432

پانچ ہزار روپے!

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ’’پانچ ہزار روپے‘‘ کے کرنسی نوٹ بند کئے جانے سے متعلق افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے ہر خاص و عام کو مطلع کیا ہے کہ (26مئی 2006ء کو جاری کیا گیا) ’’پانچ ہزار روپے کا نوٹ ختم نہیں کیا جا رہا اور عوام ایسی کسی افواہ پر کان نہ دھریں‘ جن کا مقصد مبالغہ آرائی اور تشویش پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ یاد رہے کہ ہمسایہ ملک بھارت میں پہلے ہی مالی بدعنوانیاں کم کرنے کے لئے ’پانچ ہزار روپے‘ مالیت کا کرنسی نوٹ ختم کیا جا چکا ہے اور پاکستان میں ماہرین اقتصادیات تجویز کر چکے ہیں کہ ’پانچ ہزار روپے‘ کا نوٹ ختم کرنے کے علاوہ پاکستانی کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن بھی تبدیل ہونے چاہئیں کیونکہ کاغذ پر شائع ہونے والے اِن نوٹوں کی نقل عام ہے۔ مغربی ممالک کی طرح پلاسٹک پر کرنسی نوٹ شائع کرنے سے نہ صرف اُن کی قابل استعمال عمر زیادہ ہوتی ہے بلکہ اُن کی نقل تیار کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔ پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ۔۔۔ 1: ’بورڈ آف ڈائریکٹرز‘ نے وفاقی حکومت سے ’پانچ ہزار روپے‘ یا اِس سے کم مالیت کے کسی بھی ’کرنسی نوٹ‘ کو ختم کرنے سے متعلق سفارش نہیں کی۔ 2: ’بینک کے قانون 1956ء‘ کے سیکشن 25 کے مطابق وفاقی حکومت‘ سٹیٹ بینک کے بورڈ کی سفارشات کے بعد ہی کسی بھی مالیت کے ’بینک نوٹس‘ کو ختم کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ کر سکتی ہے یعنی حکومت کرنسی نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ خود نہیں کر سکتی بلکہ اِس کے لئے سٹیٹ بینک کی جانب سے سفارش ضروری ہے۔

3: سٹیٹ بینک نے یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی کرنسی نوٹ کو ختم کئے جانے سے قبل مرکزی بینک عوام کو پیشگی طور پر آگاہ کرے گا اور عوام کو کرنسی نوٹوں کے تبادلے کے لئے مناسب وقت فراہم کیا جائے گا 4: اگر مستقبل میں کسی کرنسی نوٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو سٹیٹ بینک اِس فیصلے کو اپنی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے اعلان کرنے کا پابند ہے‘پانچ ہزار کا نوٹ تبدیل ہو رہا ہے یا اِسے ختم کیا جا رہا ہے تو یہ فیصلہ یا اقدام پاکستان کے کتنے لوگوں کا مسئلہ ہے اور ایسے پاکستانیوں کی تعداد کیا ہوگی جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی ’5000 روپے‘ کے کرنسی نوٹ کی ملکیت رکھی ہو یا کم سے کم اِس مالیت کا نوٹ دیکھا ہو؟ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ’یو این ڈی پی(UNDP)‘ کے مطابق 39 فیصد پاکستانی کسی نہ کسی قسم کی غربت کا شکار ہیں جبکہ سب سے زیادہ غربت قبائلی علاقوں اور صوبہ بلوچستان میں پائی جاتی ہے لیکن پاکستان کے حکمران اقوام متحدہ کے اِن اعدادوشمار سے اتفاق نہیں کرتے اور غربت کے بارے میں حکومتی مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کی صرف 17.2 فیصد آبادی ’’غریب (خط غربت سے نیچے) ہے۔

‘ ایک ایسا ملک جس کی اقتصادی حیثیت کا یہ عالم ہو کہ اُسے قرض لے کر قرضوں کی اقساط حتی کہ سود ادا کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہو اُور جس ملک کے قرضوں کا حجم اُس کی سالانہ مجموعی قومی خام آمدنی (جی ڈی پی) کے پچاس فیصد سے تجاوز کر چکا ہو تو ایسے ملک میں ’5 ہزار‘ کا کرنسی نوٹ عام آدمی کی قوت خرید یا آمدنی کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ اِس کے ذریعے سرمایہ داروں کا وہ بڑا گروہ فائدہ اٹھا رہا ہے جس کے لئے بڑی مالیت کے نوٹوں کی ضرورت اِس وجہ سے ہے تاکہ وہ کم سے کم جگہ پر زیادہ سے زیادہ سرمایہ ’’ذخیرہ‘‘ کر سکیں ‘تحریک انصاف حکومت سے درخواست ہے کہ وہ بڑی مالیت کے کرنسی نوٹ (پانچ ہزار روپے) کو ختم کر دے تو اِس سے کسی عام آدمی (ہم عوام) کی نہیں بلکہ صرف سرمایہ داروں کی چیخیں نکلیں گی‘پاکستان کی معیشت اور معاشرت کو سمجھا جائے اور اِس کے مطابق فیصلے کئے جائیں۔ وقت اِس بات کا بھی ہے کہ رشوت و بدعنوانی کا سدباب کرنے کیلئے ’’زبانی کلامی خواہشات‘‘ کا اظہار کرنیوالے عملی اقدامات پر توجہ دی جائے اور بڑی مالیت کے کرنسی نوٹ اِس وجہ سے ختم کر دیئے جائیں کیونکہ اِن کے ذریعے غیرقانونی لین دین نسبتاً آسان ہوتی ہے۔