220

سی پیک‘ کڑی نگرانی کی ضرورت

وزیراعظم کے مشیربرائے صنعت وتجارت عبدالرزاق داؤد نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے متعلق برطانوی اخبار کی رپورٹ مسترد کردی ہے‘ برطانوی اخبار کو دیئے جانے والے اپنے انٹرویو سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ اس کو توڑ مروڑ کر پیش کیاگیا‘ دریں اثناء چینی سفارت خانے کی جانب سے بھی برطانوی اخبار کے مضمون کو من گھڑت قرار دیا گیا ہے‘ چین کا کہنا ہے کہ سی پیک کی رفتار بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے اور یہ کہ منصوبے پر مشاورت پاکستانی ترجیحات کے مطابق ہوگی‘ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت چین کیساتھ ہونیوالے سی پیک معاہدے پر نظر ثانی کیلئے غور کررہی ہے‘ برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے مشیر عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ سابق حکومت نے سی پیک پر چین کیساتھ بات چیت میں اپنی ذمہ داری بخوبی نہیں نبھائی اور یہ کہ بغیر کسی تیاری کے ہونیوالے مذاکرات سے چین کو بہت زیادہ فائدہ پہنچا‘ چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ منصوبے کے مستقبل اور تعاون کا تعین مشاورت سے ہوگا جس میں پاکستان کی معاشی اور سماجی ترجیحات مدنظر رہیں گی‘ ۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ کسی بھی ملک کیساتھ کوئی معاہدہ یا منصوبہ شروع کرنے میں اپنے وطن کے حالات اور ان کے تناظر میں قومی مفادات کا تحفظ حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے اورا س ذمہ داری کو سنبھالنے میں ہر طرح کے فیصلے کرنا ہوتے ہیں‘ سی پیک سمیت کسی بھی معاہدے میں پاکستان کے مفادات کیلئے بھی حکومت کوئی بھی فیصلہ کرسکتی ہے‘ جہاں تک پراجیکٹ سے متعلق بے بنیاد رپورٹس کی بات ہے تواس میں یہ بات مدنظر رکھنا ہوگی کہ سی پیک پر متعدد ملکوں میں پریشانی پائی جاتی ہے اور پاکستان کی معیشت کے استحکام میں معاون اس منصوبے پر تحفظات اور خدشات آتے رہے ہیں‘ مخالفین اس پراجیکٹ سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈہ کرتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی کریں گے‘ اس وقت ضرورت اس پراجیکٹ سے جڑے تمام امور کی کڑی نگرانی کی ہے‘ خیبرپختونخوا کے اس حوالے سے کچھ معاملات ابھی تک طے ہونا ہیں‘ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ مرکز اور صوبوں کی سطح پرا س پراجیکٹ سے متعلق تمام امور بروقت یکسو کرنے کیلئے کڑی نگرانی کا انتظام کیاجائے جس کی مانیٹرنگ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ سیکرٹریٹس میں ہو۔

گیس نرخ اور گرانی

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فوری طورپر گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس ضمن میں اب حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے‘ ایک لاکھ ٹن یوریا درآمد کرنے کا اعلان بھی کیاگیا ہے جبکہ 50لاکھ گھر بنانے سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی گئی ہے‘ بجلی‘ گیس اور پٹرولیم کی دیگر مصنوعات کے نرخوں میں معمولی اضافہ مارکیٹ میں جاری کمرتوڑ مہنگائی کا گراف مزید بڑھا دیتاہے جس کی روک تھام کیلئے ہمارے ہاں مناسب انتظامات کو کسی صورت فول پروف قرار نہیں دیاجاسکتا‘ حکومت کو چاہئے کہ گیس نرخ نہ بڑھانے کے اچھے اور بڑے فیصلے کو ثمر آور بنانے کیلئے مارکیٹ کنٹرول یقینی بنائے تاکہ لوگوں کو ریلیف ملے‘ اس کیساتھ گیس کنکشن سے لیکر سروسز تک کے مراحل کو بھی بہتر اورآسان بنایاجائے۔