109

عوامی توقعات

اپوزیشن کا یہ بھی کام ہے اور حکومت کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ دونوں اب اپنے اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں یہ جملہ ہمیں اس لئے لکھنا پڑا کسی منچلے نے کیا عمدہ بات کہہ ڈالی ہے کہ پنجاب کے وزیر اطلاعات دوسرا عابد علی شیر بننے کی کوشش نہ کریں بہت ہو چکی دشنام طرازی اور کردار کشی سیاست دانوں نے ایک دوسرے کے خوب لتے لئے ہیں اور اب بھی لے رہے ہیں ان کے سینے کی آگ ابھی ٹھنڈی نہیں پڑی اس ملک کا عام آدمی یہ توقع کرتا ہے کہ اس کے رہنما ملک کے مسائل پر بولیں اورایک دوسرے کی کردار کشی سے اب باز آ جائیں حکومت کہ وہ فوراً سے پیشتر پارلیمنٹ کے دونوں ہاؤسز یعنی قومی اسمبلی اور سینٹ اور اس طرح چاروں صوبوں اسمبلیوں کی لائیو کوریج کیلئے ایک خصوصی ٹیلی ویژن چینل کھول دے تاکہ اس ملک کے ٹیکس دہندگان کو یہ پتہ چلتا رہے کہ کو ن کون سا رکن اسمبلی پارلیمنٹ کے اجلاسوں کی کارو ائی میں دلچسپی لیتا ہے اور وہ وہاں کوئی مدبرانہ بات بھی کرتا ہے یا صرف انٹ شنٹ مارتا ہے اور اوٹ پٹانگ باتوں میں وقت گزارتا ہے اس سے ملک کے عام آدمی کو یہ بھی پتہ چلتا رہے گا ۔

کہ کونسی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما عوام دوست قانون سازی میں کتنی دلچسپی رکھتا ہے اور کون صرف گونگا پہلوان ہے جو صرف اپنے مالی الاؤنس کھرے کرنے کیلئے پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت کرتا ہے ہم تو بلکہ یہ بھی تجویز کرینگے کہ ٹیلی ویژن کے کیمرے کو پارلیمنٹ کی سلیکٹ کمیٹیوں کے اجلاس کو بھی لائیوکور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو یہ بھی پتہ چلتا رہے کہ عوام دوست قانون سازی کی نوک پلک سنوارنے میں کتنے سنجیدہ ہیں ٹیلی ویژن کیمرے کی موجودگی کے خوف سے ہر رکن اسمبلی اور وزراء مجبور ہو جائینگے کہ وہ ہر سیشن میں باقاعدگی سے شرکت کریں اور اس سے اسمبلیوں کے سپیکروں کا کورم پورا نہ ہونے کا مسئلہ بھی حل ہو جائیگا نیزاس سے اراکین گرمیوں میں ائیر کنڈیشنڈ ٹھنڈے ٹھار پارلیمنٹ کے ہال میں اونگھنے سے بھی اجتناب کریں گے کہ مباوا کیمرے کی آنکھ ان کو کہیں اونگھتا ہوا دکھا دے انسان تجربے سے سیکھتا ہے اور بقول کسے وقت کے ساتھ کندن بن جاتا ہے لیکن دکھ کی بات ہے کہ ہمارے کئی سینئر پارلیمنٹیرین کئی برسوں سے پارلیمنٹ کے رکن رہے لیکن ان کی سیاسی صحت پر اب تک کوئی اثر نہیں پڑا اب ہی سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ پارلیمنٹ کو سکون سے چلنا نہیں دیا جائے گا اگر ایسا ہوگا۔

تو یہ دنیا میں یہ ہمارے لئے جگ ہنسائی کا باعث ہو گا‘ آج کل توخیر پارلیمنٹ کی کرسیاں زمین کیساتھ نصب ہیں جس زمانے میں وہ نصب نہ ہوتی تھیں اس دور میں تو کرسیاں بھی چل جاتی تھیں اور اراکین اسمبلی کے سر بھی پھٹ جاتے تھے برداشت اور حوصلے کے بغیر پارلیمانی جمہوریت چل ہی نہیں سکتی ایک زمانے میں باچا خان نے اپنے فرزند غنی خان کوانگلستان اسلئے بھی بھجوایا تھا کہ وہ روزانہ ہاؤس آف کامنز کی وزیٹرز گیلری میں دو تین گھنٹے بیٹھا کریں اور بغور مشاہدہ کریں کہ وہ لوگ کس خوب صورت تہذیب یافتہ انداز میں اپنی پارلیمنٹ چلاتے ہیں ہم نے پارلیمانی نظام جمہوریت تو اپنا لیا لیکن اس کو موثر طریقے سے چلنے کیلئے جو لوازمات اور ضروریات ہوتی ہیں ان کو سرے سے ہی نظرانداز کر دیا اور یہی وجہ ہے کہ اگر جہاں ہمارے دوسرے ریاستی اداروں کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی ہے ہماری پارلیمنٹ نے بھی عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔