246

امریکی پیغام اور نتائج!

نئے عیسوی سال کی ابتداء پر پاکستان کو اپنے جس سب سے بڑے اتحادی کی جانب سے جس قسم کا پیغام ملا ہے‘ قطعی طور پاکستان اُس کا مستحق نہیں تھا۔ امریکہ کے صدر کی جانب سے پاکستان کو ’جھوٹا اور دھوکے باز‘ قرار دیا گیا اِس پیغام کے بعد امریکہ کی ہندوستانی نژاد سفیر برائے اقوامِ متحدہ کی جانب سے غیر ملکی فوجی امداد کی مد میں پچیس کروڑ ڈالر کٹوتی کا اعلان بھی کر دیا گیا‘ جس کے بعد مزید تادیبی کاروائیاں بھی اگلے چند دنوں میں شاید سامنے آئیں۔ یہ پاک امریکہ تعلقات میں تازہ ترین پیشرفت ہے لیکن یہ سب کرنے سے پہلے اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے‘ اِس کی افواج دنیا کی طاقتور ترین افواج میں سے ہیں‘ یہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہے۔ خطے میں اِس کی اپنی ترجیحات اور مفادات ہیں‘ اِسے کوئی بنانا ریپبلک کی طرح ڈرایا دھمکایا نہیں سکتا۔ پاکستان کو واضح انداز میں اپنے مفادات و مقاصد کا تعین کرکے اپنی پالیسیز کا نفاذ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ کے مبہم اور طویل بیان میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کی ہتک یا پاکستان کے خلاف تادیبی کاروائی کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ پاکستانی عوام کے غم و غصے کا اظہار صرف پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کے بیان کے ذریعے ممکن ہوا‘پاکستان کو صاف انداز میں امریکہ کو بتا دینا چاہئے کہ: اول تو افغانستان اور اتحادی افواج سے پاکستان پر سرحد پار سے حملے روکنے کی توقع رکھتے ہیں۔

یہ حملے اُن ’محفوظ ٹھکانوں‘ سے ہو رہے ہیں جو ٹی ٹی پی‘ جماعت الاحرار اور دولت اسلامیہ کے دہشت گردوں کو افغانستان کی چالیس فیصد‘ غیر محکوم زمین پر حاصل ہیں‘ دوم‘ پاکستان افغانستان میں موجود افغان طالبان کے جنگجوؤں‘ کمانڈروں اور رہنماؤں کے کابل کی قومی اتحادی حکومت کے ساتھ سیاسی مذاکرات میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ امکان ہے کہ وہ سیاسی پیشکشوں کا جواب دیں گے‘ طاقت کے استعمال سے کام نہیں بنے گا۔ سوم‘ پاکستان اپنی سرزمین پر موجود افغان طالبان رہنماؤں کو تب تک گرفتار یا قتل نہیں کرے گا‘ جب تک وہ پاکستان پر یا پاکستان کی سرزمین سے دیگر ممالک کے خلاف حملوں یا دہشت گردی میں ملوث ہوں۔ اُنہیں نکالنے کے لئے ہمیں تمام افغان مہاجرین کو نکالنا پڑے گا۔ چہارم‘ پاکستان کشمیریوں کی تمام جائز اُمنگوں کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے۔ پاکستان اپنی سرزمین پر موجود تمام عسکریت پسند گروہوں‘ بشمول کشمیری عسکریت پسندوں کے خلاف ایکشن لے گا مگر صرف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تناظر میں‘ نہ اِس سے کم‘ نہ اِس سے زیادہ۔ پنجم‘ پاکستان اپنے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو محدود کرنے کیلئے امریکہ یا کسی اور سے بات صرف تب کرے گا جب بھارت بھی اپنے پروگرام محدود کرے۔

پاکستان کو یہ پالیسی فیصلہ لینا چاہئے کہ وہ امریکی مالی امداد یا کولیشن سپورٹ فنڈ کے نام پر معاوضہ قبول نہیں کرے گا۔ جب تک اسلام آباد واشنگٹن سے رقم لیتا رہے گا‘ تب تک اُسے ’کرائے کا قاتل‘ تصور کیا جاتا رہے گا۔ اگر ہمیں امریکہ سے رقم حاصل کرنی ہی ہے تو اسے افغانستان میں اسکی فورسزتک پہنچنے والے سامان کی بلند ٹرانزٹ فیس کے طور پر ہونا چاہئے مگر پاکستان کو افغانستان میں امریکہ نیٹو کی براستہ زمین و فضائی سپلائی کے معاہدے پر دوبارہ غور کرنا چاہئے۔ ایسی فورسز کو رسد کی فراہمی کا کیا جواز ہے جو ایک دن شاید پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ بن جائیں؟ حقیقت میں تو پاکستان اور دیگر علاقائی ریاستوں (چین‘ روس‘ ایران‘ ترکی اور وسطی ایشیائی ممالک) کے پاس اب معقول وجوہات ہیں کہ وہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کی جلد از جلد واپسی کے طریقوں پر غور کریں‘ ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان میں افواج کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ لیا ہے‘ وہ خطے میں اپنی طاقت برقرار رکھنے کیلئے غیر معینہ مدت تک وہاں رکنا چاہتا ہے‘ یہ ایک لامحدود جنگ کا نسخہ ہے۔ طالبان ایسا کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے جس میں غیر ملکی افواج کی واپسی کی شق نہ ہو اور طالبان کو فوجی طریقے سے ہرانا ممکن نہیں۔ امریکہ نے واضح طور پر ٹی ٹی پی‘ جماعت الاحرار‘ دولت اسلامیہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے کیلئے ’کافی اقدامات‘ نہیں کئے ہیں جو افغانستان میں موجود اپنے محفوظ ٹھکانوں سے پاکستان کیخلاف سرحد پار سے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں‘ یہ بھی قابلِ فہم ہے کہ امریکہ نے پاکستان کیخلاف بھارتی سرپرستی میں ہونیوالی دہشت گردی کی حمایت کی ہے تاکہ شاید چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کو نقصان پہنچایا جاسکے۔

تیسری بات‘ اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے کسی بحران کی صورت میں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر ’قبضہ کرنے اور تباہ کرنے‘ کے منصوبے بنا رکھے ہیں۔ سیاسی حل کو فروغ دینے میں امریکہ کی ہچکچاہٹ کی وجہ سے علاقائی ریاستوں کو یہ ذمہ داری خود لینی چاہئے‘ انہیں تمام رضامند افغان جماعتوں اور گروہوں کے ساتھ رابطے اور تعاون کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ افغان تنازعے کا ایک ممکنہ سیاسی حل نکالا جاسکے۔ اِس طرح کے امن مرحلے کیلئے امریکہ کی شمولیت یا عدم شمولیت دونوں ہی صورتوں میں کئی طریقے موجود ہیں‘ امریکہ ہمارے دشمن بھارت کا ساتھ دے رہا ہے‘ جبکہ ہمارے اسٹریٹجک پارٹنر چین اور اُسکے ’’ون بیلٹ اینڈ ون روڈ‘‘ منصوبے اور اقتصادی راہداری کا مخالف ہے۔ یہ کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو کچلنے کی بھارتی مہم کا حامی بھی ہے۔ اِن تمام وجوہات کی بناء پر ہمارے لئے یہی بہتر ہوگا کہ ہم امریکہ سے جان چھڑانے کے طریقوں پر غور کریں۔(مضمون نگار اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر تعینات رہے ہیں۔ بشکریہ: ڈان۔ تحریر: منیر احمد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)