2226

نئے کرنسی نوٹ

رواں ماہ کے دوسرے ہفتے میں فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی اسلام آباد میں تصاویر کی نمائش کا خاص اہتمام کیا گیا‘ اس نمائش میں فنون لطیفہ کی تعلیم حاصل کرنیوالی 22سالہ طالبہ ردا مشتاق کی بنائی ہوئی ان تصاویر کو پیش کیا گیا جسکی بنیاد پر ان کے تدریسی عرصے کی تکمیل اور مہارت کا تعین کرنا تھا۔ نمائش کی خاص بات یہ تھی کہ ردا مشتاق نے پاکستان کے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن ملکی تاریخ و ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ ایسے اچھوتے انداز سے تخلیق کئے کہ ان سے نہ صرف کرنسی کا بنیادی مقصد بخوبی اجاگر بلکہ چاروں صوبوں کی نمائندگی بھی ہو رہی تھی‘ کرنسی نوٹوں کو تخلیقی قوت سے شاہکار بنا کر پیش کرنا اچھوتا لیکن مشکل تصور تھا اور کوئی بھی معمولی ذہانت رکھنے والا آرٹسٹ ایسا کرنے کی ہمت نہیں کر سکتا‘کرنسی نوٹ کو دلچسپ اور حاصل مطالعہ بنانا صرف اسی صورت ممکن ہے کہ کوئی پاکستان اور اسکی ساکھ و شناخت میں دلچسپی رکھتا ہو۔ جو پاکستان کو سوچتا ہو اور پاکستان کو علوم و وفنون کی جدید دنیا میں مختلف مقام پر دیکھنے کا خواہشمند بھی ہو‘ ردا مشتاق کے بنائے ہوئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن بلاشبہ آرٹ کا نمونہ ہیں اور قابل عمل بھی ہیں‘ان تصویری خاکوں کی نمائش 12 اگست سے چند روز جاری رہنے کے بعد ختم ہو گئی لیکن سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ پر نئے کرنسی نوٹوں کی تصاویر اِس پیغام کے ساتھ آج بھی زیرگردش ہیں کہ سٹیٹ بینک کرنسی نوٹ تبدیل کرنے جا رہا ہے‘ کاغذ کی بجائے اس مرتبہ کرنسی نوٹوں کی اشاعت کیلئے ایسی پلاسٹک استعمال کی جائیگی‘ جس پر پانی‘ گرد یا موسم اثرانداز نہیں ہوں گے‘ ۔

اس سلسلے میں مغربی ممالک کی مثالیں دی گئیں جہاں پلاسٹک سے بنی ہوئی کرنسی استعمال ہو رہی ہے اور ایسی کرنسی کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ اس کی نقل عمومی پرنٹنگ مشینوں پر کرنا ممکن نہیں ہوتا جبکہ پلاسٹک پر ہونے کی وجہ سے کاغذ کے مقابلے ایسے نوٹوں کی قابل استعمال عمر زیادہ ہوتی ہے‘ ضمنی موضوع یہ بھی زیربحث ہے کہ حکومت پانچ ہزار روپے کا نوٹ ختم کرنے جا رہی ہے اور یہ فیصلہ ملک سے رشوت اور بدعنوانی ختم کرنے کیلئے کیا گیا ہے جیسا کہ بھارت نے نومبر2016ء میں کیا جب بڑی مالیت کے نوٹوں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ملک میں رشوت کے امکان کو کم کیا جا سکے۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے 1938ء میں 10 ہزار روپے کا نوٹ جاری کیا تھا‘ جسے برصغیر کی تقسیم کے بعد ختم کر دیا گیا لیکن 1954ء میں بڑی مالیت کے کرنسی نوٹ پھر سے جاری کئے گئے‘ جنوری 1978ء میں پانچ سو‘ ایک ہزار اور دس ہزار کے نوٹ ختم کئے گئے‘ 8 نومبر 2016ء کو حکومت نے پانچ سو اور ایک ہزار بھارتی روپے ختم کرنے کا اعلان کیا‘ جسکا اگرچہ فوری اثر عوام میں پریشانی پھیلنے کی صورت ظاہر ہوا‘ حصص کی مارکیٹ 6 فیصد گرواٹ کا شکار ہوئی لیکن بھارت کی سیاسی قیادت نے مشکل فیصلے کو قوت ارادی سے آسان بناکر دکھایا کیونکہ کوئی بھی ملک بدعنوانی ختم کئے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بھی یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ5000 روپے مالیت کے کرنسی نوٹ پر پابندی عائد ہونی چاہئے کیونکہ اسکے ذریعے لاکھوں روپے رشوت کی لین دین اور سرمائے کی غیرقانونی نقل و حمل کرنے والوں کو آسانی رہتی ہے۔کہانی یہ تھی کہ فائن آرٹس کی ایک طالبہ ردا مشتاق نے اپنے تصور اور تخلیقی قوت کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن تجویز کئے جبکہ ان کے بھائی نے سوشل میڈیا پر تصاویر جاری کرتے ہوئے نہیں سوچا کہ اس سے کیا پیغام منتقل ہوگا۔

ردا مشتاق کے تخلیق کردہ فن پاروں کو سوشل میڈیاپر سراہا گیا لیکن ان پر علمی ادبی حلقوں اور خود فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے تنقید کی گئی کیونکہ انہوں نے بانی پاکستان کی شبیہ کو کرنسی نوٹوں کی زینت نہیں بنایا ‘یہ بحث صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ اسکے فوری عملی اثرات بھی ظاہر ہوئے ہیں‘ جیسے ہی پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ اور چالیس ہزار روپے مالیت کے انعامی بانڈز بند ہونے کی افواہیں سوشل میڈیا پر زیرگردش آئیں توآن کی آن سونے کی فی تولہ قیمت اٹھاون ہزار تین سو روپے سے تجاوز کرگئی‘یہ غیرمعمولی اضافہ فی تولہ تین ہزار روپے اسلئے دیکھنے میں آیا کیونکہ کالا دھن رکھنے والوں نے پانچ ہزار کے نوٹ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے سونے کی خریداری کو ترجیح دی‘اندیشہ یہ ہے کہ اگر غلط فہمی کا ازالہ نہ ہوا تو پاکستانی مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت ساٹھ ہزار روپے تک بڑھ سکتی ہے‘ عمران خان کی قیادت میں نئی سیاسی حکومت نے ابھی تک اقتصادی ابتری کو بہتری میں تبدیل کرنے کیلئے اپنی حکمت عملی کے خدوخال واضح نہیں کئے لیکن انکی جانب سے بالکل ویسا ہی ردعمل متوقع ہے جیسا کہ 8 نومبر کی دیر رات بھارت کے وزیراعظم نے ٹیلی ویژن پر براہ راست نشریئے میں بڑی مالیت کے کرنسی نوٹ ختم کرنے کا اچانک اعلان کیا‘پاکستان میں بھی اقتصادی اصلاحات اس وقت تک کارآمدثابت نہیں ہوں گی جب تک مالی بدعنوانیوں کے جملہ امکانات ختم نہیں کر دیئے جاتے!