245

سپر پاور کا زوال

امریکی صدر ٹرمپ کی یہ بات کہ امریکہ نے پاکستان کو کئی ارب ڈالر کی امداد دی ہے اتنی ہی سچ ہے کہ جتنی سابق امریکی صدر بش کی وہ بات سچ تھی کہ صدام حسین نے دنیا کو تباہ کرنے کیلئے خطرناک ہتھیاروں کے انبار جمع لگارکھے ہیں اور جن کو جواز بنا کر اس نے عراق پر ہلہ بولا تھا یہ اور بات ہے کہ اسے وہاں سے کچھ بھی نہ ملا تھا 1980ء کی دہائی میں اگر جنرل ضیاء الحق کھل کر امریکہ کی امداد نہ کرتا تو کیاوہ افغانستان سے سوویت یونین کی افواج کو باہر نکال سکتا تھا؟کبھی بھی نہیں!افغانستان کا اگرامریکہ اتنا ہی ہمدرد ہوتا تو وہاں سے سوویت افواج کے انخلاء کے بعد وہ افغان عوام کو تنہا اوربے دست وپا چھوڑ کر ان سے منہ نہ موڑ لیتااور جس طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد اس نے تباہ شدہ یورپ کی بحالی کیلئے مارشل پلان کے نام سے جو اقتصادی ترقی کا منصوبہ بنایا تھا بالکل اسی نوعیت کا ایک منصوبہ وہ افغانستان کی تعمیر نو کیلئے بھی بناتا اگر وہ ایسا کرتاتو وہ افغانیوں کے دل جیت سکتا تھا اور اس صورت میں نہ اسامہ بن لادن کو وہاں پناہ ملتی اور نہ نائن الیون کے بعد ہونے والے واقعات کا افغانستان کو سامنا کرنا پڑتا امریکہ کا پاکستان پر یہ الزام مضحکہ خیز لگتا ہے کہ وہ دہشتگردوں کو اپنی سرزمین سے افغانستان کے اندر دہشتگردی کرنے بھجوا رہا ہے امریکہ سے کوئی تو یہ پوچھے کہ آخروہ وہاں کیا کر رہا ہے کیا اسکے فوجیوں نے ہاتھوں میں مہندی لگا رکھی ہے جو وہ پاکستان سے افغانستان میں مبینہ طور پر داخل ہونیوالے دہشتگردوں پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے؟

خدا لگتی یہ ہے کہ امریکہ وسط ایشیا ‘روس اور چین پر گہری نظر رکھنے اور ان کے اندر سازشوں کے جال بچھانے کیلئے ان کے قرب و جوار میں اپنی موجودگی چاہتا ہے اور افغانستان سے زیادہ موزوں جگہ اس کو بھلا کہاں مل سکتی ہے دنیا کے عوام اب کافی باشعور اور سیاسی طور پر بیدار ہو چکے ہیں وہ اڑتی چڑیا کے پر گن لیتے ہیں امریکہ کے زوال کے دن شروع ہو چکے ایک پرانی کہاوت ہے کہ قدرت جس انسان کو تباہ کرنا چاہے تو پہلے اسے پاگل بنا دیتی ہے اور یہ کہاوت افراد بلکہ قوموں پر بھی لاگو ہوتی ہے قدرت نے امریکہ پر ٹرمپ کی شکل میں ایک مخبوط الحواس شخص کو بطور صدر مسلط کر دیا ہے اگر کسی کو ٹرمپ کے خبطی ہونے میں کوئی شک ہو تو وہ مائیکل وولف کی نئی کتاب Fire and furyکا بغور مطالعہ کرے اس کے مندرجات سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایک نارمل انسان بالکل نہیں وہ ایک ذہنی مریض ہے ٹرمپ ویسے تو شمالی کوریا کے جواں سال رہنما کو خبطی قرار دیتا ہے لیکن اسے غالباً یہ خبر نہیں کہ وہ اس سے بھی بڑا پاگل ہے۔

یہ امریکہ کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک دور تھا جب اس کے صدر روز ویلٹ ‘ جیفرسن ‘ ابراہام لنکن ‘ جار ج واشنگٹن ‘آئزن ہاور جیسے نابغے ہوا کرتے تھے اور آج وائٹ ہاؤس کا مکین ایک متلون مزاج ‘ وہموں بھرا‘ من موجی ‘ نرالا اور وسواسی قسم کا شخص ہے کہ جو اپنے سائے سے بھی خائف ہے جو رات کو سوتے وقت اپنے بستر کی چادروں کو بھی خود بدلتا ہے جسکو وائٹ ہاؤس کے سٹاف کے کئی افراد پاگل سمجھتے ہیں ‘ اس قسم کے شخص کے ہاتھ میں اگر ایٹم بم چلانے کا بٹن ہو تو تمام عالم انسانیت کا مستقبل خطرے میں دکھائی دیتا ہے ٹرمپ مسلمانوں کا ایسا ہی دشمن دکھائی دے رہا ہے کہ جیسے ہٹلر یہودیوں کا تھا یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے اندر جو سنجیدہ قسم کے لوگ ہیں انہوں نے اسکے ہاتھوں ممکنہ خطرے کو بھانپتے ہوئے ٹرمپ کیخلاف ایک مضبوط لابی بنانیکی کوشش شروع کر دی ہے تاکہ آئندہ صدارتی الیکشن میں اسکی دوبارہ کامیابی کا راستہ روکا جائے لگ یہ رہا ہے کہ ٹرمپ آئندہ صدارتی الیکشن میں شاید اپنی بیٹی یا داماد کو پروموٹ کریں ۔