206

پورا اعزاز اور پوری عزت

سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعدانسداد دہشت گردی کی قومی حکمت عملی بنائی گئی تو اس پر عمل درآمد بھی محدود دکھائی دیتا ہے اور اس مسئلے پر قومی و صوبائی فیصلہ سازوں کی جانب خاطرخواہ حساسیت کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آ رہا‘یہی وہ محرک ہے جسکی وجہ سے سانحہ آرمی پبلک سکول کے زخم ہنوز تازہ ہیں اور ان کی آنکھوں سے گرتے بے ترتیب آنسو آج بھی التجا کر رہے ہیں کہ معصوم بچوں کی قربانیوں کو باوقار انداز میں خراج تحسین پیش کیا جائے!شہید بچوں کے والدین نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے تاکہ صوبائی حکومت مذکورہ سانحے کی یاد میں تعمیر کرنے والی یادگار کا افتتاح نہ کرے‘ اس سلسلے میں عدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ایسی کسی بھی یادگار کی سرکاری سطح پر رونمائی اور افتتاح سے روک دیا ہے کیونکہ متاثرہ والدین کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت نے جس انداز سے یادگار تعمیر کی ہے‘ وہ محض خانہ پری ہے جس سے انکے بچوں کی قربانیوں کو خاطرخواہ ’خراج تحسین‘ نہیں مل پائے گا اور عدالت اس بات سے متفق ہے یا نہیں اس کا فیصلہ آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے۔

‘ پشاور ہائی کورٹ کا دو رکنی بنچ جسٹس قیصر رشید خان اور جسٹس محمد غضنفر خان نے نو جنوری کے روز فضل خان ایڈوکیٹ کی دائر درخواست پر غور کیا‘ جن کا اپنا بیٹا شہزادہ عمر خان شہید ہونیوالے طالب علموں میں شامل تھا۔ صوبائی حکومت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ عدالت کے روبرو پیش ہو کر وضاحت کرے کہ سانحہ اے پی ایس کی یادگار کیلئے جو ڈیڑھ کروڑ روپے مختص کئے گئے‘یہ پوری رقم مذکورہ صرف اور صرف یادگار کی تعمیر پر خرچ کیوں نہیں کی گئی؟ یہ بنیادی سوال اپنے اندر کئی سوالات بھی رکھتا ہے جس سے سرکاری تعمیراتی کاموں کی منظوری کے عمل‘ ترجیحات کی بعدازاں تبدیلی اور صوابدیدی اختیارات کی وجہ سے نظام میں در آنیوالی خرابیوں کی نشاندہی ہوتی ہے‘ جسٹس قیصر رشید کے ریمارکس میں چھپا دکھ اور تشویش سے اختلاف ممکن نہیں جنہوں نے کہا کہ ’آرمی پبلک سکول کے بچوں کی یاد اور ان کی قربانیوں کی پوری قوم شاہد ہے اور جنہیں پورا‘ اعزاز اور پوری عزت ملی چاہئے۔‘‘ اس میں کوئی دو رائے نہیں اور نہ ہی شک کی گنجائش ہے سانحۂ آرمی پبلک سکول کے بچوں کو خراج تحسین اُن کے والدین کی تسلی و تشفی اور پورے وقار سے ہونا چاہئے۔صوبائی حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی مذکورہ یادگار پلاسٹک اور فائبر گلاس میٹریل سے بنائی گئی ہے‘ اور یہ دونوں میٹریل کم قیمت بھی ہیں اور انکی پائیداری بھی کم عرصے کے لئے ہوتی ہے۔ جس سے یہ عمومی تاثر اُبھرا ہے کہ اِس تعمیراتی کام کیلئے مختص ڈیڑھ کروڑ روپے کی رقم کا بڑا حصہ خوردبرد ہوا ہے۔

عدالت کے سامنے پیش کئے جانے والے حقائق سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ یادگار کی تعمیر کیلئے تخمینہ جات پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے ڈیڑھ کروڑ روپے سے چھیساسٹھ لاکھ اور بعدازاں لائبریری کیلئے کتابوں کی خرید کو بھی یادگار کے تعمیراتی منصوبے کا حصہ بنادیا گیا اور یوں صوابدیدی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے یادگار سے زیادہ پیسے یعنی چوراسی لاکھ روپے کی کتب خریدنے کی منظوری دے دی گئی وہ ترقیاتی کام جو اپنی اصل شکل میں کابینہ اور اسمبلی سے منظور ہوا‘ اس میں بعدازاں ردوبدل نہیں ہونا چاہئے تھاافسوسناک امر یہ بھی ہے کہ متاثرہ بچوں کے والدین نے معلومات تک رسائی کے قانون کے ذریعے اس منصوبے کی تفصیلات طلب کیں تو متعلقہ ادارے نے ان تفصیلات کا تبادلہ کرنے سے بھی انکار کیا‘جس سے متعلقہ والدین میں تشویش کا پیدا ہونا ایک فطری عمل تھا۔ سانحہ اے پی ایس کی یادگار تعمیر نہ بھی ہوتی تو ان پھول جیسے بچوں اور فرض شناس اساتذہ کی یاد پشاور اور پاکستان کے دل سے محو نہیں ہو سکتی تھی‘ چہ جائیکہ صوبائی حکومت اس غم اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے اور اس میں برابر کی شریک ہونے کی بجائے ملزم بن گئی ہے اور بدقسمتی سے ایک ایسے معاملے کو بھی متنازعہ بنادیا گیا ہے جو پوری قوم کے جذبات سے متعلق ہے۔

اصولی طور پر متاثرہ والدین اور سکول انتظامیہ کو یادگار کی تعمیر کے عمل میں شریک ہونا چاہئے تھاسکول ہی کے بچوں کے ذریعے ڈیزائن اور اس کے خدوخال طے ہوتے تو کسی کو بھی عدالت سے رجوع‘ حکم امتناعی حاصل کرنے اور اِس بارے میں غلط فہمی نہ ہوتی۔ لیکن شاید خود کو عقل کل سمجھنے والوں کو اب احساس ہو چکا ہوگا کہ ان کے ساڑھے چار سالہ اقتدار میں خیبرپختونخوا آج بھی گڈگورننس سے محروم ہے۔