268

مستقبل کی سوچ

پاکستان میں جس طرح رہائشی اور کاروباری علاقوں کے درمیان تمیز کرنا مشکل ہے بالکل اسی طرح خالصتاً کاروباری نکتہ نظر سے نجی اداروں کی حاکمیت کیخلاف ریاست کا وجود بھی کمزور دکھائی دیتا ہے۔ طب جیسے حساس شعبے میں اعلیٰ تعلیم کی صورتحال بھی ناقابل بیان ہے جسکے ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو تحلیل کرتے ہوئے سات رکنی عبوری کمیٹی تشکیل دی ہے جو آئندہ کسی حکم نامے تک روزمرہ امور کی انجام دہی کریگی‘ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پی ایم ڈی سی کے وجود اورسنٹرل ایڈمیشن پالیسی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جو سات رکنی عبوری کمیٹی تشکیل دی اسکی سربراہی جسٹس شاکر اللہ جان کریں گے جبکہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف پی ایم ڈی سی سے متعلق قانون سازی میں معاونت کی غرض سے کمیٹی کا حصہ بنائے گئے ہیں‘ اس اعلیٰ اختیاراتی عبوری کمیٹی کو نجی میڈیکل کالجوں کی جانچ پڑتال کا اختیار بھی حاصل ہوگا‘ جو خوش آئند اقدام ہے اور امید ہے کہ سپریم کورٹ کی اس دلچسپی اور باریک بین خلوص نیت کوشش سے خاطرخواہ بہتری آئے گی۔

’’سمجھ میں زندگی آئے کہاں سے۔۔۔ پڑھی ہے یہ عبارت درمیاں سے۔ (جان ایلیا)۔‘‘پاکستان میں رجسٹرڈ طبی معالجین کی تعداد ایک لاکھ چونسٹھ ہزار اور اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تعداد سینتالیس ہزار ہے جبکہ پچیس ہزار ماہر ڈاکٹر پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک جا چکے ہیں! زوال نہیں تو کیا ہے کہ معاشرے کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے‘ ذہین‘ باشعور‘ مفید اور زمینی حقائق کو سمجھنے والوں نے خود کو انجان بنا رکھا ہے اور وہ ایک ایسے ماحول سے دل برداشتہ ہیں جسے ٹھیک کرنا خود انہی کی ذمہ داری ہے۔ طب کی تعلیم کا انتظام اور اس کا معیار برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے‘ اس آئینی فرض سے انکار ممکن نہیں لیکن تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم نے سب کچھ حکومت پر ڈال دیا ہے سرکاری خرچ پر ڈاکٹری کی عملی تربیت اور مہارت حاصل کرنے کے بعد جو ڈاکٹر پاکستان کو چھوڑ کر جاتے ہیں‘ انہیں اپنے ضمیر کے سامنے بھی جواب دینا چاہئے کہ اُن پر مٹی کا کتنا قرض واجب الاداء ہے‘ یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ پچیس ہزار سے زائد ڈاکٹر بیرون مل جانے کے باوجود بھی حکومت کو نہیں بلکہ عدالت عظمی کو لاحق تشویش سامنے آئی ہے۔ اگر مذکورہ پچیس ہزار ڈاکٹر بیرون ملک نہ بھی گئے ہوتے تب بھی پاکستان میں ماہر ڈاکٹروں کی تعداد حسب آبادی کم ہے جس پر قابو پانے کیلئے حکومت کے پاس منصوبہ نہیں‘ ۔

ڈاکٹر اگر بیرون ملک جا رہے ہیں تو اس کی وجہ وہاں کے بہتر ملازمتی طریقۂ کار اور حالات کار ہیں جن میں انہیں مالی طور پر کشش دکھائی دیتی ہے‘ پاکستان میں ڈاکٹروں کو جان و مال اور ملازمتی تحفظ فراہم کرنے کیساتھ اہلیت کی بنیاد پر اگر محکمانہ ترقی کا نظام وضع کر دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں ہوگی کہ کوئی اپنا ملک اور آبائی شہر چھوڑ کر چلا جائے۔سپریم کورٹ کے سامنے زیرغور معاملہ طب کی تعلیم اور نجی اداروں کی من مانیوں کا ہے۔ عدالت عظمی نے بظاہر عزم کر رکھا ہے کہ میڈیکل کی تعلیم دینے کیلئے مقرر کردہ فیسوں سے زائد وصولیاں کرنے اور ایڈمشنز دینے کیلئے عطیات پر عائد پابندی کا کھلم کھلا مذاق اڑانے والوں سے نمٹا جائے گا اور اس عدالتی مؤقف کی حمایت خود پی ایم ڈی سی کے وکیل نے بھی کی ہے کہ نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے مقررہ شرح کے مطابق داخلہ فیسوں اور انکے علاوہ عطیات کے نام پر وصولیاں غلط اقدام ہے‘ پی ایم ڈی سی کی جانب سے میڈیکل کی سالانہ فیس 6 لاکھ 42 ہزار روپے مقرر ہے جبکہ نجی میڈیکل کالجز فی طالب علم سالانہ فیس کی مد میں 9 سے 15 لاکھ روپے وصول کر رہے ہیں‘سالانہ فیسوں اور دیگر مدوں میں اضافی وصولیاں کرنے کی باقاعدہ رسیدیں دی جاتی ہیں۔

پاکستان میں طب کی تعلیم کا معیار اور نجی اداروں کی حاکمیت و سرپرستی بدقسمتی سے دانستہ طور پر کی جا رہی ہے اور حکومتوں نے ہمیشہ عوام کے مقابلے سرمایہ داروں کے مفادات کا زیادہ تحفظ کیا ہے‘ یہ طرزعمل ناقابل قبول ہے‘ طب کی تعلیم حاصل کرنیوالوں کو عملی زندگی میں جن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے نجی میڈیکل کالجوں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء و طالبات انکے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اگر پاکستان میں ڈاکٹروں اور ماہر ڈاکٹروں سمیت آبادی کے تناسب سے طبی سہولیات کی کمی ہے تو اِس میں اضافہ حکومتی وسائل سے خود حکومت ہی کو کرنا چاہئے‘ عمومی تعلیم کی طرح طب کی پیشہ وارانہ تعلیم بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے سے پیدا ہونے والی خرابیوں پر تعجب کا اظہار کرنیکی بجائے غلطی سے رجوع ضروری ہے معاملہ سالانہ فیسوں کی زائد وصولی سے زیادہ گھمبیر ہے کیونکہ طب کی تعلیم کا معیار بھی گر رہا ہے ذرائع ابلاغ میڈیکل کی تعلیم سے جڑی بے قاعدگیوں کی مسلسل رپورٹ کرتے آ رہے ہیں لیکن کسی کو احتساب کا خوف نہیں جب تک اربوں کی اِس مالی و انتظامی بدعنوانیوں کی جڑ تک نہیں پہنچا جائے گا اور ماضی و حال میں کی گئی خوردبردکا حساب نہیں لیا جائے گا اسوقت تک معاملات کی درستگی محض عدالتی سماعتوں اور عبوری انتظامیہ تعینات کرنے سے ممکن نہیں ہوگی۔