178

میڈاِن پاکستان

اقتصادی بحران سے نکلنے کی واحد صورت یہی ہے کہ اس تمام سامان تعیش و آرائش سے ہاتھ کھینچ لیا جائے جو درآمد کی جاتی ہیں اور اس عمل پر قیمتی زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے اور یہی وہ حل ہے جو اقتصادی ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے آگے ہاتھ پھیلانے سے اچھا ہے کہ پاکستان اپنی درآمدت میں کمی لائے جس کیلئے حکومت کو عوام کا تعاون درکا ہے‘ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ کے حصول سے بچنے کے لئے پرآسائش موٹرگاڑیاں‘ موبائل فونز اور ایسے دیگر الیکٹرانک آلات کی درآمدات پر پابندی بھی حکومت کے زیرغور ہے‘ جن کے متبادل پاکستان میں تیار ہوتے ہیں اور باآسانی دستیاب ہیں‘ اب رہی بات میڈ ان پاکستان اشیاء کے معیار کی تو اس سلسلے میں ضمنی تجویزیہی ہے کہ صنعتوں کو مراعات دیکر پاکستان میں تیار ہونے والی اشیاء کا معیار بہتر بنایا جا سکتا ہے۔تحریک انصاف حکومت میں اقتصادی مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس نتیجہ خیز نہیں تھا‘ جس میں کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوسکا تاہم نئی قائم کردہ کونسل نے ملک کے بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کو روکنے کے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور آئی ایم ایف سے مزید قرض نہ لینے کے حکومتی عزم کا اظہار کیا۔

وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت اس اجلاس میں یہ بات بھی زیر غور رہی کہ برآمدات کی کمی اور درآمدات میں ہوشربا اضافے سے پاکستانی معیشت میں ڈالر کی کمی ہے‘ جسکی وجہ سے روپے پر دباؤ ہے اور غیر ملکی زرمبادلہ کم ہو رہا ہے‘ واضح رہے کہ اکثر مالیاتی ماہرین کو یہ توقع ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پاس اپنے بیل آؤٹ کیلئے جائے گا‘ جو 1980ء سے لیکر اب تک کا پندرہواں بیل آؤٹ ہوگا‘یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم عمران خان آئی ایم ایف پر انحصار پر تنقید کر چکے ہیں اور تحریک انصاف کے دیگر سرکردہ رہنما بھی ان خدشات ظاہر کرچکے ہیں کہ آئی ایم ایف کی شرائط حکومتی وعدوں کو متاثر کرسکتی ہیں‘ کونسل کے پہلے اجلاس میں غیر روایتی تجاویز میں یہ بات شامل تھی کہ اقتصادی مسائل سے نکلنے کی ایک صورت یہ ہے کہ درآمدات کم کی جائیں‘کونسل کے پہلے اجلاس کی خاص بات یہی سامنے آئی ہے کہ کسی بھی رکن نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی تجویز پیش نہیں کی اور نہ اس بارے میں کوئی دلیل دی گئی‘سردست سیاسی و اقتصادی فیصلہ ساز چاہتے ہیں کہ اپنی صلاحیتوں اور تجربے سے پاکستان کو اس بحران سے نکالیں جو سروں پر منڈلا رہا ہے۔ کونسل کے پہلے اجلاس پر وفاقی وزیرخزانہ کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا تاہم حال ہی میں سینٹ سے خطاب کرتے ہوئے وہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کو مالیاتی ضروریات کے لئے مجموعی طور پر 9 ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور آئی ایم ایف کے پاس جانا آخری آپشن ہوگا کونسل اجلاس میں بنیادی اقدامات جیسا کہ غیر ملکی اشیاء‘ گاڑیاں‘ موبائل فونز اور پھلوں پر ایک سال عرصے کی پابندی لگانے سے متعلق تبادلہ خیال ہوا اور بتایا گیا کہ درآمدات پر پابندی سے پاکستان 5ارب ڈالر تک بچاسکتا ہے اور گنجائش موجود ہے کہ برآمدات میں دو ارب ڈالر تک اضافہ کیا جا سکے۔

حیرت کا مقام ہے کہ پاکستان اقتصادی مشکلات میں گھرا ہوا ہے لیکن ملک کا کوئی ایک بھی بڑا شہر ایسا نہیں جہاں باڑہ مارکیٹیں نہ ہوں۔ یہ مارکیٹیں غیرملکی ساختہ الیکٹرانکس کی اشیاء ہی نہیں بلکہ کھانے پینے کی اشیاء سے بھی بھری پڑی ہیں اور یہ بات فیشن بن چکی ہے کہ بیرون ملک تیار ہونیوالے پھلوں کے مشروبات استعمال کئے جاتے ہیں اور ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو مقامی مارکیٹ کی بجائے درآمد شدہ پھل استعمال کرنے کو ترجیح دیتا ہے‘ آخر یہ کون لوگ ہیں جو حسب آمدن ٹیکس تو ادا نہیں کرتے لین انکا رہن سہن غیرملکیوں سے بھی زیادہ پرتعیش ہے‘اگر اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانا ہے تو ہر خاص و عام کو شعوری طور پر خودانحصاری کے بارے میں سوچنا ہوگا اور اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کتنا محب وطن ہے اور پاکستان کے بارے میں کس قسم کی سوچ کا مالک ہے‘یہ بات کسی بھی طرح ہمارے حق میں نہیں کہ ہماری مارکیٹیں درآمدی اشیاء سے بھری ہوئی ہوں لیکن قومی خزانہ خالی رہے! قرض لیکر ملک چلانے اور نمودونمائش کی زندگی اختیار کرنے سے بہتر ہے کہ مستقبل کے بارے میں سوچا جائے‘اس سلسلے میں حکومت کو توجہ الیکٹرانک ذرائع ابلاغ بالخصوص ٹیلی ویژن ڈراموں اور فلموں پر بھی توجہ دینی ہوگی‘ جن کے ذریعے ایسے رہن سہن کو پیش کیا جاتا ہے جو پرتعیش اور درآمدی ہو۔ حکومت نے گزشتہ مالی سال کے دوران الیکٹرانکس اشیاء‘ زیادہ ہارس پاورکی گاڑیوں سمیت240 درآمدی اشیاء پر پچاس فیصد تک اخراجات بڑھا دیئے تھے اور درجنوں نئی درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹیزعائد کی تھیں لیکن کوئی درآمدی پابندیاں نہیں لگائی گئی تھیں‘ اب اگر ممکنہ طور پر یہ پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو امید ہے کہ عوام و خواص اس کا خیرمقدم کریں گے۔