجہ محاذ پر بھر پور مقابلہ کرنے کیلئے پڑوسی ممالک کا بھرپور ساتھ چاہئے بد قسمتی سے گزشتہ چار برس تک نواز شریف نے وزیر خارجہ کی آسامی خالی رکھی جس سے اس ملک کی خارجہ پالیسی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ان چار سالوں میں اگرکوئی جواں سال قابل متحرک قسم کا وزیر خارجہ ملک میں موجود ہوتا تو وہ افغانستان کو پاکستان کے قریب لانے اور وہاں بھارتی اثر کو کم کرنے یا زائل کرنے کی سمت میں کافی کام کر سکتا تھا اب بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا افغانستان اگر پاکستان کیساتھ اپنے تعلقات خوشگوار کر لے تو پھر اس صورت میں چین ‘ پاکستان ‘ افغانستان اور ایران پر مشتمل ایک مضبوط ریجنل بلاک کی شکل بن سکتی ہے ‘جس سے عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائے گی اور وہ معاشی طورپر مستحکم ہوجائیگا کیونکہ علاقائی تعاون کی تنظیموں کے ذریعے ہی پاکستان امریکہ کا مقابلہ کرسکتا ہے ۔