202

امریکی وزیرخارجہ کا دورہ

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیپو کے دورہ پاکستان سے متعلق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات میں جمود ٹوٹ گیاہے‘ امریکہ نے پہلی بار ڈومور کا مطالبہ نہیں کیا؟ امدادی فنڈ روکے جانے سے متعلق بات ہی نہیں ہوئی‘ وزیر خارجہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امریکہ پر واضح کردیا ہے کہ ہر مطالبہ پورا نہیں کرسکتے‘ بلیم گیم ختم کرکے آگے بڑھنا ہوگا‘ امریکی وزیرخارجہ نے اپنے دورے میں وزیراعظم عمران خان‘ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر خارجہ سے تبادلہ خیال کیا‘ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ کیساتھ عزت واحترام پر مبنی تعلقات چاہتا ہے‘ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے مائیک پومپیو کے دورے سے متعلق تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردوں کیخلاف مستقل وفیصلہ کن اقدامات اٹھانا ہونگے ‘ امریکہ کا کہنا ہے کہ تجارت سمیت وسیع کامیابیوں کی بنیاد رکھ دی ہے۔

فوجی امداد کی بحالی سے پہلے بہت کچھ کرنا ہوگا‘ امریکی وزیر خارجہ اسلام آباد میں عمران خان کیساتھ ملاقات کو باہمی تعلقات کی بحالی میں مددگار قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان نے وہ کارکردگی نہیں دکھائی جس کی توقع تھی‘ پاکستان کی قیادت نے خطے کے مجموعی منظر نامے کی روشنی میں وطن عزیز کے موقف کو واضح اور دو ٹوک الفاظ میں پیش کردیا ہے‘ وزیراعظم عمران خان پہلے ہی اس ضمن میں اپنی حکومت کی پالیسی کے خدوخال واضح کرچکے ہیں‘ پاکستان کے موقف کیساتھ ایک عرصے سے امن کے قیام کیلئے قربانیوں کا عملی ثبوت جڑا ہوا ہے‘ پاکستان کی اکانومی اس سارے عمل میں متاثر ہوئی ہے‘اس ساری صورتحال کا تقاضاتو یہ تھا کہ نہ صرف پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کو سراہا جاتا‘ پاکستان کی معیشت بحال کرنے کیلئے کوشش کی جاتی‘الٹا ڈومور کے مطالبوں کیساتھ بے بنیاد الزام تراشیاں کی جاتی رہیں‘ قابل اطمینان ہے کہ پاکستانی قیادت نے اب ہر مرحلے پر امریکہ کو مسکت جواب دینا شروع کیا ہے‘ ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ سمیت عالمی برادری پاکستان کے موقف کو سمجھنے کیساتھ بھرپور سپورٹ فراہم کرے۔

وفاقی‘ صوبائی حکومتوں کے فیصلے

وفاقی کابینہ نے وزارتوں اور ڈویژنوں کے صوابدیدی فنڈز ختم کردیئے ہیں کابینہ نے لیپ ٹاپ سمیت وزیراعظم کی سکیمیں بند کردی ہیں جبکہ مدارس اور سکولوں کیلئے یکساں نصاب لانے اور غیر قانونی اثاثوں کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنائی ہے عین اسی روز خیبرپختونخوا کابینہ نے احتساب کمیشن ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘ وفاقی اور صوبائی سطح پر ہونیوالے فیصلے قابل اطمینان ضرور ہیں تاہم ان سب کا ثمر آور ہونا عملدرآمد کیلئے مکینزم دینے کیساتھ مشروط ہے‘ جہاں تک صوبے میں احتساب کمیشن کا سوال ہے تو ایک ہی وقت میں مرکز اور صوبے میں ایک ہی نوعیت کے ادارے قائم کرنے کا فیصلہ ہی عجیب تھا‘ اس کیساتھ صوبے میں اینٹی کرپشن کا محکمہ بھی اپنا کام کررہا تھا‘ ایسے میں صوبائی احتساب کمیشن پر متعدد سوال اٹھے بھی تاہم اب ضرورت کمیشن کے خاتمے کے بعد ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ اور کیسوں کی نیب منتقلی کے کام کی ہے‘ صوبے میں معذور اور معمر افراد کو صحت کارڈ جاری کرنا قابل اطمینان سہی پر ان کارڈز پر خدمات کا ملنا یقینی ہوجائے تو اسے سود مند فیصلہ سمجھا جائیگا‘ بصورت دیگر اعلان صرف اعلان ہی رہے گا۔