243

دوسری ڈولفنز کو کرتب سکھانے والی استاد ڈولفن

آسٹریلیا: 1988 میں ایک آلودہ سمندری کریک سے بازیاب کرائی گئی ایک ڈولفن دورانِ بحالی دوسری ڈولفن کو دیکھ کر کرتب سیکھ گئی اور جب سے اسے سمندر میں چھوڑا گیا تو اسے دیکھ کر اب تک مزید 9 ڈولفنز بھی اس کرتب سے واقف ہوچکی ہیں۔

آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں ایک بوٹل نوز ڈولفن ’بلی‘ کو رکھا گیا تو اس ڈولفن تفریح گاہ میں اس نے کرتب دکھانے والی ڈولفنز کو دیکھ کر اپنی دم کے بل پر تیرنا سیکھ لیا۔ اس کرتب  میں ڈولفِن سیدھی ہوکر دم کے بل پانی کی سطح پر آگے بڑھتی ہے۔ لیکن 2011 میں جب اس ڈولفن کو سمندر میں چھوڑا گیا تو اس نے مزید 9 ڈولفنز کو یہ کرتب سکھایا جسے دیکھ کر ماہرین حیران ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ دنیا کا پہلا واقعہ ہے کہ ایک ممالیے نے اپنے ماحول میں جاکر اپنی نوع کے دیگر جاندراروں کو کسی نئی چیز کی تربیت دی ہے۔ اس کی تفصیلات رائل سوسائٹی کے تحقیقی جرنل ’بائیالوجی لیٹرز‘ میں شائع ہوئی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح ایسے جاندار مشکل حالات میں بھی خود کو ڈھال کر زندہ رہنا سیکھ سکتے ہیں اور آب و ہوا میں تبدیلی یا آلودگی وغیرہ کو بھی جھیل سکتے ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ ڈولفن میں دم پر کھڑے ہوکر تیرنے کا رحجان کم ہوتا جارہا ہے اور توقع تھی کہ مزید ڈولفنز اسے بھول جائیں گی۔ لیکن اب معلوم ہوا کہ ذہانت بھری ڈولفن یہ کام تیزی سے سیکھ جاتی ہیں اور قدرتی انتخاب (نیچرل سلیکشن) کے مقابلے میں وہ تیزی سے نئے سبق سیکھتی ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ جانداروں اور خصوصاً ڈولفنز میں نئی معلومات سیکھنا ہر طرح سے ایک مفید عمل ہوتا ہے، تاہم اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔