400

قدرتی زہر سے کئی امراض کے علاج میں پیش رفت

نیویارک: امریکی ماہرین نے کہا ہے کہ قدرت کے کارخانے میں پائے جائے والے مختلف زہروں سے ذیابیطس، درد اور دیگر کئی بیماریوں کا علاج کیا جاسکتا ہے۔

نیویارک میں سٹی یونیورسٹی اور ہنٹر کالج کے ماہرین نے کہا ہے کہ زہر پیچیدہ اور طویل مرکبات ہوتے ہیں جن میں موجود ایٹموں کی ترتیب پہلے معلوم نہیں کی جاسکی تھی لیکن اب جدید تکنیک کی بدولت ان کے راز آشکار ہوئے ہیں اور کئی امراض کے علاج کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

اس ضمن میں مرگی کو روکنے والی ایک دوا مکڑی کے زہر سے تیار کی گئی ہے۔ تاہم کیڑے مکوڑوں اور رینگنے والے جانوروں کے زہر کی سمّیت (toxicity) سے فائدہ اٹھانے کےلیے اس زہر سے وابستہ ارتقائی مدارج کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے اب تک زہر سے اخذ کی گئی 6 ادویہ پر تحقیق آگے بڑھانے اور ابتدائی تجرباتی طور پر انسانوں کے علاج میں آزمانے (فیز 1 کلینیکل ٹرائلز) کی منظوری دی ہے۔ ان میں سے ایک مثال ڈیتھ اسٹاکر بچھو کی ہے جو کلوروٹاکسن نامی ایک زہر پیدا کرتا ہے۔ یہ اعصابی زہر اس لیے منفرد خیال کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں کینسر زدہ خلیوں کو شناخت کرکے صرف ان کے ساتھ ہی منسلک ہونے کی خداداد صلاحیت پائی جاتی ہے۔ یہ خاصیت کلوروٹاکسن کو سرجری سے قبل تمام سرطان زدہ خلیات کو مکمل طور پر ختم کرنے میں ممکنہ طور پر مفید و قابلِ استعمال بناسکتی ہے۔

اسی طرح سمندری گھونگھے سے ملنے والے اعصابی زہر سے شدید درد کو کم کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین نے بہت سے زہریلے جانوروں سے سرطان کے خلاف کئی مفید اجزاء بھی کشید کیے ہیں۔