125

انصاف: بلا تاخیر کیوں نہیں؟

سائلین اور وکلاء کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے نام تحریر توجہ دلاؤ نوٹس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ عدالتوں میں مقدمات نسل در نسل منتقل ہو رہے ہیں اور اس مسئلے کا کوئی ایسا تیزرفتار حل کھوج نکالنا ہوگا تاکہ لاکھوں کی تعداد میں پڑے مقدمات نمٹائے جا سکیں۔ عدالت عالیہ پشاور سے حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد 1 لاکھ 80 ہزار 383 جبکہ ماتحت عدالتوں میں اگر پشاور ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر دیئے گئے اعدادوشمار کو قابل بھروسہ سمجھا جائے تو زیرالتوا مقدمات کی تعداد2 لاکھ سے زیادہ ہے‘ماہرین قانون کی جانب سے اس بات پر تشویش کا اظہار قابل فہم ہے کیونکہ عدالتوں کے سامنے مقدمات کے انبار لگ رہے ہیں اور نئے مقدمات کے اندراج اور پیروی کرتے ہوئے پہلے سے زیرالتوامقدمات پس پردہ چلے جاتے ہیں‘پشاور ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں جن ایک لاکھ اسی ہزار یا دو لاکھ سے زائد زیرالتوا مقدمات کی بات کی جا رہی ہے ان میں ایک بھی دہشت گردی کا نہیں اور دہشت گردی کے مقدمات الگ ہیں!اگراوسط نکالی جائے تو پشاور کی ہر عدالت میں 570 کیسز زیرالتواہیں صوبائی دارالحکومت میں دیوانی کیسز کی تعداد 15 ہزار 164جبکہ فوجداری 12 ہزار 746 کیسز کے بارے میں فیصلے باقی ہیں‘ ان مقدمات کے زیرالتوا ہونے سے صرف سائلین ہی پریشان نہیں بلکہ وکلاء کی ایک تعداد بھی فکرمند دکھائی دیتی ہے۔

جن کیلئے کسی مقدمے کی ایک پیشی اور اگلی پیشی کے درمیان دنوں نہیں بلکہ ہفتوں اور مہینوں کا فاصلہ کیس کے شواہد اور دلائل پر اثرانداز ہوتا ہے جبکہ اس دوران ججوں کے تبادلے یا انکی طبیعت ناساز اور تعطیلات ہونے کی وجہ سے مقدمات کی فائلوں پر گرد جمنا شروع ہو جاتی ہے‘ اگر ہمیں انصاف پر مبنی معاشرہ قائم کرنا ہے جہاں ہر کوئی حقوق کی ادائیگی میں پیش پیش دکھائی دے تو اس کیلئے عدالتوں کے نظام کو فعال کرنا ہوگا جہاں انصاف جوئے شیر لانے کے مترادف ہے!ہمارے پاس کیا کچھ نہیں ہے‘ عدالتوں کی پرشکوہ عمارتیں ہیں‘ ان میں ہر ممکنہ سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں لیکن اگر کسی ایک چیز کی کمی ہے تو وہ ان اداروں سے جڑی عوامی توقعات ہے کہ جو پوری نہیں ہو رہیں ججوں کی تعداد بڑھا کر اور انصاف تک رسائی جیسی حکمت عملیاں اختیار کر کے ماضی میں تیزرفتار فیصلوں کے ذریعے بوجھ اور دباؤ کم کرنے کی کوشش ہر دور میں کی جاتی رہی ہے لیکن حکومتی فیصلہ سازوں کو دیکھنا چاہئے کہ کس طرح سیاسی عوامل حکمت عملیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں‘ بنیادی طور پر مقدمات کے جلداز جلد فیصلوں کیلئے فکرمند عدالتوں کو ہونا چاہئے کیونکہ یہ خودمختار ادارے ہیں اور انکی جملہ ضرورتیں حکومت پوری کر رہی ہیں تو جس طرح ڈیم کی تعمیر جیسی ضرورت کی جانب حکومتی توجہ مرکوز ہوئی ہے تو اسی طرح اب عدالتی کاروائیوں کو تیزتر کرنے کے حوالے سے بھی غور ہونا چاہئے حالیہ چند ماہ بالخصوص گذشتہ برس پانامہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد سے پچیس جولائی کے عام انتخابات تک عدلیہ کیلئے معمول کا کام کاج جاری رکھنا ممکن نہیں رہا تو غلط نہیں ہوگا ہائی پروفائل سیاسی مقدمات کی وجہ سے جہاں سپریم کورٹ وہیں صوبائی سطح پر بھی عدالتوں کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے اور اگرچہ عدالتوں نے اِس دوران انواع و اقسام کے دیرینہ مسائل حل کئے ہیں جیسا کہ نجی میڈیکل کالجز کی فیسیں مقرر کرنا اور غیرمعیاری کالجز کا خاتمہ شامل ہیں۔

لیکن عدالتوں کا بنیادی کام اپنی جگہ منتظر دکھائی دیتا ہے‘جس سے متاثرہ پریشان حال عام آدمی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کس سے رجوع کرے! یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے ایک خصوصی پروگرام کے تحت مقدمات کے فوری فیصلے کے لئے طریقہ کار وضع کیا جسکا تجربہ رواں مالی سال میں ہوا اور اس میں ہر جج کیلئے لازم قرار دیا گیا کہ وہ ایک ماہ میں کم سے کم 75 مقدمات نمٹائے‘اس سلسلے میں ججوں کی کارکردگی جانچنے کے لئے ایک پیمانہ بھی تشکیل دیا گیا‘ اسی طرح موبائل عدالتیں قائم کی گئیں تاکہ لوگوں کو ان کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے ‘ ٹیکنالوجی کے استعمال سے بھی مقدمات کے فیصلوں میں سالوں کی بجائے ہفتے لگ سکتے ہیں لیکن چونکہ حکومت کا تمام تر ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نہیں اسلئے بسا اوقات کسی ایک کاغذ کی کسی دفتر سے تصدیق کروانے میں ہفتے لگ جاتے ہیں‘ اگر عدالتوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تو فطری امر ہوگا کہ یومیہ زیادہ مقدمات کی سماعت ممکن ہوگی‘ ایک اہم پیشرفت یہ فیصلہ بھی ہے کہ ججوں کی محکمانہ ترقیوں کو زیرالتوأ مقدمات کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے اور وہ جج نسبتاً زیادہ جلدی ترقی پائیں گے‘ جن کے مقدمات نمٹانے کا شرح بہتر ہوگی‘ بڑھتی ہوئی آبادی کے مطابق ججوں کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہے‘اعلیٰ تعلیم کا معیار بلند کئے بناء جاری مسئلے کا حل ممکن نہیں‘پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہزاروں کی تعداد میں امتحان پاس کرنیوالوں کی شرح بھی غیرمعمولی طور پر کم ہے جسکی وجہ سے خاطرخواہ تعداد میں جج نہیں مل پا رہے۔