141

گورنر ہاؤسز اور عوام

دور غلامی کی یادگاروں میں اور بہت سی نشانیوں میں سے ایک وہ رہائش گاہیں ہیں جو انگریز سرکا ر نے اپنے گورنروں اور افسروں کے لئے بنائی تھیں۔ کسی بھی ضلع کا بڑا افسر ڈپٹی کمشنر ہوتا ہے چونکہ یہ افسر عموماً انگریز ہوتے تھے اسلئے ان کو عوام سے الگ رکھنے کیلئے ان کی رہائش گاہیں ایسی بنائی گئی تھیں کہ جن تک عام آدمی کی رسائی ممکن نہیں تھی ان رہائش گاہوں کیلئے کافی بڑے رقبے کو استعمال کیا گیا تھا جس میں رہائش گاہ کے علاوہ بڑے بڑے لانز او ر دیگر سہولیات میسر کی گئی تھیں‘ان رہائش گاہوں تک عام آدمی کی رسائی ممکن نہیں تھی ڈپٹی کمشنر صرف اپنی عدالت میں ہی عام آدمیوں کو نظر آتے تھے‘اسی طرح ضلع کے بڑے پولیس افسر کیلئے بھی اسی قسم کی ایکڑوں پر پھیلی رہائش گاہیں مہیاکی گئی تھیں‘ عام طور پر ڈی سی کی رہائش گاہ میں ہی اسکی عدالت کے لئے بھی جگہ مہیا کی گئی تھی‘یہ اسلئے کہ آقا اورغلام میں واضح فرق نظر آئے‘ اسی طرح صوبوں کے گورنروں کیلئے بھی ایسی ہی بڑی رہائش گاہیں تھیں‘جن میں انکے رہن سہن کے کمروں کے علاوہ بھی بہت سی سہولیات کیلئے جگہ مختص تھی ‘اس طرح یہ رہائش گاہیں بھی ایکڑوں پر محیط تھیں‘ پاکستان بننے کے بعد بھی یہ رہائش گاہیں اسی طرح قائم رہیں اور اعلیٰ افسروں کی ٹریننگ میں یہ بات شامل تھی کہ وہ عام پبلک سے خود کو دور ہی رکھیں‘ انکی تفریح طبع کے لئے بھی جومقامات رکھے گئے ان تک بھی عام پبلک کی رسائی ممکن نہیں تھی۔

جہاں یہ افسراپنی شامیں بتاتے یعنی آفیسر کلب یہاں بھی عام پبلک کی رسائی ممکن نہیں تھی‘ عام لوگ ان بنگلوں اور کلبوں کے باہر سے تو گزر سکتے تھے مگر ان کے اندر تک جھانکنے تک کی بھی رسائی ان کیلئے حرام تھی‘نئی حکومت کے آنے کے بعد ان بنگلوں اور رہائش گاہوں تک عوام کی رسائی کو ممکن بنانے کی کوشش کی گئی ہے اور وزیر اعظم ‘گورنروں اور وزرائے اعلیٰ نے ان رہائش گاہوں کو استعمال نہ کرنے کی ٹھانی ہے اور ان رہائش گاہوں کو عام عوام کیلئے کھولنے کا عندیہ دیا ہے‘ اس کیلئے عملی قدم سندھ کے گورنر نے اٹھا یا ہے اور سندھ کے گورنر ہاؤس کو عام لوگوں کے لئے کھول دیا ہے‘ جس میں لوگ دن میں دو دفعہ اس محل کی سیر کو آ سکتے ہیں اس کے بعدمری میں گورنر ہاؤس کو بھی عام پبلک کیلئے کھول دیا گیا ہے اور لوگ اپنے حاکموں کی رہائش گاہوں اور اس میں حاصل سہولیات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ پائیں گے یعنی اب محمود و ایاز ایک ہو گئے ہیں اور حاکم اور محکوم کا فرق مٹ گیا ہے‘ اسکا کیا فائدہ ہو گا اس کیلئے تو ابھی معلوم نہیں ہوپایا مگر یہ ہوا کہ حاکموں کا وہ رعب ختم ہو جائیگا جو عوام کے دلوں میں ہے‘ ہمارے سی ایس ایس افسروں کو اسی لئے عوام سے نہ ملنے اور ان سے فاصلہ رکھنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے کہ ان کا رعب عوام پر پڑا رہے اور عوام اس ڈر سے کوئی غلط اقدام نہ اٹھائیں8 ‘ہم نے اپنے بچپن میں دیکھا ہے کہ اگر پولیس کا کوئی سپاہی بھی گاؤں میں آجاتا تھا تونوجوان گاؤں سے کھسک جایا کرتے تھے۔

‘پولیس کا گاؤں میں آنا ہی خطرے کی گھنٹی بجا دیتا تھا اور لوگ ان کے راستے سے ادھر ادھر ہو جاتے تھے۔ صرف گاؤں کا نمبر دار ان کے استقبال کو موجود ہوتا تھا اور اگر وہ کسی شخص کے بارے میں پوچھ گچھ کرتے تھے تو نمبر دار عموماً ان کو ٹال دیتا تھا جب تک کہ معاملہ زیادہ سنجیدہ نوعیت کا نہ ہوتا‘ اگر معاملہ سنجیدہ ہوتا تو نمبر دار خود مطلوبہ آدمی کو لیکر تھانے میں حاضر ہونے کا کہہ کے پولیس کو رخصت کر دیتاتھا کہنے کا مطلب یہ کہ آفیسروں کے عام پبلک سے دور رہنے کا اثر یہ ہوتا تھا کہ ان کا رعب عام آدمی پر رہتا تھا او ر یوں مختلف جرائم کا ارتکاب بہت کم ہوتا تھا‘جب سے پولیس اورعوام کے درمیان فاصلہ ختم ہوا ہے تو جرائم کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے کراچی ہی کی مثال لے لیں جب سے پولیس کی جگہ رینجرز نے لی ہے پولیس کا رعب سرے سے ہی ختم ہو گیا ہے۔ تو اب کراچی میں جرائم گلی گلی میں پھیل گئے ہیں۔ کسی بھی شخص کو پولیس کا کوئی ڈر نہیں ہے کہ وہ اس کے جرم پر اسے پکڑلے گی۔ اسی لئے دن دیہاڑے لوگ محلوں اور بازاروں میں لٹ رہے ہیں۔اب جو گورنروں‘ وزرائے اعلیٰ ‘وزیراعظم اور ضلعی افسروں کو بے گھر کیاجا رہا ہے تو اس بات کا ڈر ہے کہ اسکا اثر عوام پر منفی پڑیگا او رجو ایک ان عہدوں کا قدرتی ڈر ہے وہ عوام کے دلوں سے نکل جائے گا اور اس کے بعد پورا پاکستان کراچی بن جائے گا۔