245

اعلان تحریک

ایک جانب پاکستان کو دہشت گردی میں قربانیوں کا اجر امریکہ کی جانب سے دیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے کیوں اپنے ہزاروں فوجیوں اورہزاروں سیولین کی قربانی دی اس لئے پاکستان کا ’’ناطقہ ‘‘بند۔اب پاکستان لاکھ کہے کہ اُس نے ایک جنگ میں جو اس کی نہیں تھی اپنی سمجھ کرلڑی ہے اور اس میں جو خرچ آیا ہے اُس کی ذمہ داری امریکہ پر بھی پڑتی ہے مگر ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ زورآور کا سات بیسیوں کا سو ہوتا ہے تو امریکہ کا ہمارے لئے ( جب اُس کا مطلب نکل گیا ہے ) سو بھی زور آور کا سو ہو گیا ہے۔ ادھر ہم نہ تو رونے کے قابل رہ گئے ہیں اور نہ بھاگ سکتے ہیں۔ اب دن رات یہی سوچا جا رہا ہے کہ کیسے امریکہ کو جواب دیا جائے۔جب تک قومی اسمبلی اور سینٹ کو اعتماد میں نہیں لیا جائے گا تو اس کا حل ممکن نظر نہیں آتا‘ اسلئے کہ حکمران جماعت ( چاہے کوئی بھی ہو ) اس میں اکیلے سے کسی قومی معاملے کا حل ممکن نہیں ہوسکتا اسلئے کہ وہ صرف اپنی حکومت کا سوچتی ہے مگر قومی اسمبلی اور سینٹ کیونکہ سارے ملک ادارے ہوتے ہیں اس لئے ان کا مل کر کوئی فیصلہ ہی صحیح فیصلہ ہوتا ہے۔ ادھر انتخابات کا سال ہے اور موجودہ حکومت کے اب دن گنے ہوئے ہیں ۔ انتخابات کے بعد کس کی حکومت ہوتی ہے یہ تو انتخابات کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے اسلئے ایک دباؤ حکومت پر انتخابات کا بھی ہے۔اُسے ملکی اور بین لاقوامی حالات کو بھی دیکھنا ہے اور اپنی پارٹی کو بھی یک سو رکھنا ہے تا کہ انتخابات میں دو بارہ کامیابی سمیٹ سکے‘ گو اس نے سارے سالوں میں دھرنوں ، ہڑتالوں اورغیر مفاہمتی رویے کا سامنا کیا ہے اس کے باوجو اس حکومت نے ملک کی بہتری کے لئے بھی بہت سے کام بھی کئے ہیں اور اگر دھرنے وغیرہ ان کے راستے میں نہ آ تے تو شاید یہ اس سے بھی زیادہ رفاعی کام کر سکتے تھے‘ تا ہم جن حالات میں اب ملک گھر گیا ہے ان میں ضرورت اتحاد کی پہلے سے کہیں زیادہ ہے مگر بادی النظر میں ہماری حزب اختلاف کی جماعتیں اس بات کو سوچنے کی ضرورت نہیں محسوس کر رہیں کہ ایسے میں ملک کسی بھی مخالف تحریک کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

یہ کھیل ہم اُسی وقت کھیل سکتے ہیں کہ جب ملک کو باہر سے کوئی خطرہ نہ ہو۔ جب نظر آ رہا ہے کہ امریکی سب یک زبان ہیں اور پاکستان کو سبق سکھانے کی باتیں کر رہے ہیں تو ہم صرف ٹرمپ کو پاگل کہہ کر اپنی جان نہیں چھڑا سکتے بلکہ ہمیں یک جا ہو کر اُس طوفان کا مقابلہ کرناہے جو امریکہ کی جانب سے ہم پر مسلط کیا جانے والا ہے‘ یہ طوفان اسی وقت جھیلا جا سکتا ہے کہ جب ہمیں حکومت گرانے کا ہیُ مدا سامنے نہیں رکھنا بلکہ ملک کے بچانے کامُدا سامنے رکھنا ہے‘ اس وقت حکومت کے خلاف تحریک کی جو باتیں ہو رہی ہیں اگر ہمیں امریکی چیلنج کا سامنا نہ ہوتا تو ہم اس تحریک کی حمایت کر سکتے تھے مگر اب یہ تحریک ن لیگ کو نہیں بلکہ ملک گرانے کی تحریک ہو گی اس لئے ہمارے جہاں دیدہ سیاست دانوں کو چاہیئے کہ وہ ملک کے دفاع کیلئے یک جاں ہو جائیں اور آپس کے اختلافات کو ایک طرف چھوڑ دیں، وقت آنے پر ایک دوسرے کے موقف کو غلط ثابت کرنے کا موقع بھی ملے گا ۔

اس وقت ایک کہانی کے گرد ملکی سیاست گھوم رہی ہے اور میاں نواز شریف پورے کنبے سمیت عدالتوں میں رُل رہے ہیں ، ہونا تو یہ چاہئے کہ اس وقت جب ایک سپر پاور پاکستان کے خلاف پوری طرح مشتعل ہے اور اپنے طور پاکستان کو ڈرانے دھمکانے میں آخری حد تک گئی ہے ، ملک کے اندر حز ب اختلاف اور حزب اقتدار کو ایک دوسرے کیلئے نرم گوشہ پیدا کرنا ہوگا اور یہ نرم گوشہ ایک دوسرے کیلئے نہیں بلکہ ملک کیلئے ہے، جسے ہر طرف سے خطرات کا سامنا ہے اور قومی یکجہتی اور اتحاد اسے ان خطرات سے باہر نکالنے کیلئے ضروری ہے‘ایسے میں سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے پر الزامات لگانا اور ایک دوسرے کے پاؤں کھینچنا ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے ‘ ہماری مغربی اور مشرقی سرحدات پر خطرات منڈلا رہے ہیں اور امریکہ کی طرف سے دھمکیاں الگ سے دی جارہی ہیں ‘ قومی یکجہتی اور اتحاد سے ان خطرات کا مقابلہ کیاجاسکتا ہے‘ سیاستدانوں کو ایک دوسرے کے لئے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ ملک ہے تو ان کی سیاست بھی ہے اور حکومت بھی۔اگر ملک کی سلامتی ہی خطرے میں پڑ جائے تو ایسی سیاست کا کیا فائدہ۔