79

پاک چینی دوستی

چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کا دورہ ایسے وقت ہوا ہے جب نئی حکومت اپنی پالیسیاں ترتیب دے رہی ہے اور ایک دن قبل ہی امریکہ کے وزیرخارجہ اور عسکری کمانڈربھی ایک خشک سا دورہ کرکے بھارت گئے ہیں ویسے تو چین کے بارے میں ہمارے حکمرانوں سے زیادہ عوام جذباتی ہیں ایک عجیب سا رشتہ عوامی سطح پر قائم ہے جو دراصل ایک سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹونے اسوقت شروع کیا تھا جب وہ وزیر خارجہ ہوتے تھے چین کو اس وقت بھی پاکستان کی ضرورت تھی اور سچ یہ ہے کہ آج بھی پاکستان کوچین کی ضرورت ہے اور کئی مرحلے ایسے بھی آئے جب پاکستان نے امریکہ کے دباؤ کے باعث چین کو نظر انداز بھی کیا مگر چین نے کبھی بھی ہمیں نہیں چھوڑا‘ یہ بھی دلچسپ حقیقت ہے کہ عام پاکستانی امریکہ یا یورپ پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں مگر چین پر ہمیں ہر طرح کا اعتماد ہے‘ حالانکہ چین جنگ سے کنارہ کش رہ کر اقتصادی اور تجارتی میدان میں دنیا کو فتح کر رہا ہے اب اپنی تجارت کو پھیلانے کیلئے ہی پوری دنیا میں’’ ون بیلٹ‘ ون روڈ‘‘ پروگرام پر عمل کر رہا ہے سی پیک بھی دراصل اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے ‘ہماری گزشتہ حکومت کا یہ دعویٰ رہاہے کہ سی پیک اس نے بنایا اور چین کو اس میں شامل کیا‘ یہ غلط ہے چین نے خود ہی اپنی تجارت کو فروغ دینے اور مصنوعات کو سستے راستے سے دنیا تک پہنچانے کیلئے گوادر تک شاہراہ بنانے کا منصوبہ بنایا پھر اسکو توسیع دے دی اور اب پورے پاکستان میں موٹرویز اور صنعتی علاقوں کا عظیم منصوبہ بن چکا ہے بلکہ اسی منصوبے میں لاہور کی اورنج لائن میٹرو ٹرین بھی شامل ہے‘۔

یہ بھی لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ چین یہ سب منصوبے امداد کے طورپر بنا رہاہے ایسا نہیں ہے بلکہ چینی بینکوں سے عالمی شرح سود سے زیادہ نرخ پر یہ قرضے لئے گئے ہیں اور جن صنعتی زونزمیں چینی کمپنیاں کارخانے لگائیں گی وہاں ورکر بھی زیادہ ترچین کے ہی آئینگے اسکے باوجود سابق حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ سی پیک کو وہ پاکستان لے کر آئی ہے اور کوشش کرتی رہی کہ پنجاب کو زیادہ فائدہ ملے یہ تو بھلا ہو چین کا کہ تینوں چھوٹے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو چین بلا کر انکو یقین دلایا کہ ہر صوبے کو ترجیح کے مطابق روڈز اور دیگر منصوبے دےئے جائیں گے بہرحال اب ایک تو ضرورت ہے کہ سی پیک کے تحت ہونیوالی پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کے معاہدہ کو اسی طرح دوبارہ دیکھا جائے جس طرح این ایل جی معاہدے کو‘ ان میں وسیع کرپشن ہوئی ہے اور کم از کم اتنی نظرثانی ضرور کی جائے کہ چینی کمپنیوں کو یہاں کارخانوں کیلئے پاکستانی ورکر رکھنے کی شرط منوائی جائے اس سے حکومت کے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا ہدف بھی حاصل ہوگا اور چین کی اجارہ داری کا خطرہ بھی نہیں رہے گا‘ پاکستان میں پڑھے لکھے اور ہنرمند نوجوان کثیر تعداد میں ہیں جن کیلئے اب مشرق وسطیٰ میں بھی مواقع کم ہو رہے ہیں چین کیساتھ دفاعی تعاون مزید بڑھانے اور امریکہ کا متبادل بنانے کی جانب بھی توجہ دی جائے۔

اگرچہ یہ مشکل ہوگا لیکن ہمیں عالمی تنہائی سے نکلنے کیلئے یہ رشتے زیادہ وسیع کرنا ہونگے‘ 1960ء کے عشرے میں چین عالمی تنہائی کا شکار تھا اس وقت پاکستان نے اسکے ساتھ تعلقات استوار کئے بلکہ امریکہ کے ساتھ چین کا تعلق شروع کرانے والا بھی پاکستان ہے اس وقت تو سوویت یونین کے خلاف سردجنگ کی ضرورت تھی مگر اب پاکستان کو امریکی دباؤ سے نکلنے کیلئے چین اور روس کے ساتھ دفاع اور تجارت کو بڑھانا ضروری ہے چین کے اشتراک سے جنگی طیارہ جے ایف 17تھنڈر ایک شاندار پیش رفت ہے اور دفاعی خودانحصاری کی طرف مضبوط قدم بھی‘ میزائل ٹیکنالوجی میں بھی چین اورروس کیساتھ مشترکہ منصوبے شروع کرنا ضروری ہے اس وقت تقریباً10 سال بعد کوئی خارجہ پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے ماضی کی دو حکومتوں میں نہ وزیر خارجہ رہا اور نہ خارجہ پالیسی‘ اب پہلی بار ملک کے مفاد میں سوچا جارہا ہے امداد اور قرضہ مانگنے کی بجائے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور اپنے شہریوں کو اعتماد میں لیکر آگے چلنے کی سوچ ابھر رہی ہے چین کو اب احساس دلانا ہوگا کہ ہم صرف لینے والے ہی نہیں ہیں جو معاہدے ہونگے وہ دوطرفہ مفادات کیلئے ہونگے اورسی پیک کے ذریعے بھی یکطرفہ معاہدوں پر نظرثانی ہوتو زیادہ مناسب ہوگا۔