115

یہاں میرا پردادار ہتا تھا

کبھی آپ بھی میری طرح پشاورکی گلیوں اور بازاروں میں آج سے چارعشرے قبل کے حالات کو ذہن میں دہرائیں تو پشاور ایک مختلف شہر نظر آتا ہے‘ نہایت پرسکون امن پسند‘کم آبادی والا‘ تھڑوں پر بیٹھے ہوئے گپیں لگانے والے لوگوں کا شہر‘ بہت سستا خالص خوراک والا‘ میٹھی زبان بولنے والا اور سادہ دل و مہمان نواز لوگوں کا شہر‘ جس کو کراچی اور پنجاب کے لوگ پسماندہ بھی کہتے تھے لیکن اچانک کیا ہوا کہ ایک ہمسایہ ملک اپنے جنگ زدہ حالات سے مجبور اور مایوس ہوکر ایک چھوٹے سے شہر میں اُمڈ آیا‘ اچانک گلیاں اور بازار اونچے لمبے لوگوں سے بھر گئے‘ جن کے لباس‘ چال ڈھال اور زبان بھی مختلف تھی‘ وہ مہاجر تھے لیکن دوست بن کر آئے تھے اور دوستوں کیلئے پشاور نے اپنی باہیں کھول دی تھیں اس بات سے بے پرواہ ہوکر کہ ہمارے بچے اس بے پناہ آبادی اور مختلف ثقافت رکھنے والے لوگوں سے کیسے نبرد آزما ہونگے‘شاید ان کا خیال تھا کہ ہمسایہ ملک بہت جلد امن کا گہوارہ بن جائے گا اور دوست واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا‘ پشاور کی ثقافت کہیں کھو گئی‘ پشاور کے لوگ کہیں کھو گئے‘ اپنی شناخت کو منواتے منواتے خود ہی یا تو قبروں میں چلے گئے یا پھر ان کے بچے گھروں کے ہی ہوکر رہ گئے‘ جو اشیاء روپوں اور پیسوں میں ملتی تھیں وہ ہزاروں میں چلی گئیں‘ تھڑوں پر بیٹھے ہوئے اور خوش مزاج گپیں مارنے والے پشاوری اپنے تھڑے ہی کھو بیٹھے‘ میٹھی زبان ترش ہوگئی‘ خوراک میں ملاوٹ ہوگئی اور وہ ناپید بھی ہوگئی‘ جب آبادی زیادہ ہوجائے اور تین لاکھ کے شہر میں 40-30 لاکھ لوگ آجائیں تو وہی حال ہوتا ہے ۔

جو ایک کمرے کے مکان میں دس لوگوں کے رہنے سے ہوتا ہے۔ مہمان نوازی زحمت میں بدل گئی اور پسماندہ شہر دہشت گردی کا شکار ہوگیا۔ خوف اور مایوسی کالے بادلوں کی طرح اس بہت معصوم شہر پر بسیرا کرتی گئی‘یہ سب میں نے خود دیکھاہے‘خودبھگتا ہے اور خود اس سب کی گواہ ہوں آج یہ سب کچھ مجھے شدت سے یاد آرہا ہے کیوں کہ میں ایک ایسے ملک میں بیٹھی ہوں جہاں کم و بیش پشاور والی صورتحال ہے‘ ذرا سے حالات شاید مختلف ہوسکتے ہیں‘کینیڈا میں مختلف ممالک کے لوگ اپنی بے شمار مجبوریوں کی وجہ سے اپنا ملک چھوڑ کر آن بسے ہیں اور یہ فیصلہ کینیڈا کا اپنا تھا‘ وہ اپنے بر فیلے ملک میں دنیا بھر کے امیر ترین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کیلئے اپنے بارڈرزکھول کر بیٹھ گیا وہ چاہتا تھا اسکا ملک جو غیرآباد ہے جس کی آمدنی اتنی ناکافی ہے کہ خطرہ ہے کہ ایک دن نام ونشان ہی نہ رہے گا، جسکے موسم اتنے سخت ہیں کہ سال میں ایک دو مہینے ہی برف نظر نہیں آتی‘ جسکے قدرتی وسائل اتنے زیادہ ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے بھی کینیڈا‘ امریکہ کے مقابلے میں غریب ہے‘ پھر وہ سرجوڑ کر بیٹھ گئے‘ امیگریشن کاراستہ اختیار کیاگیا‘ امارت اور ڈگریاں بنیاد بنائی گئیں‘ سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیاگیا‘ پالیسیاں تشکیل دی گئیں‘ ٹارگٹ بنائے گئے‘ لوگوں کو حفاظت ‘نوکریوں اور تعلیم کی ضمانت دی گئی‘ تمام ممالک کے لوگ امیر ترین‘ اعلیٰ ڈگریاں لئے ہوئے جوق در جوق کینیڈا میں سخت سکروٹنی کے بعد آنے لگے اورکینیڈا آبادی سے بھرتا گیا‘درخت کٹتے گئے‘ سبزہ ناپید ہوگیا‘گھر بنتے گئے‘اونچی عمارتیں بنتی گئیں‘50-40 منزلہ عمارتوں کے 2000 سے 3000 گھر لوگوں سے بھرتے رہے ‘کالا‘ براؤن‘ سفید‘ تمام لوگ آباد ہوتے گئے۔

رنگ برنگی زبانیں‘ رنگ برنگے لباس‘ ہر طرف ثقافتوں کا ہجوم بیکراں جمع ہوتا گیا‘ کینیڈا کی اپنی ثقافت کہیں کھو گئی بلکہ اب تو کینیڈا ایسے شہروں میں تقسیم ہوگیا ہے کہ یہ مسلمانوں کا شہر ہے‘ یہ سکھوں کا شہر ہے‘ یہ ہندوؤں کا شہر ہے‘ کسی مخصوص علاقے مین چین کے لوگ رہتے ہیں اور کہیں افریقن کالے اپنا شہر بسا کر بیٹھ گئے ہیں‘ کینیڈا کے اصلی شہری جیسے ہی اپنی آبادی میں کالے نیلے پیلے لوگ دیکھتے ہیں فوراً اپنے گھر اونے پونے داموں بیچ کر آگے بڑھ جاتے ہیں‘ ایسے علاقے آباد کرلیتے ہیں جو شہروں کے گرد ونواح میں موجود ہیں جہاں کی ہوا تازہ اور خوشبودار ہے‘ ان کی مارکیٹیں‘ انکا کھانا‘ ان کے کپڑے ابھی تک الگ ہیں۔ ظاہر ہے ہر انسان اپنے آباؤ واجداد کی ثقافت لے کر جیتا ہے اور آنے والے لوگ اپنے آباؤ اجداد کی میراث لے کر آئے ہیں‘ انکے شہروں میں انکے ممالک کے ساز وسامان سج گئے ہیں انکے اپنے سکول ہیں‘اپنی مارکیٹیں ہیں‘ اپنی سبزیاں ہیں‘ اپنے ہوٹل اور ریسٹورنٹ ہیں‘ بس کینیڈا کی اصل شکل کہیں کھو گئی ہے‘ آبادی کے حد سے زیادہ ہوجانے سے بارش پانی ہوا برف سب ہی خفا ہوگئے ہیں اب سال میں8 مہینے گرمی پڑتی ہے‘ بحراوقیانوس نے ٹھنڈی ہوائیں بھیجنا چھوڑ دی ہیں‘ نلکوں کا پانی اتنا مہنگا ہے کہ تین سمندر رکھنے والا ملک بھی غور و فکر میں سرگرداں ہے‘ جرائم اتنے بڑھ گئے ہیں کہ حکومت کا زیادہ فنڈ جرائم کی روک تھام میں لگ جاتا ہے‘ اب تھنک ٹینک اس بات کیلئے بیٹھتا ہے کہ اتنا اسلحہ آتا کہاں سے ہے ‘ خبریں قتل و غارت کی اتنی زیادہ ہیں کہ اخبار اور ٹی وی ریڈیو سے یہی خبریں نشر ہوتی ہیں‘چوریاں‘ ڈاکے‘ لوٹ مار زیادہ ہوگئی ہے‘ اب اندھیرے میں واک کرنے سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں کوئی مار ہی نہ ڈالے‘ جب بھی شہروں اور ملکوں میں اس کی اوقات سے زیادہ لوگ رہنے کیلئے آجاتے ہیں تو ان کا یہی حال ہوتا ہے‘ آزادی ہے۔

بے باکی ہے‘ بچوں کی آزادی کی حفاظت کرتا ہے اور تعلیم کے نام پر جو ان کی اپنی ثقافت ہے وہی پڑھاتا ہے‘جبکہ باہر سے آنے والے ثقافت زدہ لوگ اس بے باک اور مادر پدرآ زاد ثقافت کو دل سے برا سمجھتے ہیں‘ اب ان سے کوئی پوچھے کہ جب آپ جان جوکھوں سے اس ملک کی شہریت اختیار کرنے دوڑے چلے آرہے تھے اب اگر آپ کا بچہ آپ کے تھپڑ پر پولیس کال کرلیتا ہے تو پھر کیا ہوا۔ کیوں کہ یہ ثقافت تو آپ قبول کرکے آئے ہیں یا آپکی بیوی آپ کی مارنہیں کھانا چاہتی اور نہ ہی سارا دن گھر کی مشقت کے نام پر آپ کی لونڈی بن کر رہنا چاہتی ہے تو پھر اگر وہ مغربی لباس پہن کر اپنے آپ کو منوانے کیلئے کوئی نوکری کرتی ہے تو پھر کیا ہوا یہ سب تو آپ نے خود اپنے لئے منتخب کیاہے‘ آپ تو اتنی دور آگئے ہیں کہ آپ کے عزیز ترین رشتے آپ کو دیکھنے اور آپ سے بات کرنے کو ترس جاتے ہیں آپکے ماں باپ مر جائیں تو آپ انکے جنازے کو کندھا دینے بھی نہیں جاسکتے اور پھر آپ توکشتیاں جلا کر آئے ہیں اسلئے آزردہ ہونے کی ضرورت نہیں‘آپ نے اپنی زندگی دوسرے ملک کے ایندھن کیلئے جہنم بنائی لیکن اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ آپکے حصے کا آرام آپ کے بچے کھا گئے‘آپکا بڑھاپا اولڈ ہوم میں گزرے گا اور آپکے بچوں کو ایک نئی ثقافت کی پہچان مل جائیگی اور شاید آپ بڑے معصوم ہیں آپ بھول گئے ہیں کہ یہاں کے تھنک ٹینک نے بہت سوچ سمجھ کر منصوبہ بندی کی ہے ان کو کئی سال آپ کالے پیلے نیلے لوگوں کوبرداشت کرنا پڑا ہے اور پڑ رہا ہے تاکہ آپکے وجود سے ایسی نسلیں پروان چڑھیں جو انہی کی زبان بولیں ان ہی کی طرح لباس پہنیں‘ ان ہی کی سوچ کا دھارا بنیں‘ ان ہی کے مذہب اور انکی ثقافت کی امین ہوں‘اپنی جوانیاں اس ملک کو دے دینے والو‘ یہ امیگریشن تمہیں نہیں تمہاری دوسری اور تیسری نسل کو دی گئی ہے جو نقشے پر ایک نقطہ دکھائیں گے اور کہیں گے یہاں میرا پردادا رہتا تھا‘ 100 سال پہلے وہ یہاں آیا تھا نہ جانے یہاں کینیڈا میں کہاں دفن ہے۔