142

وزیراعظم کا خطاب اور سول ادارے

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کبھی کسی دوسرے ملک کی جنگ میں شریک نہیں ہوگا ‘جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے ادارے مضبوط کرنے ہیں اور اگر کوئی ادارہ اس وقت متحد ہے تو وہ پاک فوج ہے اس سب کے ساتھ وزیراعظم اس حقیقت کا اعتراف کررہے ہیں کہ پاکستان کو بڑے مسائل درپیش ہیں اور ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے تقریب سے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ کوئی فرد ادارے سے اور ادارے قوم سے مقدم نہیں دفاع پاکستان کے لئے ہم سب یکجان ہیں اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ پاک فوج پوری قوم کیلئے باعث فخر ہے جہاں تک وطن عزیز کی خارجہ پالیسی کا تعلق ہے تو اس میں پاکستان نے اپنا موقف بالکل کلیئر رکھا ہے اور اب وزیراعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کی جنگ نہیں لڑے گا ۔

وزیراعظم کے خطاب میں جہاں ملک کو درپیش چیلنجوں کا ذکر ہے وہیں اداروں کو مضبوط کرنے کا عزم بھی ہے وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ملک میں سویلین ادارے نان فنکشنل ہیں اس وقت فرائض سے غفلت کے رجحان‘سیاسی بنیادوں پر خلاف میرٹ تقرریوں اور کرپشن نے پورے سسٹم کو متاثر کررکھا ہے غیر ملکی قرضے 28 ہزار کروڑ جبکہ صرف انرجی سیکٹر کے گردشی قرضے1100ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں بیوروکریسی میں اصلاحات کی ضرورت اپنی جگہ ہے تاہم پہلے مرحلے میں سرکاری اداروں کو سیاسی دباؤ اور خلاف میرٹ تقرریوں وتبادلوں سے پاک کرنا ضروری ہے کرپشن کے خاتمے کیساتھ ٹیکس نظام کو فول پروف اور عوام دوست بنانا ہوگا سرمایہ کاری کے لئے بہتر ماحول دینے کیساتھ ضروری ہے کہ مقامی صنعت کو مستحکم کیا جائے انڈسٹری کا استحکام سمگلنگ کے خاتمے سے جڑا ہوا ہے اس سب کے ساتھ ملک میں عوام کی ریلیف کے لئے اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں‘عام شہری کو سانس آلودہ فضاء میں لینا پڑرہا ہے تو پانی بھی صاف نہیں ملتا گرانی ریکارڈ توڑ سطح پر ہے جبکہ ملاوٹ کے مکروہ دھندے میں انسانی صحت اور زندگی سے کھیلا جارہا ہے حکومت کو مختلف معاملات پر کمیٹیاں اور ٹاسک فورسز بنانے کے ساتھ پبلک کی ریلیف کے لئے صوبوں کی مشاورت سے فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں جن کے لئے خدمات اور دوسرے سول اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

صرف ہیرٹیج ٹریل کیوں؟

پشاور کے ناظم ٹاؤن ون صوبائی دارالحکومت میں نو تعمیر شدہ ہیرٹیج ٹریل منصوبے کے فرش اکھڑ جانے پر برہم ہو گئے ہیں اپنے اچانک دورے میں وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کروڑوں روپے کے پراجیکٹ میںآئرن ٹاکیاں بھی نہیں جبکہ صفائی ستھرائی بھی نظر نہیں آتی ناظم ٹاؤن ون کا احساس قابل اطمینان سہی تاہم بات صرف ہیرٹیج ٹریل تک محدود نہیں صوبائی دارالحکومت کا مجموعی حلیہ تشویشناک صورت اختیار کیے ہوئے ہے شہر کابے ترتیب پھیلاؤ ‘ صفائی کی ناگفتہ بہ حالت ‘ تجاوزات اور بے ہنگم ٹریفک بھی اصلاح احوال کی متقاضی ہے لوگ میونسپل سروسز کو ترس رہے ہیں ‘کروڑوں روپے کی تعمیر شدہ عمارتیں مناسب دیکھ بھال نہ ہونے پر تباہ حال ہو چکی ہیں جبکہ ان میں مہیا خدمات کامعیار بھی اچانک چھاپے میں ہی سامنے آئے گا شہر کی منتخب قیادت کو حقائق کا سامنا کرتے ہوئے منصوبہ بندی میں مزید دیر نہیں کرنی چاہئے ورنہ لوگ مایوسی کاشکار ہو جائیں گے۔