418

بجلی چوری کے خلاف اعلان جنگ

قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بجلی بلوں کے نادہندگان سے تین ماہ کے اندر واجبات کی وصولی یقینی بنانے اور بجلی چوروں کیخلاف فیصلہ کن کاروائی کرنے کا حکم دیاہے ‘اس میں کوئی شک نہیں کہ بجلی کی چوری اور واجبات کی عدم ادائیگی کے رجحان نے نہ صرف بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو شدیدمالی بحران سے دو چار کر رکھا ہے بلکہ یہ رجحان لائن لاسز والے فیڈرز پر بجلی کی اضافی و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا بھی اہم سبب ہے ‘حال ہی میں اپنی آئینی مدت پوری کرنیوالی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی پالیسی رہی کہ کم لائن لاسز والے فیڈرزپر لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم اور زیادہ لائن لاسز والے فیڈرز پر اسی تناسب سے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ زیادہ رکھا جائے اس پالیسی کی وجہ سے پچھلے پانچ سال کے دوران متعدد فیڈرز پر بتدریج لوڈ شیڈنگ یا تو ختم ہو چکی یا نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے جبکہ بہت سے فیڈرز ایسے ہیں جہاں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جاتی رہی اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے‘ پچھلی حکومت کی اس پالیسی نے واپڈا نادہندگان اور باقاعدگی سے بل ادا کرنیوالے صارفین کے درمیان واضح لکیر کھینچی‘ اسی لئے اس پالیسی کو خوش آئند قرار دیا گیا‘بات یہ بھی درست ہے کہ جن علاقوں میں لائن لاسز زیادہ ہیں یا کنڈہ کلچر عام ہے وہاں بھی سوفیصد آبادی بجلی چور نہیں‘ یعنی ان علاقوں میں بھی ایسے صارفین موجودہیں جو بجلی کابل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں لیکن چونکہ لوڈشیڈنگ گھرانوں کے حساب سے نہیں بلکہ فیڈرز کے حساب سے ہوتی ہے اسلئے متعلقہ فیڈرز پرہونے والی لوڈشیڈنگ کا خمیازہ بجلی چوری کرنیوالوں اور بل ادا کرنیوالوں کو یکساں طور پر بھگتنا پڑتا ہے۔

‘ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے اس مسئلے پر کافی سوچ بچار کی ہے کہ بجلی چوروں کے بیچوں بیچ رہنے والے ان صارفین کو جوبجلی کے بل ادا کرتے ہیں خصوصی ریلیف کیسے دیا جاسکتا ہے ‘اس حوالے سے کچھ منصوبوں کا جائزہ بھی لیا گیا ہے لیکن ان پر عمل درآمد اس قدر مہنگا ہے کہ ان کیلئے فنڈز کی فراہمی ممکن نہیں لہٰذا کسی ایسے منصو بے پر عملدرآمد نہیں ہو سکا جسکے تحت لائن لاسز والے علاقوں میں موجود مذکورہ صارفین کو خصوصی رعایت دی جا سکے اب یا تومفت کی بجلی استعمال کرنیکی عادت کا شکار افراد اپنے ان اہل علاقہ کو جواس علت کا شکار نہیں مشعل راہ بناتے ہوئے از خود اصلاح کر لیں یا پھر وہ لوگ جو بجلی کا استعمال اور واجبات کی ادائیگی قومی ذمہ داری اور حق حلال کے نظریئے کے تحت کرتے ہیں اس قدر سماجی دباؤ عمل میں لائیں جو انکے بجلی چور اہلیان علاقہ کو روش تبدیل کرنے پر مجبور کر دے توبات بن سکتی ہے‘جہاں تک اصلاح احوال کی حکومتی کوششوں کا تعلق ہے یہ کوششیں پچھلے کئی سالوں سے جاری ہیں کہ کسی طرح ناجائز طریقے سے بجلی کے استعمال کی عادت کا شکار صارفین کوراہ راست پر لایا جائے ‘ایسے متعدد علاقوں میں متعلقہ عوامی نمائندوں اور تقسیم کار کمپنیوں کے افسران کے مابین مذاکرات کے نتیجے میں اصلاح احوال کیلئے طریقہ کار بھی طے ہواجسکے تحت علاقے کے صارفین کے ذمہ بجلی کے سابقہ واجبات کی اقساط میں ادائیگی اور آئندہ کیلئے میٹرز کے ذریعے بجلی کے استعمال اور بلوں کی بروقت ادائیگی جیسے معاملات پر عملدرآمد بھی شروع ہوا‘۔

کہیں کہیں کسی حد تک صورتحال میں بہتری بھی ہوئی لیکن کئی مقامات پر عملدرآمد پہلے سست روی کا شکار رہا‘ بعد ازاں اس سے پسپائی اختیار کر لی گئی اور مسئلہ پھر سے وہیں آرہا جہاں طریقہ کار کے تعین سے پہلے تھا۔لگتا یہی ہے کہ سالہا سال تک کنڈہ کلچرسے استفادہ کرنے اور بجلی بلوں کی ادائیگی سے لا تعلق رہنے والے کچھ اس طرح اس مخصوص طرز عمل کے اسیر ہو چکے ہیں کہ انکا اسکے اثرات سے باہر نکلنامشکل ہے صورتحال بہرحال اس امر کی متقاضی ہے کہ بجلی بلوں کی عدم ادائیگی اور بجلی چوری جیسے مسائل کے خاتمے کیلئے فیصلہ کن قدم اٹھایا جائے لہٰذا اقتصادی رابطہ کمیٹی کا فیصلہ درست ہے ‘دیکھنا یہ ہے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کیسے ممکن ہوتا ہے‘جہاں تک خیبر پختونخوا کا تعلق ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ پی ٹی آئی کی گزشتہ صوبائی حکومت واپڈا نا دہندگان سے نمٹنے کیلئے( ن) لیگ کی حکومت کی پالیسی کے تحت خیبر پختونخوا میں کی جانیوالی لوڈ شیڈنگ کو مسلسل تنقید کا نشانہ بناتی رہی اور نادہندگان کیخلاف قانونی کاروائی میں پیسکو کیساتھ تعاون میں سست روی کا مظاہرہ کرتی رہی یوں بجلی چوروں اور واپڈا نادہندگان کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا نہ جا سکا ‘ اب جبکہ وفاق اور خیبر پختونخوا دونوں جگہ پی ٹی آئی برسر اقتدار ہے اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مذکورہ فیصلے کو وفاقی حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے صوبائی حکومت خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتی اور اسے تین ماہ کے اندر مطلوبہ اہداف تک پہنچنے میں پیسکو کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا ہو گا۔